پنجرے میں آزادی ۔۔آبیناز جان علی( موریشس )


abeenaaz
  • 13
    Shares

بلیک ریور کی دلفریب وادی میں پرندے کو اپنے پر پھیلائے اڑان بھرتے ہوئے دیکھ کر احتشام کے دل میں حسد بھر آیا۔ اس سفید پرندے کو آزاد دیکھ کر انجیلینا کی باتیں اسے کانٹے کی طرح چبھنے لگیں۔
“تم ایک ایسے پرندے کی طرح ہو جس کے پر بچپن سے ہی کاٹ دئے گئے ہیں۔ پھر تمہیں ایک سنہرے پنجرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ جب جب تم نے باہر نکلنے کی خواہش ظاہر کی تمہیں یہ احساس دلایا گیا کہ تم غلط ہو۔”
احتشام کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس کے کندھے اور پیٹھ میں شدید درد ا ٹھ رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ ایک دن اس کی والدہ کی طرح اس کا جسم معذور ہو جائے گا۔ جانے سے پہلے انجیلینا نے اسے کتنی کڑوی باتیں سنائی تھیں۔انیجلینا میں احتشام کو اپنی والدہ کا عکس نظر آتا تھا۔ انجیلینا زندگی کا پورالطف اٹھا نے والی لڑکی تھی۔ اس کی آزاد خیالی پر ہی تو احتشام فدا ہوا تھا۔ انیجلینا اس کی زندگی میں ہوا کے ٹھنڈے جھونکے کی طرح آئی تھی۔ اس کی دنیا بہار بن گئی تھی۔ ہر شے حسین لگنے لگی تھی۔ ذرہ ذرہ مہکنے لگا تھا۔
انیجلینا کی باتیں پھر احتشام کے کانوں میں گرجنے لگیں۔
“تمہاری ماں تمہارے سامنے ایک زندہ مثال ہے کہ انسان گھٹ گھٹ کر جئے گا تو بالآخر اس کا جسم جواب دے دے گا۔”
احتشام کی والدہ کو بلند فشارِخون کی بیماری تھی۔ اسے دو بار لکقوامار گیا تھا۔ شادی سے پہلے اس کی والدہ ایک خودمختار خاتون تھیں۔ وہ کانونٹ کالج کی پڑھی لکھی لڑکی تھیں اور بنک میں نوکری کرتی تھیں۔ وہ نہایت فعال و متحرک تھیں۔ انہوں نے کھانا بنانااور کڑھائی کرنا بھی سیکھا تھا۔ اب وہ یہ تمام شوق پورانہیں کرپاتیں کیونکہ وہ جلدی تھک جاتی تھیں۔ ان کی صحت کے لئے تناﺅ سے دور رہنا ہی بہتر تھا۔ بڑی مشکل سے متعددڈاکٹروں اور آپریشن کی مدد سے اس کی والدہ واپس چل پھر سکتی تھیں۔
احتشا م کے سامنے اس کی پوری دنیا گھوم رہی تھی۔ اس کے سینے میں طوفان اٹھ رہا تھا۔ پچپن سے اب تک اس کو صرف شکستوں کا سامنا کرنا
پڑا۔ اس نے ہمیشہ پڑھائی میں زور دیا تھا لیکن ہربار فیل ہوجاتا۔ اس میں خوداعتمادی نہیں تھی۔ ا نجیلینا وہ پہلی لڑکی تھی جس نے اس سے کہا تھا کہ وہ عقلمند ہے اور اس میں بہت کچھ کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ زندگی میں اگر انیجلینا کا سہارا نہ ملتا تو احتشام کو یقین تھا کہ وہ ایک الگ انسان ہوتا۔ بڑی مشکل سے پرائمری اسکول پاس کر کے کالج گیا۔ لیکن وہاں بھی ناکامی نے ایک کالے سائے کی طرح اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔
امتحان کے نتائج گھر لاتے وقت احتشام کا ننھا دل کانپ اٹھتا۔ ایک بار اس نے نتائج کے نمبر بدل دئے تھے تاکہ ایسا معلوم ہو کہ وہ پاس ہو گیا۔ اس کی والدہ کو اس کا جھوٹ معلوم پڑ گیااور انہوں نے غّصہ میں گرم کرچھی سے اس کا ہاتھ جلا دیا تھا۔ بعد میں اس جلن پرمرہم لگاتے وقت ماں کے آنسو بھی نکلے تھے۔ اس زخم کا داغ آج بھی احتشام کے دائیں ہاتھ پر موجود تھا۔
“ایک ماں اپنے بچے کو کیسے جلا سکتی ہے؟ ایک بچّے میں اچھی تربیت دلانے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟” انیجلینا نے دریافت کی تھی۔ انیجلینا کو کیا معلوم کہ ماں حالات سے سمجھوتہ کرتے کرتے کتنی مجبور ہو گئی تھی۔
