رسول بخش پلیجو: انقلاب و سیاسی مزاحمت کی علامت ۔۔ اختر حفیظ


rasool bux palijo
  • 22
    Shares

سندھ کی کون سی ایسی پگڈنڈی یا ڈگر ہوگی جس پر سندھ میں انقلابی جدوجہد کی علامت سمجھے جانے والے اس سیاسی کردار کے پیروں نے مسافت نہیں کی ہوگی۔ کسانوں سے لے کر محنت کش عورتوں اور مظلوم طبقات کے ساتھ ہم آواز ہونے والی اس شخصیت کو دنیا رسول بخش پلیجو کے نام سے جانتی ہے۔
ان کی تمام تر زندگی امیر مینائی کی اس شعر کی مانند رہی
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
انہوں نے سندھ کے عوام کے درد کو تو اپنا سمجھا مگر اس ملک میں بسنے والے ہر اس انسان کے درد کو بھی اپنا درد جانا جو کسی آمر، سیاستدان یا استحصالی قوت کے عتاب کا شکار رہا۔
سندھ میں کسی زمانے میں سیاسی طور پر دو مکتبہء فکر تھے جنہیں سندھ میں خاصی پذیرائی بھی ملی، ان میں ایک ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی اور دوسری جی ایم سید کی قوم پرست سیاسی تحریک ‘جیئے سندھ’ تھی۔ پیپلز پارٹی نے ہمشہ انتخابی سیاست کی اور یہ جماعت اپنے دلفریب نعروں کی وجہ سے مقبول بھی ہوئی مگر دوسری جانب انتخابی سیاست سے لاتعلق رہنے والی جی ایم سید کی سیاسی فکر نے سندھ میں بسنے والوں کے ذہنوں کی سیاسی نشونما میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔اس دوران اگر کوئی نئے سیاسی خیالات کے ساتھ میدان میں اترا تو وہ رسول بخش پلیجو تھے جن کے ہاں معاملات کو دیکھنے اور پرکھنے کے کچھ الگ ہی زاویے تھے۔ یہ سندھ میں پہلی بار ہوا تھا کہ ایک نئی سیاسی فکر ابھرنے لگی تھی اور اس فکر سے منسلک تمام سیاسی کارکنوں کو ‘پلیجسٹ’ کہا جاتا ہے۔ اس فکر کی سیاسی حقیقت دراصل یہ تھی کہ عدم تشدد کے فلسفے پر قائم ایک ایسی پرامن جمہوری جدوجہد کا آغاز کیا جائے جس سے ان مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے لڑا جائے جنہیں خود اپنی طاقت کا اندازہ نہیں تھا۔
ٹھٹھہ کے ایک چھوٹے سے قصبے جنگشاہی میں 21 فروری 1930 کو جنم لینے والے رسول بخش پلیجو نے سیاست کو اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ انہیں نچلی سطح پر عوام میں متعارف کروانے اور انہیں اس بات کا یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ سیاست محض جاگیرداروں، میروں، پیروں اور سرمایہ داروں کا حق نہیں ہے بلکہ سیاست کرنا اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا اس ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
