’’جو بچھڑ گئے‘‘/ زاہدہ حنا


zahida hina
  • 6
    Shares

یونانی دیومالا میں موت کو رات کی بیٹی اور نیند کی بہن کہا گیا ہے۔ عرفان صدیقی کی کتاب ’’جو بچھڑ گئے‘‘ میں ان ہی لوگوں کا ذکر ہے، جنھیں رات کی بیٹی اور نیند کی بہن نے شکار کیا۔ وہ جو سوگئے انھیں عرفان صدیقی نے کس شدت اور محبت سے یاد کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ ہیں جو عرفِ عام میں دائیں بازو والے کہے جاتے ہیں اور چند ایسے بھی ہیں جو ان کے قبیلے کے نہیں تھے لیکن جن کا غم انھوں نے خوب خوب منایا۔ ایسا ہی ایک کردار بے نظیر بھٹو تھیں۔ بے نظیربھٹو نے سیاسی اختلاف رکھنے کے باوجود عرفان صاحب کا دل موہ لیا اور ان کا قلم ان کی جاذب نگاہ اور بے پناہ شخصیت کے جادو سے باہر نہ آسکا۔
یہ نثری نوحے عرفان صاحب کی دردمندی اور ان کے قلم کی روانی اور جادو بیانی کا قصہ سناتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھ ایسے کئی لوگوں کے لیے یہ بات صدمے کا سبب ہوئی جب انھوں نے قلم سے رشتہ توڑ کر سیاست کے کوچے میںقدم رکھا، سیاست کا کوچہ افراسیاب جادو کی اقلیم ہے۔ سب نظرکا دھوکا۔ پل بھر میں دھواں ہوجانے والی جادونگری۔ ’’جو بچھڑ گئے‘‘ ان کالموں کا مجموعہ ہے جس میں انھوں نے گزشتگاں کو دل کی گہرائیوں سے یاد کیا ہے۔ ان میں دل موم کردینے والا نوحہ ان کی والدہ کا ہے۔
نظم میں علامہ اقبال نے اپنی والدہ کا غم منایا اور نثر میں عرفان صاحب نے یہ کام کیا۔ ’’اب دعاؤں کی وہ نسیمِ جانفزا کہاں سے آئے گی جو میری فکر کو جوانی، میرے خیال کو تابانی اور میرے قلم کو جولانی عطا کرتی تھی۔ لوگ اکثر مجھ سے پوچھا کرتے تھے… ’’تمھیں یہ سب کچھ لکھتے ہوئے ڈر نہیں لگتا؟‘‘ میں دل ہی دل میں ہنس دیتا تھا کہ انھیں کیا معلوم، میرے گھر کے ہر گوشے سے دعاؤں کا کیسا نورانی چشمہ پھوٹ رہا ہے اور اس کی خنک پھوار، کس طرح ہر آن مجھے شاداب رکھتی ہے اور میرے عقب، میرے دائیں بائیں، کون سی سپاہ ہمیشہ موجود رہتی ہے۔‘‘
وہ یہ سچ لکھنے سے گریز نہیں کرتے کہ ’’نہ جانے کیا تھا کہ بے نظیرکے قتل ہوجانے کی خبر نے مجھے بہت دکھی کردیا تھا۔ ضبط کی کوشش کے باوجود میرے آنسو نکل آئے تھے۔ میرے سب گھر والوں کی بھی یہی کیفیت تھی۔ اس دن ہمارے یہاں چولہا جلا تھا نہ کسی کو کچھ کھانے کی خواہش ہوئی تھی۔‘‘ بے نظیر بھٹو کے بارے میں ان کے 6 کالم اس کتاب میں شامل ہیں۔ دبئی میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی بے نظیر کی کیا دلکش تصویر انھوں نے لفظوں سے بنائی ہے۔
قہقہے لگاتی ہوئی، گلنار چہرے والی بے نظیر، دبئی کی سڑکوں پر تیز گاڑی چلانے والی اور اپنی بیٹیوں کی ڈانٹ سن کر ہنستی ہوئی بے نظیر۔ وہ یہ حقیقت بھی لکھنا نہیں بھولتے کہ ’’بھٹو کی پھانسی پر تو بغلیں بجانے والے موجود تھے لیکن سیاسی تقسیم کی گہری لکیروں اور تہہ در تہہ جمی عداوتوں کے باوجود بے نظیر کی المناک موت نے پورے پاکستان کو دکھی کردیا، شاید ہی کوئی آنکھ ہو جو نم نہ ہوئی۔ شاید ہی دلِ دردمند رکھنے والا کوئی فرد اس شب سکون کی نیند سویا ہو اور شاید ہی کسی نے قاتلوں کو بددعا نہ دی ہو۔‘‘
