علی عمران ممتازلکھارینونہال

بارہ سوساٹھ روپے ۔۔ علی عمران ممتاز

میرو ہاتھوں میں بارہ سوساٹھ روپے کی رقم مضبوطی سے تھامے گھرکے صحن میں پڑی چارپائی پربیٹھا کسی گہری سوچ میں گم تھا۔اسے اردگر دکی کوئی خبرنہیں تھی،میرو کی بیوی تاجو کمرے کی صفائی کرکے باہر صحن میںآئی اورمیرو کوگم صم بیٹھا دیکھا تواس کے پاس آکر اسکے کندھے پراپناہاتھ رکھ کراسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔ ’’ کیا سوچ رہے ہو ؟‘‘
’’میں سوچ رہاہوں کہ اتنی بڑی رقم مون کے پاس کہاں سے آئی؟‘‘میرو نے گہری سوچوں کے تسلسل کوتوڑ کر اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’اب کیاسوچ سوچ کراپنا دماغ خالی کرناہے ،آئے گاتواسی سے پوچھ لینا‘‘ اس کی بیوی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’تاجووہ ہمارا بیٹا ہے اوراس کے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی ہے پوچھنا ہمارا فرض ہے ؟‘‘میرو نے جواباََاپنی بیوی سے کہا۔
’’یہ بات میرے ذہن میں بھی ہے اور تو اوریہ کہ اس نے یہ رقم بنوں خالہ کو کیوں دی وہ ہم سے بھی مانگ سکتی تھیں‘‘تاجو نے تشویش ظاہرکرتے ہوئے اپنے شوہرکی بات بڑھائی۔
’’خیرمون سکول سے آجائے تواس کی خبر لوں گا۔ابھی تو میں سونے لگاہوں