یہ 1974 کا زمانہ تھا جب وہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) میں شامل ہوئے جس کے صدر شیر باز مزاری تھے۔ رسول بخش پلیجو اس کے جنرل سیکریٹری رہے مگر نیپ میں وہ زیادہ وقت نہ رہ سکے۔ اس سے قبل وہ 1970 میں عوامی تحریک پارٹی کی بنیاد رکھ چکے تھے جس کو سیاسی طور پر تقویت تب ملی جب ہاری رہنما فاضل راہو نے عملی طور پر اپنا بھرپور کردار نبھایا۔ ان کے سیاسی کردار کو رسول بخش پلیجو ہمیشہ سراہتے رہے۔یہ عوامی تحریک ہی تھی جس کی کوکھ سے سندھیانی تحریک کا جنم ہوا، وہی سندھیانی تحریک جس نے ایم آر ڈی سے لے کر ضیائی آمریت اور کالاباغ ڈیم کے خلاف بھرپور احتجاج کیے۔ سندھ میں عوامی سطح پر عورت کو سیاست میں متعارف کروانے والے رسول بخش پلیجو ہی تھے جنہوں نے معاشرے کو اس بات پر قائل کیا کہ سندھ کے دیہات اور دور داز علاقوں میں بسنے والی عورتوں کا کام صرف اپنے خاوند کی خاطر مدارات کرنا اور بچے پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ وہ خود کو شعوری طور آزاد کرکے وہ تمام حقوق حاصل کرسکتی ہے جو کہ اس کا بنیادی حق ہے۔چنانچہ سندھ میں عورت سیاست کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو کہ سندھیانی تحریک کی شکل میں آج تک قائم ہے۔ سندھیانی تحریک نے اپنا سیاسی حصہ ہاری تحریک میں بھی ڈالا۔ وہ سندھ کو شعوری طور پر بیدار کرنا چاہتے تھے تاکہ خواتین اور مرد جس ذہنی غلامی میں جی رہے ہیں اس سے نجات حاصل کر سکیں۔سندھ کی وہ ناخواندہ خواتین جن کے لیے اپنے گاؤں سے نکل کر شہر جانا پردیس جانے کے مترادف تھا، انہیں سندھ کے گلی کوچوں میں اپنے حق کے لیے لڑنے اور بڑی سے بڑی طاقت کے آگے ڈٹ جانے کا درس رسول بخش پلیجو نے دیا تھا۔ آج بھی سندھیانی تحریک کا حصہ رہنے والی خواتین اس بات پر فخر محسوس کرتی ہیں کہ وہ ایک ایسی سیاسی پارٹی کا حصہ رہی ہیں، جس نے انہیں اس بات کا احساس دلایا کہ وہ صرف عورتیں نہیں ہیں بلکہ انسان بھی ہیں۔
رسول بخش پلیجو نے عوامی تحریک کا سیاسی مزاج ایسا رکھا کہ جس سے یہ پتہ چل سکے کہ اس پارٹی میں صرف وہی بقا پاسکتا ہے جسے دکھوں اور تکالیف کے ہوتے ہوئے بھی جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ ہو۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ دنیا میں سب سے بڑا انسانی رشتہ سکھ کا نہیں دکھ کا ہے۔
اپنے بیٹے ایاز لطیف پلیجو کو کوٹ لکھپت جیل سے لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے لکھا ہے:
”پہلی بات تو یہ کہ تم نے ابھی تک اپنی زندگی میں اپنی عمر کے حساب سے کوئی ایسا دکھ نہیں دیکھا ہے جسے حقیقی معنوں میں دکھ کہا جائے۔ تاریخ کے اس مرحلے تک لوگوں کی بڑی اکثریت کی دنیا دکھوں کی دنیا ہے، اس لیے کہ دنیا میں سب سے بڑا انسانی رشتہ سکھ کا نہیں بلکہ دکھ کا ہے۔ آج تک دکھ ہی انسانی و سماجی زندگی کے متعلق علم و شعور کا بڑے سے بڑا ذریعہ بنا ہے، جس نے بالواسطہ اور بلا واسطہ دکھ نہیں سہا ہے، اسے درد کے مارے انسانوں کی کیا خبر ہوگی۔
