الیاس کبیرسرائیکی وسیبکالملکھاری

ُحسنِ زمیں زاد ۔۔ محمد الیاس کبیر

وادی سندھ کی زمینی بساند میں رچی تہذیب یہاں کی مٹی سے نموپانے کی بنا پر اپنے الگ رنگ وآہنگ کی حامل رہی ہے۔ اس خطے کے بسنے والوں نے مقامی زبان میں ہمیشہ کلام کرنے کی غرض وغایت کونہ صرف بجا طور پر محسوس کیابلکہ ہمیشہ اس پر نازاں بھی رہے۔یہاں کے جن تخلیق کاروں نے مقامی لسانیات کے مبادیات وبنیادات پربساطِ حرف و ہنر سجائی اس کی ایک نمایاں تمثیل بصورتِ شمیم عارف قریشی ملاحظہ کی جاسکتی ہے اور جن کے فکری نقوش کا نظرِ غائر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ 2003ءکی بات ہے ۔سردیوں کے دن تھے، گہری دھند کے بعد دھوپ نے اپنا رنگ جمایا ہوا تھا۔ سول لائنز کالج کے ایک خوبصورت سبزہ زار میں چند پروفیسر حضرات کرسیوں پر براجمان تھے۔ اُن میں سے کچھ کے نام یاد ہیں: انور جمال، انیس انصاری، مختار پرویز، محمودالحسن قریشی، امتیاز عاصی اور شمیم عارف قریشی! محمود الحسن قریشی کینسرسے لڑتے لڑتے شکست کھاگئے، امتیاز عاصی بیماریِ دل کا شکار ہوئے اور اب شمیم عارف بھی دل سے بازی ہار گئے۔شمیم صاحب میاں محمدبخش کی صوفیانہ شاعری کے حوالے سے گفتگو کررہے تھے۔جب یہ شعرپڑھا :
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا
ککر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا
تو انھوں نے استفسار کیا کہ میاں محمد بخش نے ”نیچ“ اور ”کیکر“ کسے کہا ہے؟ پھر خود ہی ہنس کر کہنے لگے کہ یہ ”نیچ“ اور ”کیکر“ مقامی آدمی کو کہا گیا ہے۔ اس کے بعد اُن کا کہنا تھا کہ صوفیانہ شاعری کو ایک بار پھر سمجھنے کی ضرورت ہے؛ ایک مقامی آدمی کے طورپر! سب لوگ محوِ حیرت تھے کہ شمیم صاحب نے بڑی سہولت سے اس متصوفانہ شعر کی شرح کی اور اسے مقامی باشندے سے جوڑ دیا۔
یہ میری شمیم صاحب سے پہلی ملاقات تھی ۔یہ اُن کی مقناطیسی شخصیت ہی تھی کہ اُن سے ہونے والی بظاہر یہ پہلی ملاقات کسی طور بھی اوّلیت کی حامل نہیں تھی۔کسی لمحے بھی اجنبیت یا مغا ئرت کا ا حساس نہیں ہوا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھاکہ میں اُنھیں برسوں سے جانتاہوں۔ اُس ایک دن کی نشست نے مجھ پر ایسا سحر طاری کیا کہ میں فرصت ملتے ہی اکثر وہیں چلا جاتا ۔ اُن کے پاس انگریزی کے اساتذہ اور طلبا کم اور اردو والے زیادہ بیٹھتے تھے۔ اُن کی محفل میں بیٹھ کر ایک عجیب سی سرشاری اور اپنائیت محسوس ہوتی اور کبھی کبھار تواُن سے مل کر ہمدمِ دیرینہ کا احساس بھی ہوتا تھا۔