انیجلینا سے پہلے احتشام کی زندگی میں کتنی لڑکیاں آئیں۔ کسی نے اسے اتنا پیار نہیں دیا تھا۔ کسی نے اس کی اتنی قدر نہیں کی تھی۔
“خود سے پیار کرنا سیکھو احتشام۔ خدا نے تمہیں ایک خوبصورت روح دی ہے۔” انیجلینا اکثر کہا کرتی۔
انیجلینا سے شادی کرنا احتشام کا خواب تھا اور انیجلینا بھی احتشام کو دیوانہ وار چاہتی تھی۔ احتشام اس کی باہوں میں دم توڑنا چاہتا تھا۔ جب وہ دونوں ملتے تھے احتشام بچوں کی طرح روتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ اس کی انیجلینا اس سے دور نہ ہو جائے۔
انیجلینا مسلمان بننے کے لئے تیاربھی تھی۔ لیکن احتشام کے والد نے پہلے سے اس کے لئے اپنے ایک دوست کی لڑکی دیکھ رکھی تھی۔ والد صاحب کی مرضی کے آگے آج تک کسی کی نہیں چلی۔ یہ بات نہیں تھی کہ وہ ایک برے باپ تھے۔ وہ احشام کی ہر ضرورت کو پورا کرتے تھے۔ اس کی گاڑی اس کے والد کی ہی دی ہوئی تھی۔ ہفتہ میں کم ازکم ایک بار پورا خاندان عشائیہ کے لئے باہر جاتا اور ہر بار اس کے والد ہی بل اداکرتے۔ والد صاحب نے اپنے بیٹے کے لئے ایک بڑا کمرہ بھی تعمیر کرایا اور احتشام کی شادی کے پورے اخراجات اٹھانے کے لئے تیار تھے۔ یہاں تک کہ احتشام کی نوکری بھی والد صاحب نے اپنی فرم میں مالک سے کہہ کر دلوائی تھی۔
احتشام نے عمر بھر خود کو سعادت مندبیٹا ثابت کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس نے والد صاحب کی ہر بات مانی اور ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔آخر بڑے بزرگ ہمارا برا بھلا خوب سمجھتے تھے اور انہوں نے ہم سے زیادہ دنیا دیکھی تھی۔ پھر اس کے سینے میں یہ کیسی آگ بھڑک رہی تھی؟
والدصاحب کو اس کا اور انیجلینا کا رشتہ منظور نہیں تھا کیونکہ ان کے مطابق لڑکی کی طرزِ زیست ان کی تہذیب سے میل نہیں کھاتی تھی۔ وہ اکیلی دوسرے ممالک کا سفر کرتی تھی۔ ہوٹل میں کام کرنے کی وجہ سے وہ دیر رات کو گھر واپس آتی تھی۔
والد صاحب کا فیصلہ سن کر انیجلینا کو صد افسوس ہوا۔ احتشام کے والد سے مل کرانیجلینا نے انہیں مودبانہ طریقہ سے اس بات کا یقین دلانا چاہا کہ احتشام کے پیا ر کے لئے وہ ہر طرح سے خود کو نئے ماحول میں ڈھال لے گی اور نئے معاشرے کے آئین و آدب کی پوری طرح پیروی کرے گی۔ مگر احتشام کے والد ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ انہوں نے انیجلینا کو صاف صاف کہہ دیا کہ ان کا فیصلہ نہیں بدلے گا اور وہ اس سلسلے میں اور بحث نہیں کریں گے۔
واپس گھر آکر احتشام کے والد اس پر بھڑک اٹھے:
“اس لڑکی کی جرات دیکھو کہ وہ مجھ سے نظریں ملا کر میرے فیصلے کو للکار رہی ہے۔ کل تو یہ مجھے اپنے گھر سے بے دخل کر دے گی۔ میرا یہ فیصلہ ہے کہ اس لڑکی کو اپنی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکال دو۔”
حالات سے تھک ہار کر انیجلینا نے احتشام کو اس کی بے بسی پر صلوتیں سنائیں اور اپنی دنیا میں لوٹ گئی۔ آخری ملاقات میں دونوں بلک بلک کر روئے تھے۔ احتشام نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ ایک خود مختار شخص نہیں تھا۔ جاتے جاتے انیجلینا کے طنزیہ الفاظ احتشام
کے لئے نشتر کا کام کرگئے:
“تمہیں تمہارا سنہرا پنجرا مبارک ہو!”

Views All Time
Views All Time
87
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*