عرفان زندگی کی ابتدا سے لفظوں کے عاشق ہوئے۔ ایسے سچے عاشق کہ پھر مڑ کر کسی اور طرف نہیں دیکھا۔ ایک بے مثال جوہری کی طرح لفظوں کے نگینے اپنی تحریروں میں ٹانکتے چلے جاتے ہیں۔ اردو، فارسی، عربی اور پنجابی کے دریا میں تیرتے ہیں، جہاں سے چاہتے ہیں، لفظ اٹھاتے ہیں اور اسے اپنی تحریر میں یوں جڑتے ہیں کہ ذرہ آفتاب بن جاتا ہے۔ یہ کتاب جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ایک ایسے ہی جوہری کی مرصع کاری کا کمال ہے۔ اس میں انھوں نے متعدد لوگوں کو یاد کیا ہے۔ جانے والوں کی قبروں پر ان کی خوبیوں اور خوش بختیوں کے تازہ پھول چڑھائے ہیں۔ ان پھولوں کی خوشبو پڑھنے والوں کے قدم تھام لیتی ہے۔
یوں تو انھوں نے سب کے لیے اپنے قلم سے اشکوں کے موتی پروئے ہیں لیکن بے نظیر بھٹو، سردار اکبربگٹی اور سلیم شہزاد پر لکھی جانے والی تحریروں میں ایک بہت پرانے اس شعر کا عکس جھلملاتا ہے کہ:
لاؤ تو قتل نامہ مرا، میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی
ان لوگوں کے قتل نامے پر جن کی مہر لگی ہوئی تھی، انھیں سب ہی جانتے ہیں، سرگوشیوں میں ان افراد اور عناصر کا ذکر بھی ہوتا ہے لیکن کس کی مجال ہے کہ برسر منبر وہ نام لے۔ ہم اس وقت جمہوریت کے نام پر جس دور ابتلا سے گزر رہے ہیں، اس میں اب آوازوں کے قتل کا حکم نامہ جاری ہوا ہے۔ لب بولتے نظر آئیں مگر آواز طلسم ہوشربا کے عمروعیار کی کلیم میں ڈوب جائے۔ اس خاموشی کا شور صور اسرافیل کو شرما رہا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ ’تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو‘۔
عرفان صدیقی کاٹ دار جملے لکھتے ہیں۔ نواب اکبرخان بگٹی کا لہو بلوچستان حکومت کے ہاتھوں پر دیکھتے ہیں تو برافروختہ ہوجاتے ہیں۔ لکھتے ہیں: ’’مرکز میں براجمان بلوچستان حکومت کے قائدین اکبرخان کے قتل پر غم وغصہ میں ہیں۔ احتجاج کا غوغا بلند کررہے ہیں۔ کیا یہ لوگ بلوچستان حکومت سے علیحدگی کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو قاتل کے ساتھ شریک ہوکر مقتول کے گھر بین کرنے کا فریب کارانہ سلسلہ بند کردیں۔‘‘
عرفان صدیقی کی یہ کتاب ہمیں بہت سے بچھڑنے والوں سے ملواتی ہے۔ وہ ان کی تحسین کے لیے کوثروتسنیم میں دھلے ہوئے لفظ لکھتے ہیں۔
ملک کے نام ور کالم نگار ارشاد احمد حقانی کا تابوت اٹھاتے ہوئے اس صدمے سے دوچار رہتے ہیں کہ جنازے میں بس دو ڈھائی سو لوگ تھے، جب کہ حقانی صاحب کے عروج کے زمانے میں کئی سو لوگ ان کے گرد حلقہ باندھے چلتے تھے، جس طرح انھوں نے سلیم شہزاد کو یاد کیا ہے، اسے پڑھ کر دل ململا جاتا ہے۔ ایک جری اور جی دار لکھنے والا، جسے حلقہ عام میں کم کم لوگ جانتے تھے، اس لیے کہ وہ انگریزی میں لکھتا تھا اور عموماً غیرملکی جریدوں میں چھپتا تھا لیکن اسے جس طرح اٹھایا گیا، پھر اسے تشدد کے ہاون دستے میں اس لیے کوٹا گیا کہ وہ بہت کچھ جانتا تھا۔