شمیم عارف قریشی اپنے ہی مزاج اور مذاق کے ایسے وضع دار اور طرح دار انسان تھے کہ انھیں آسانی سے درویش اور صوفی کہا جاسکتا ہے۔ اُن کا بلند انسانی رویہ ہر خاص و عام کے لےے یکساں تھا۔انھوں نے ہمیشہ محبت بانٹی اور اپنے اس مسلک پر زندگی بھر عمل پیرا رہے۔ اسی دوران انھیں مختلف انتظامی عہدوں پر کام کرنے کا موقع بھی ملا تو وہاں بھی انھوں نے اپنے اس مسلک سے ذرہ بھر روگردانی نہیں کی۔وہ بنیادی طورپر خوش باش اور مجلسی آدمی تھے اور شاید اسی وجہ سے اُ نھیں بعض اوقات انتظامی امور میں دلچسپی لیتے کم دیکھا گیا ۔ وہ کسی کالج کے پرنسپل ہوں یا ڈائریکٹر کالجز ہر عہدے پر زیادہ دل جمعی سے کام نہیں کیا، شاید اُن کا وجود ان عہدوں کے لےے بنا ہی نہیں تھا۔ کیوں کہ انھوں نے کبھی بھی بحیثیت منتظم کسی ماتحت کو ”نقصان“ نہیں پہنچایا۔ورنہ بہت کم لوگ ایسے دیکھے گئے ہیں کہ کوئی منصب یا عہدہ ملنے کے بعد وہ اپنی ”اوقات“ میں رہتے ہوں۔شمیم صا حب ڈائریکٹر کالجز کی حیثیت سے جب کسی کالج کا وزٹ کرتے تو انھیں ہمیشہ پرنسپل کے ساتھ کم اور کالج کے مالیوں اور چو کیداروں کے ساتھ زیادہ دیکھا گیا کیوں کہ حاشیے میں رہنے والے لوگوں سے ہم کلام ہونا اُن کا ایک و صف ِ خاص تھا۔یہ اُن کا حسن سلوک ہی تھا کہ ایسے لوگ ہمیشہ اُن کا دم بھرتے تھے ۔گرمیوں کے دن تھے۔ ایک مرتبہ وہ گورنمنٹ کالج مخدوم رشید آئے اور پرنسپل سے ملنے کے بعد سبزہ زار میں مصروفِ عمل مالی کے پاس بیٹھ کر پانی پیا ، سگریٹ کے دو کش لیے اور واپس پرنسپل کے دفترجاکر سرکاری امور انجام دینے لگے۔ اُن کا یہ طرزِ عمل دیکھ کر کالج میں موجود سب لوگ ششدر رہ گئے۔یہ صرف ایک واقعہ نہیں ایسے بے شمار واقعات ہیں۔ وہ حقیقی معنوں میں انسان دوست تھے اوراسی کو اپنا مسلک و مشرب سمجھتے تھے:
اَساں خلق کوں روز سلام کیتے
اساں رب دے نال کلام کیتے
وہ عربی النسل تھے لیکن اُن کی اٹھان وادیِ سندھ کی مٹی سے ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس دھرتی کے جی جان سے عاشق رہے۔ وہ تمام عمر ”مقامیت“ کے دلدادہ رہے جو اُن کے دل و دماغ میں رچ بس گئی تھی۔ وہ ہر اس چیز کو مقامیت کے تناظر میں دیکھتے تھے جس پر حملہ آوروں کی یلغار کے آثار نظر آتے ہوں۔ یہ انھوں نے ہی ہمیں بتایا کہ کس طرح بلبل کو مقامی پرندے کوّے پر ترجیح دی گئی اور کوّا ہمارے لیے قابل نفرین قرار پایا۔ حملہ آور وں نے تحقیرآمیز رویہ روا رکھتے ہوئے مقامی آدمی کو کبھی تو کمی کمین کہا اور کبھی راکھشس کی گالی دی، کیوں کہ اُن کے استبداد کے سامنے ہمیشہ صرف مقامی آدمی نے ہی مزاحمت کی ۔ یہ مزاحمت ہمیں کبھی ملتان کی رقاصہ ُمہراں کی صورت میں نظر آتی ہے ، جس نے تغلق کے حکم سے انحراف کرتے ہوئے اپنے گھر کی دیوار پر دیا جلایا تھا اورجس کی پاداش میں اُسے قلعہ ملتان میں پھانسی دے دی گئی۔ کبھی ہمارے ذہن میں نواب مظفر خان سدوزئی کا نام گونجتا ہے،جس نے رنجیت سنگھ کی فوج کے سامنے سینہ تان کرنہ صرف خود بلکہ اپنی آل ا ولاد کو بھی ملتان کی محبت میں قربان کردیا، ہمیں کبھی کچلو خان کی پھانسی نظر آتی ہے جس کا کٹا ہوا سرچالیس دن تک فصیلِ شہر پر لٹکا رہا ۔