“روشن خیالی، ترقی پسندی، اور انقلابیت کا مطلب عوام کی اکثریت کے لیے دکھوں کی دنیا کو تبدیل کر کے سکھوں کی دنیا تخلیق کرنا ہے۔ جنہوں نے دکھوں کی دنیا کا عذاب ہی برداشت نہیں کیا ہوگا، وہ اسے تبدیل کرنے کی کیا ضرورت محسوس کرے گا اور وہ کیا تبدیلی کی قدر کرے گا؟ ایسا انسان کیونکر روشن خیال، ترقی پسند اور انقلابی بننا چاہے گا؟ مگر اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس نے زیادہ دکھ دیکھے ہیں وہ خود ساختہ عظیم انقلابی بن گیا۔ حد سے زیادہ دکھ بھی آگ کی مانند ہیں جو اسے جلا دیتے ہیں۔“
انہوں نے ہمیشہ جناح کے اس پاکستان کی بات کی جوکہ روشن خیال اور سیکولر پاکستان ہے، جس میں کوئی مذہبی اور سماجی تفریق نہیں ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ جناح نے جس پاکستان کی تخلیق چاہی تھی یہ وہ پاکستان نہیں ہے۔ انہوں نے پاکستان اس لیے بنایا تھا تاکہ ہندوستان میں بسنے والے مظلوم لوگوں کو ایک ایسی ریاست فراہم کی جاسکے، جس میں عوام خوشحال ہوں اور انہیں تمام انسانی اور شہری حقوق میسر ہوں۔
ویتنامی اور چینی انقلابی ادب پڑھنے والے رسول بخش پلیجو نے اپنے طرز سیاست میں ان تمام سیاسی حکمت عملیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی جوکہ انقلابی سیاست میں ماضی میں ہوتی آئی ہیں۔ جس زمانے میں انہیں کوٹ لکھپت جیل میں سیاسی قیدی کے طور پر رکھا گیا، تب انہوں نے جیل میں ایک کتاب ”کوٹ لکھپت جو قیدی“ لکھی، جو کہ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب ایک جیل ڈائری ہے۔ اور اس میں سیاسی باتوں سے لے کر ادب، فن اور لتا منگیشکر کے گیتوں کا بھی ذکر ہے۔انہیں فنِ تقریر میں تو ملکہ حاصل تھا ہی، مگر سندھی ادب میں تنقید نگاری اور شاھ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا ایک نیا تعارف بھی انہوں نے پیش کیا جو کہ اس سے قبل کسی نے بیان نہیں کیا تھا۔ جی ایم سید نے شاھ لطیف کو سندھ کا قومی شاعر قرار دیا مگر رسول بخش پلیجو نے کہا کہ شاھ لطیف ایک انقلابی شاعر ہے۔ جوکہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کمزور ہوکر بھی طاقتور کیسے بنا جائے۔ دکھوں کے ہوتے بھی حوصلے کیسے بلند رکھے جائیں، اور جس انداز سے وہ شاہ لطیف کے اشعار پڑھا کرتے تھے اس کے بعد کسی تشریح کی ضرورت کبھی پیش نہیں آتی تھی۔
رسول بخش پلیجو وہ سیاستدان تھے جو کہ ذرے سے ذخیرہ بنانے کا ہنر جانتے تھے۔ کوٹ لکھپت جیل سے آزاد ہونے کے بعد جب ان کی پارٹی سیاسی بحران کا شکار ہو کر ٹوٹ گئی تب بھی وہ اپنے سیاسی مشن کو جاری رکھے ہوئے تھے۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں نے کئی بار صفر سے ابتدا کی ہے۔ اس لیے اگر میں اکیلا بھی رہ گیا تو پھر سے صفر سے ابتدا کروں گا۔ انہیں اس بات کا بھی اندازہ تھا کہ کس طرح لوگوں کو سیاسی دھارے میں شامل کرکے انہیں سیاسی طور پر تیار کیا جاسکتا ہے۔گوکہ انہیں قوم پرست سیاستدان تصور کیا جاتا ہے مگر انہوں نے کبھی بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا، کیوں کہ ان کا ماننا تھا کہ یہ سیاسی طور پر ایک سیاستدان کو محدود کر دیتا ہے۔ تمام تر سیاسی اختلافات رکھنے کے باوجود جب بھی کسی سیاسی شخصیت پر مشکل وقت آتا وہ ان کی مدد کرنے پہنچ جاتے۔