اس کی تحریریں، اس کی تحقیقاتی رپورٹیں اس مصرعے کی تصویر ہوگئی تھیں کہ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ۔ فلم ’زندگی یا طوفان‘ میں نوتن کا مجرا ہو تو لطف دیتا ہے لیکن وہ جن کے چہروں پر تقدس کی نقاب ہو، وہ بھلا ایسی گستاخی کیسے معاف کرسکتے ہیں۔ سلیم شہزاد گستاخ تھا، اگلے وقتوں میں کسی شہنشاہ کا وقایع نگار ہوتا تو انگلیاں بغدے سے اڑا دی جاتیں اور زبان گدی سے کھینچ لی جاتی۔ آج کی تیسری دنیا میں تیسرے درجے کے عالی جاہ اتنی زحمت نہیں کرتے۔ ولی بابر ہو یا سلیم شہزاد عبرت سرائے دہر میں رہنے والے ایک عامی کی طرح رہتے ہیں، پھر ان کا قصہ کیوں نہ عامیوں کی طرح پاک کیا جائے۔ سلیم شہزاد کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ کبھی تو پوری کہانی لکھی جائے گی اور لکھتے چلے جاتے ہیں۔
’’قریبی دوستوں کو سلیم نے بتایا تھا کہ دوسرا حصہ نہایت ہی انکشاف انگیز اور خوف ناک ہوگا۔ شاید یہی بات اس کے قتل کا سبب بنی۔ اب یہ کہانی ادھوری رہے گی۔ پورا سچ سامنے نہیں آسکے گا۔ سچ سامنے نہ آنا ہی کچھ لوگوں کی بقا کا ضامن ہے۔ وہ اس جھوٹ کے پردے چاک کر رہا تھا لیکن اس کا قصہ پاک کردیا گیا۔ اب اس کی بیان کی گئی داستان کا دوسرا حصہ سامنے نہیں آسکے گا۔ کہانی ادھوری رہے گی۔ یہ ادھوری کہانیوں کا شہر ہے۔ آج تک کسی کو اجازت نہیں ملی کہ وہ پوری کہانی کہہ سکے کہ پوری کہانی چہروں کا ملمع اتار دیتی اور بڑے بڑوں کو بے لباس کردیتی ہے۔‘‘
’’جو بچھڑ گئے‘‘ ان کا قصہ ہے جن کا آخری دیدار ان کے چاہنے والوں کے نصیب میں تھا لیکن ہم ان بچھڑنے والوں کے غم خواروں کو کن الفاظ میں پرسہ دیں، جنھیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے پیاروں کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، جن کی ماؤں کی بینائی آنسوؤں کی روانی کے ساتھ بہہ گئی، جن کی بیویوں کو نہیں علم کہ وہ سہاگن ہیں یا بیوہ، ان کے بچے باپ کی گرم جوش آغوش سے محروم ہیں اور نہیں جانتے کہ وہ کبھی اپنے باپ کا زندہ چہرہ دیکھ بھی سکیں گے یا ان کا مقدر ہمیشہ کاغذ پر ابھرے ہوئے نقش رہیں گے، جنھیں تصویر کہا جاتا ہے۔ بچھڑ جانے والوں کی ایک فہرست وہ بھی ترتیب دی جائے جو شاید رزق خاک ہوگئے، ایک مجلس ان کے لیے بھی برپا ہو جن کے لیے کوئی کربلا برپا نہیں ہوئی اور پھر بھی وہ کرب و بلا کے ہر امتحان سے گزرے۔
(انجمن ترقی اردو میں ’’جو بچھڑ گئے‘‘ کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا)
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)

Views All Time
Views All Time
136
Views Today
Views Today
3
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*