تغلق دا قتلام شہر وچ اج وی تازہ لگدے
کچلو خان دی لاش ٹنگی کوں اَکھ نال ڈیہدے پئے ہیں
یہ مزاحمت کبھی رفعت عباس کے کلام میں دکھائی دیتی ہے جس نے اپنی ماءبولی کی محبت میں تخت ِ پنجاب سے ”پرائڈ آف پنجاب“ ایوارڈ لینے سے اس لیے انکار کردیا کہ اُن کی ماءبولی کوتسلیم نہیں کیا گیا تھا۔اُن کے اس فیصلے کو ملک بھر میں ردّ و قبول کی نظر سے دیکھا گیا۔ ایک ”مخصوص “طبقے کا نقطہ نظر تھا کہ رفعت عباس کو یہ ایوارڈ ضرور لینا چاہئیے ، وہ اسے ایک بہت بڑا ”اعزاز“ بھی گردانتے تھے لیکن رفعت صاحب نے ہمیشہ اپنی ماءبولی کو ہر چیز پر فوقیت دیتے ہوئے مقامیت کو اپنے لیے اعزاز و اکرام سمجھا۔ شمیم صاحب نے اُن کے اس فیصلے کو بہت سراہا اورا سے دھرتی کے ساتھ مخلصانہ جڑت اور وفا کا نام دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شمیم صاحب نے ز ندگی بھر مقامیت کو اپنا مسلک بنائے ر کھا اوربالخصوص ملتان کو اپنے اندر اتار لیا ؛ پورے اعزاز ، اور وقار کے ساتھ!انھوں نے یہاں کی ہر چیز کو مقامی آنکھ سے دیکھنے، اس کے کان سے سننے اور اس کی زبان سے بولنے کی سعی کی ہے۔ کسی بھی چیز کے ساتھ یہ جڑت اُس کی اہمیت کے اضافے کا باعث بنتی ہے۔ شمیم صاحب نے اس ا نسلاک کو تا حیات بکھرنے نہیں دیا۔ انھیں زندگی میں بہت سے مواقع میسر آئے اور وہ کسی بڑے شہر جاکر معروف معنوں میں اپنا مستقبل ”روشن“ کرسکتے تھے ۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ بنیادی طور پردھرتی اور انسان پرست تھے، مگر برتر ہونے کی دوڑ میں کبھی نہیں رہے۔ انھوں نے یہاں کی مٹی،یہاں کے مزار، یہاں کے لٹھے کبوتر، یہاں کے درودیواراور یہاں کے لوگوں کو اپنے وجود سے الگ نہیں کیا۔
کل عالم دا میلہ لگدے دل اپنے دے اندر
دل اپنے کوں سینے دھر تے مول اِستھان کیتوسے
مقامیت سے اُن کی محبت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعے کا نام ملتانی فنون کے بنیادی رنگ اور اس دھرتی کی رس لیلا کے پس منظر میں نمو پانے والی اساطیر اور اس کے زمیں زادوں کے جسموں پر جبر کے نتیجے میں پڑنے والے نیل کی نسبت سے ”نیل کتھا “ رکھااور نثری مجموعے کو ”حرفِ زمیں زاد“ کا نام دیا ، جس میں وادی سندھ کی ہزاروں سالہ تاریخ کے امین قدیم ترین شہر کے دھرتی واسوں اور اُن کے تخلیقی شہ پاروں کے بارے میں اردو اور سرائیکی دونوں زبانوں میں بات کی گئی ہے ۔ اوّل الذکر کتاب تو شایع ہوگئی لیکن موخر الذکر اُن کی تساہل پسندی کی نذر ہوگئی۔ اب اس کتاب کو شا یع کرنے کا بیڑا عبدالباسط بھٹی نے اُٹھایا ہے۔