رات بھرفیکٹری میں کام کرکے تھک گیاہوں‘‘میرو نے چارپائی پربیٹھے ہوئے کہااور اپنی آنکھیں بندکرلیں۔بارہ سوساٹھ روپے کی رقم ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھی جو آگے بڑھ کرتاجونے اس کے ہاتھوں سے نکال لی اورکچن میں چلی گئی۔
مون میرواورتاج بی بی کی اکلوتی اولاد تھا۔میروایک فیکٹری میں ورکرتھا۔ ماہانہ آمدنی اتنی نہیں تھی کہ گھر کاگزربسر اچھے طریقے سے ہوتا کیونکہ جس مکان میں وہ رہتے تھے وہ بھی کرائے کاتھا۔میرو نے مون کوبہترتعلیم دلوانے کیلئے سکول بھی داخل کروادیاتھا ۔جبکہ وہ خودان پڑھ تھااورسوچتاتھااگر وہ پڑھالکھاہوتا توکسی سرکاری دفتر میںیاکسی اورجگہ معقول تنخواہ پرکام کررہاہوتا اورمالی مسائل بھی نہ ہوتے یہی سوچ کر وہ مون کوتعلیم دلوارہاتھا کہ وہ پڑھ لکھ کرکسی اچھی محکمے میں نوکری کرکے اپنے والدین کے بڑھاپے کاسہارا بنے گا۔
آج صبح مون کے اباجب فیکٹری سے رات کی ڈیوٹی کرکے گھرآئے اس وقت تک مون سکول جاچکاتھا۔صبح 9بجے کے قریب محلے کی خالہ بنوں ان کے گھر آئیں۔حال احوال کے بعد خالہ بنوں نے مون کا پوچھا تواماں تاجو نے بتایا وہ سکول گیا ہے ۔خالہ بنوں نے بارہ سوساٹھ روپے کی رقم میرو کے ہاتھ میں دیتے ہوئے اسے بتایاتھاکہ میری ایک مشکل میں مون نے مجھے یہ رقم دی تھی اللہ اس کابھلا کرے ۔ اگر وہ میری مدد نہ کرتا تومجھے بہت نقصان ہوتا۔یہ کہہ کر خالہ بنوں بارہ سوساٹھ روپے میرو کے حوالے کرکے چلی گئیں۔جبکہ میرو اوراس کے بیوی حیرت کابت بنے رہے۔
دونوں میاں بیوی پریشان تھے کہ اتنی بڑی رقم مون کے پاس کہاں سے آئی؟ جبکہ مون نے صرف تعلیمی اخراجات کے لئے ان سے کبھی جیب خرچ بھی نہیں مانگا تھا ۔ یہ ایک سوال تھاجسے سوچتے سوچتے دونوں میاں بیوی پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ ڈر بھی رہے تھے کہ کہیں مون نے یہ رقم چرائی تونہیں!
دوپہر کومیرو کھاناکھانے کیلئے اٹھا اس وقت مون بھی سکول سے گھرآگیاتھا۔ تاجو اماں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیاتھا بلکہ جب تینوں دوپہر کاکھانا کھاچکے تو میرونے غصے سے بھرے لہجے میں مون کی طرف دیکھتے ہوئے اسے بارہ سو ساٹھ روپے کی رقم دکھاتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ رقم تمہارے پاس کہاں سے آئی؟‘‘
’’یہ رقم میری تونہیں ہے آپ کوکس نے دی ہے ؟‘‘مون نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہااورساتھ ہی سوال بھی کردیا۔
’’خالہ بنوں دے کرگئی ہیں کہتی ہیں کسی مصیبت میں تم نے ان کی مدد کی تھی ‘‘ میرو کی بیوی اب کی بار سخت لہجے میں بولی۔
’’خالہ بنوں کی بیٹی بیمار تھی اس کے پاس ڈاکٹر سے دوائی لینے کے پیسے نہیں تھے اس نے مجھے کہا تومیں نے یہ رقم انہیں دی ‘‘مون نے بتایا۔
’’وہ توٹھیک ہے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنی چاہیے مگر یہ بتاکہ اتنی ساری رقم کہاں سے آئی تمہارے پاس ‘‘اماں تاجو نے پیارسے پوچھا۔
’’کہیں سے چور ی کی ہوگی ‘‘میرو غصے سے بولا تومون نے اصل بات بتانے کا ارادہ کرلیااورکہا۔
’’چھ ماہ پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جس راستے پربھی چلتا تھا وہاں سے مجھے سکے ملتے تھے اس دن کے خواب کے بعد مجھے روزانہ کہیں نہ کہیں سے راہ چلتے سکے ملنے لگے۔کبھی 1روپے توکبھی دو روپے کے سکے ،یہاں تک کے دس روپے اوربیس روپے کی نوٹ بھی مجھے راہ چلتے گرے ہوئے ملے،میں نے ایک غلہ خریدا اور سارے پیسے اس میں ڈال کرجمع کرنے لگا کہ کبھی پیسوں کی ضرورت پڑی تونکال لوں گایہ بات میں نے آپ دونوں سے چھپائی ہوئی تھی اورراہ چلتے پیسے ملنا میرے لیے معمول بن گیاتھاکچھ دن پہلے میں نے مسجد کے امام سے اس کاذکر کیا توانہوں نے کہا زمین پرپڑے پیسے امانت ہوتے ہیں اگروہ کسی کے گرگئے ہوں تواللہ کی راہ میں انہیں خرچ کردیاجائے اس کاثواب مجھے بھی ملے گااورجس کے پیسے ہیں اسے بھی ملے گااورکسی مصیبت ذدہ کی مدد بھی ہوجائے گی ۔3دن پہلے بنوں خالہ مصیبت کا شکار تھیں انہیں پیسوں کی ضرورت تھی اس لیے میں گلہ توڑ دیا جورقم اکٹھی ہوئی تھی وہ انہیں دے آیا جبکہ میں نے واپسی کاتقاضہ بھی نہیں کیاتھا‘‘
مون کی باتیں سن کرمیرو اوراس کی بیوی کی آنکھوں میں خوشی کے مارے آنسو نکل پڑے ،وہ بہت خوش تھے اپنے بیٹھے کی حکمت عملی اورکفایت شعاری پردونوں میاں بیوی خود پرنازاں تھے اوراللہ کاشکر ادا کررہے تھے کہ انہیں مون کی صورت میں خوددار بیٹادیا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker