پالیسی

”گردوپیش “کے اجراءکابینادی مقصد یہ ہے کہ ہم سماج کودرپیش بہت سے مسائل پرکھل کربات کرناچاہتے ہیں۔ اگرچہ اس وقت بہت سی ویب سائٹس پرمکالمہ جاری ہے لیکن اس کے باوجود بات کرنے کی گنجائش ہمیشہ اورہرجگہ رہتی ہے،ہم کسی بہت بڑی ٹیم کے ساتھ اپنے سفرکاآغازنہیں کررہے اورنہ ہمیں یہ دعویٰ ہے کہ ہم کسی ریٹنگ میں آناچاہتے ہیں آپ کوشایدہمارے ہاں وہ چٹخارہ دکھائی نہ دے جوسوشل میڈیا اورالیکٹرانک میڈیا میں رواج پاچکی ہے ۔سنسنی خیزموضوعات اورعنوانات آپ کو اس ویب سائٹ پرہرگزدکھائی نہیں دیں گے۔لیکن اس کے باوجود ہمیں یقین ہے کہ ہم آپ جیسے سنجیدہ قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
لکھنے والوں کے لئے ہمارے ہاں موضوعات کی کوئی قیدنہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ ہم کسی کے جذبات مجروح کرنا نہیں چاہتے۔خاص طورپررنگ نسل اورمذہب کے حوالے سے تعصبات پھیلانے والوں کی ہم سب کو حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ۔اس کایہ مطلب بھی نہیں کہ ہم حساس سمجھے جانے والے موضوعات پربات نہیں کریں گے بات توہرموضوع پرہوگی لیکن شائستہ انداز میں اورکسی کی تضحیک کئے بغیر۔
کچھ بنیادی سوالات ہمارے اورآپ کے ذہنوں میںموجودہیں ،یہ سوالات مذاہب کے بارے میں بھی ہیں ،مسخ شدہ تاریخ کے بارے میں بھی اورشخصیات کے بارے میں بھی ،،کون ہیروہے اورکون غدار ؟یہ سب کچھ اب تک ریاست ہی طے کر رہی۔ دیکھناتویہ ہے کہ خلق خداکسے ہیرواورکسے غدارسمجھتی ہے ۔ایسے تمام موضوعات پرکھل کربات ہونی چاہیے لیکن ایک دوسرے کے احترام کومدنظررکھ کر اورشائستگی کے ساتھ ۔ہاں البتہ ایک لکیر ہمیں اورآپ کو ضرور کھینچنا ہوگی ۔یہ طے کرنا ہوگا کہ اس معاشرے کو خوبصورت بنانے کے لئے ہمیں کیا کردار ادا کرنا ہے اور جو لوگ بدصورتیاں تقسیم کررہے ہیں ۔لاشیں گرارہے ہیں ۔کہیں ہم اپنی کسی تحریر یا خاموشی کے ذریعے ان کے اس عمل کو جواز تو فراہم نہیں کررہے ۔
”گردوپیش “میں علاقائی ثقافتوں اورزبان وادب کی ترویج کے لئے بھی گوشے مختص کئے گئے ہیں ان کابنیادی مقصدیہ ہے کہ تمام صوبوں کی ثقافت اورقومی زبانوں کوفروغ دیاجائے اس طرح ہم نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے بلکہ ایک دوسرے کے مسائل کوبھی بہتراندازمیں سمجھیں گے اور بلاوجہ کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا۔
نئے لکھنے والوں کو بھی” گردوپیش“ میں بھرپورمواقع فراہم کئے جائیں گے اوران کے لئے ایک الگ گوشہ بھی مختص کیاجارہاہے تاکہ ان کی سوچ بھی آپ کے سامنے آئے اورہم ان کے مسائل بھی سمجھ سکیں۔نئی نسل کیا سوچ رہی ہے ،اس پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔وہ لکھاری جنہیں کسی بھی فورم پرسامنے آنے کاموقع نہیں مل رہااس ویب سائٹ کے ذریعے اپنی شناخت بناسکیں کہ مستقبل میں شعر وادب کے گیسو انہیں نے سنوارنے ہیں۔