رسول بخش پلیجو ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ جہاں انہوں نے ملکی سیاست پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں، وہاں انہوں نے ادب، فنون لطیفہ اور سماجی طور بہت سے کارنامے انجام دیے ہیں۔ کسی زمانے میں سندھی زبان کے مشہور شاعر شیخ ایاز کو رجعت پسندوں نے گھیر لیا تھا، تب انہوں نے ان کے دفاع میں ایک کتاب ”اندھا اوندھا ویج“ لکھی۔ سندھی ادب میں تراجم سے لے کر تنقید نگاری اور افسانوی ادب تک انہوں نے خوب لکھا۔جس طرح انہوں نے سندھ کے پانی کا مقدمہ اپنی کتاب Sindh-Punjab water dispute میں پیش کیا ہے وہ پڑھنے لائق ہے۔ سندھ میں کالاباغ ڈیم کے خلاف اتنی پراثر جدوجہد نہ ہو پاتی اگر رسول بخش پلیجو اسے عوامی سطح پر پیش نہ کرتے۔عوامی تحریک کی سیاسی جدوجہد سندھ کی تاریخ میں ایک ایسا سنہری دور ہے جس میں سندھ کی عورتوں، طلبا و طالبات اور بچوں کی سیاسی تربیت ہوئی۔ انقلابی گیتوں پر جھومنے والے رسول بخش پلیجو نہ صرف مزاحمت کی علامت تھے بلکہ اپنی ذات میں ایک انقلاب بھی تھے۔ وہ کہتے تھے کہ حقیقی سورما وہ ہے جو کہ اپنی عقل و فہم کا بروقت استعمال کرے۔
اپنی ایک تحریر ”ذہنی و فکری بہادری کیا ہے؟“ میں وہ لکھتے ہیں:
”آج کے زمانے میں حق پرست انقلابی نظریے کے دو اہم اصول ہیں کہ دنیا کی مظلوم عوام اور مظلوم قوموں سے پیار کیا جائے۔ اور ان کے دشمن کا مرتے دم تک مقابلہ کیا جائے۔ سائنسی زبان میں ان اصولوں کو طبقاتی جدوجہد اور قومی جدوجہد کہا جاتا ہے۔ انقلابی اساتذہ نے سکھایا ہے کہ ان دونوں حق پرست جدوجہدوں کا انضمام کیا جائے، تبھی دنیا کے لٹیروں اور ان کے ڈھنڈورچیوں کو اکھاڑ پھینکیں گے۔“
منزل پانے سے زیادہ منزل کے راستے پر چلتے رہنے کے قائل رسول بخش پلیجو ایک اعلیٰ دماغ تھے۔ وہ آج ہم میں نہیں رہے ہیں مگر ان کی سیاسی فکر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔ وہ ان لوگوں کی آواز بن کر جیتے رہے جنہیں انہوں نے یہ یقین دلایا کہ ان کے منہ میں بھی زبان ہے اور وہ اگر چاہیں تو پہاڑ ریزہ ریزہ کر سکتے ہیں۔
پرانے خیالات کو ترک کرنے اور نئے راستے تخلیق کرنے والے رسول بخش پلیجو کئی نسلوں کے آئیڈیل رہیں گے۔
آدمی در عالم خاکی نمی آید بدست
عالم دیگر بباید ساخت وزنو آدمی
(حافظ)
(اس خاکی جہاں میں آدمی نہیں ملتا، ایک نیا جہاں ایک نئے انسان کے لیے چاہیے)
انہوں نے بھی سیاست اور مزاحمت کے ذریعے ایک نیا جہاں تخلیق کرنے کے کوشش کی جس کا عکس ہمیں ضرور اس انسان کی آنکھوں میں نظر آئے گا، جس نے پلیجو صاحب کی آنکھوں میں ان خوابوں کو دیکھا ہوگا جو کہ مظلوم عوام کی خوشحالی کے خواب ہیں۔
( بشکریہ : ڈان اردو )

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*