شمیم صاحب سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ اُن سے بیسیوں ملاقاتیں رہیں، کئی ایک سفر بھی اکٹھے کئے ۔ہر ملاقات میں اُن کی شخصیت کے نئے پہلو سے آشنائی ہوتی۔ گورنمنٹ کالج مخدوم رشیدکے مجلے کی اوّلین اشاعت کا مرحلہ آیا تو پرنسپل نے مجھے اس کا ایڈیٹر بنادیا۔پہلی بار شایع ہونے والے کالج مجلے کے نام کی منظوری ڈائریکٹر کالجز سے لینا ضروری ہوتاہے۔ مجلے کا ابھی باقاعدہ کوئی نام تجویز نہیں ہوا تھا۔میرے ذہن میں جو تین نام تھے اُن میں ایک ”پیامِ رشید“ بھی تھا۔شمیم صاحب نے نام دیکھے ہی فوراً کہا کہ مخدوم عبدالرشید حقانی کی نسبت سے یہ نام سب سے زیادہ موزوں ہے ، کیوں کہ اس خطے کے لیے اس بزرگ کی بہت خدمات ہیں۔ اس موقع پر بھی ہمیں شمیم صاحب کی مقامیت سے محبت کی ایک اور مثال نظر آتی ہے۔
شمیم صاحب نے” خمیس یاترا “کے قافلے میں ملتان کے گلی کوچوں کو ایک با ر پھر دریافت کرنے کی کوشش کی ۔ وہ ہر جمعرات کو اپنے دوستوں کے ساتھ ملتان کا قریہ قریہ گھومتے۔ حملہ آوروں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آہٹ کو محسوس کرتے ۔ اُن کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے قتلام اُن کے سامنے ہورہا ہو اوروہ سراپا احتجاج ہوں۔ وہ پرہلاد کے مندر کو دکھ بھری نظروں سے دیکھتے جنھیں صالحین نے صرف اس لیے توڑ دیا کہ یہ کسی ’با بر‘ کی تعمیر کردہ مقدس عمارت نہیں تھی ۔ (یہ مذہبی جنون سرحد کی دونوں طرف نظر آتا ہے، بابری مسجد کا انہدام اس کی واضح مثال ہے) قلعہ کی ٹوٹتی فصیل اُن کے دل میں ٹیس پہنچاتی ۔ چوک شہیداں کے شہید اُنھیں بے کل کردیتے ۔خونی برج کو دیکھتے ہی کہتے :
خونی برج دے اُتے بارش وَت پئی آندی اے
رَتیاں سِلھّاں وچوں کیویں رَت پئی واہندی اے
یہ سید زادہ ملتان کے ایک ایک گوشے کی تاریخ سے بخوبی واقف تھا۔ کوئی گلی، کوئی کوچہ، کوئی دروازہ، کوئی چوک ایسا نہیں جس کے نقوش اس صوفی منش انسان کے دل و دماغ میں تازہ نہ ہوںاور تمام عمر اس کے گیت نہ گا ئے ہوں۔ وہ حضوری باغ سے گزرتے ہوئے اس کے ماضی کو یاد کرتے اور پل موج دریا کے پرانے ”نین نقش“ انھیں آج بھی اچھی طرح یاد تھے:
لکھ کروڑاں حجاں تھیسن باغ حضوری پھرسوں
دل دریا دی موج اچ راہسوں ساون دھاندے رہسوں
شمیم عارف قریشی زندگی بھر اپنی ماءبولی اور وسوں کو شناخت دینے کے لیے کوشاں رہے اور سرائیکی قومی تحریک کے ادبی و ثقافتی کام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے اُن کی خدمات یقینا قابل ستائش ہیں۔ وہ سرکاری ملازم ہونے کے باوجوداور کسی خوف اور ڈر سے بے نیاز ہوکر جُت گئے۔عظیم مقصد کے سامنے خوف اور لالچ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔’سرائیکی لوک سانجھ‘ کا قیام عمل میں لایا گیا تو وہ اس کے بانی ارکان میں سے تھے۔ انھوں نے اس فورم کے ذریعے سرائیکی قومیتی شعور کو فروغ دیا۔اس کے منشور اور موقف کو عام لوگوں میں واضح کیا تاکہ وہ اپنی شناخت کرسکیں۔ وہ وادیِ سندھ کا قریہ قریہ گھومے اور زمیں زادوں کے سامنے اپنا موقف بیان کیا۔ سرائیکی لوک سانجھ کے بعدوہ ’سویل‘ سے منسلک ہوئے اور اس کے مرکزی کنوینیئر کی حیثیت سے اپنی خدمات پیش کیں۔اس پلیٹ فارم سے بھی انھوں نے اپنی قومیت کو ابھارنے میں بہت سی کوششیں کیں۔ ’جیون جوگ‘ کے نام سے کتابی سلسلہ شروع کیا گیا تو وہ یہاں بھی سب سے آگے نظر آئے۔جدید سرائیکی ادب بالخصوص جدید سرائیکی کافی اور سرائیکی قومی تحریک کو دوام بخشنے کے لیے اس مجلے نے بھرپور کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ’کہانی رات‘ کے نام سے ایک نئے سلسلے میں معاونت کی جس میں کسی ایک دیہات یا شہر میں رات بھر کہانیاں سنائی جاتیں اور بعد میں اس پر گفتگو ہوتی۔ شمیم صاحب کی رائے بذاتِ خود ایک نئے موضوع کااعلامیہ ثابت ہوتی۔
شمیم صاحب کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو اُن کی شگفتگیِ طبع تھی جو تادمِ واپسیں قائم رہی۔ چاہے کتنی ہی بڑی پریشانی ہو وہ ہمیشہ شگفتہ ہی نظر آتے۔میں نے انھیں کبھی بھی رنجیدہ خاطر نہیں پایا ۔سنجیدہ سے سنجیدہ بات کو بھی اس پیرائے میں بیان کرتے کہ اس میں لطافت پیدا ہو جاتی۔ جملہ سازی میں انھیں استادانہ مہارت حاصل تھی۔ وہ ایک مرتبہ دوستوں کی محفل میں گفتگو کررہے تھے ۔ اچانک کہنے لگے:”اگر اللہ سئیں ساڈے کیتے گائیں منجھیں حرام کر ڈیوے ہا تے اساں تاں بُکھے مرونجو ں ہا۔“یہ سنتے ہی فضا میں بہت دیر تک قہقہے بکھرتے ر ہے۔
ہمارے درمیان کیسے کیسے لوگ تھے ، شگفتہ مزاج، نکتہ آفریں اور جانِ محفل سمجھے جانے والے اپنی محفلوں کو بے جان کرگئے۔ خدا نے وہ سانچہ ہی توڑ دیا ہے جس میں اس قسم کے لوگ ڈھلا کرتے تھے۔ شمیم صاحب کا شمار ایسے ہی لوگوں میں تھا۔
شمیم عارف قریشی سرزمینِ عرب کی نسبتوں سے کہیں آگے ملتان کا بیٹا تھا۔ اُس کی آخری نماز ملتان کی مٹی پرپڑھی جارہی تھی۔ یہ 21اگست کا دن تھا، ایمرسن کالج کے وسیع و عریض گراﺅنڈمیں ملتان کے لوگ افسردہ خاطر تھے ، کس کس کا نام لیا جا ئے، ہر چہرہ پژمردہ، ہر آنکھ پرنم ….لیکن قریشی کا چہرہ اب بھی مسکرا رہاتھا جیسے کہہ رہا ہو:
پہلے تاءدی مانیاُتے ماکھی دھر تے کھاسوں
ہک واری جے ول جمسوں تاں پہلے عشق کماسوں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker