“تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں” ۔۔علی نقوی




کہتے ہیں کہ انسانی ذہن تصویروں کی صورت میں سوچتا اور چیزوں کو یاد رکھتا ہے، اسی لیے جب بھی کسی شخص یا شئے کا نام لیا جاتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلے اس شخص یا شئے کی تصویر ابھرتی ہے.
میں جب بھی لفظِ بھٹو سنتا ہوں تو ایک پکچر گیلری میرے دماغ میں کھل جاتی ہے،
کہیں بھٹو کی شادی کی تصویر نظر آتی ہے..
کہیں بھٹو صاحب سگار پیتے ہوئے نظر آتے ہیں،
کبھی یونائیٹڈ نیشن کی جنرل اسمبلی میں کاغذ پھاڑتے نظر آتے ہیں،
کہیں کہیں کسی جلسے میں وہ بھٹو نظر آتا ہے کہ جس کی تقریر نے لوگوں کے دل گرما دئیے ہیں،
کہیں بھٹو صوفے پر بیٹھے ہیں اور ایک چھوٹی بچی ان کے کان میں سر گوشی کر رہی ہے اور بھٹو اسکو تمانیت سے دیکھ رہے ہیں.
کہیں بھٹو پہاڑوں میں اپنے بچوں کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے ہیں.
کبھی بھٹو اور اندرا گاندھی کوئی معاہدہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں..
کہیں بھٹو اسلامی ممالک کانفرنس میں قزافی اور یاسر عرفات کے ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں..
کبھی بھٹو سکول کے بچوں کے ساتھ جیوے جیوے گاتے اور تالیاں بجاتے نظر آتے ہیں..
بھٹو ہسپتال کے کمرے میں بیڈ پر لیٹے ہوئے ہیں اور ایک چھوٹی سی بچی انکے بیڈ کے ساتھ کھڑی اپنے ہی کسی کام میں مشغول ہے..
اور کبھی یہ تصویر بھی نظر آتی ہے کہ ایک تنگ و تاریک کمرہ ہے اس میں ایک چارپائی پر ایک شخص لیٹا ہوا ہے اس پر ایک چادر پڑی ہے اور کچھ لوگ جو حلیے سے مزدور کسان ٹائپ لگتے ہیں ایک صف بنا کر کھڑے ہیں اور اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ بھٹو کا جنازہ ہے.
بقول ساحر لدھیانوی:
“تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں”
ایک آدمی ٹی وی بیٹھ کر کہتا ہے کہ بھٹو غدار تھا لوگ اس کو اس سب بکواس کے باوجود ضیاءکہتے ہیں.
لفظِ بھٹو سنتے ہی دماغ میں ایک لڑکی کی تصویر بنتی ہے جو بڑے فریم والی عینک پہن کر بڑے بڑے مجموں میں گھری ہوئی ہے.
لوگ کہتے تھے کہ یہ بھٹو کی بیٹی بینظیر ہے.
کبھی میرے گھر کے اوپر سے وہ جہاز گزرتا نظر آتا ہے کہ جس میں سے پمفلٹ گرا کرتے تھے کہ جس میں ایک لڑکی کا سایہ چھّپا ہوتا تھا اس حالت میں کہ وہ ساحل پر بیٹھی ہوئی ہے اور بتانے کی یہ کوشش کی گئی ہے کہ وہ ننگی ہے، اس پمفلٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ہے بینظیر کی اصلیت، اس پر یہ لکھا ہوتا تھا کہ کیا ایسی عورت کو وو¿ٹ دو گے؟
پھر اسکی شادی کی تصویر نظر آتی ہے جس آدمی سے اسکی شادی ہو رہی ہے اسکے بارے میں لوگوں کی رائے اچھی نہیں ہے.
پھر وہ لڑکی بڑے بڑے جلسوں میں تقریریں کر کے لوگوں کو یہ بتارہی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کیا ظلم کیا گیا.
وہ بتاتی ہے کہ کہ میرے باپ کو بیگناہ پھانسی دی گئی.
مجھے اور میری ماں کو چار سال ہمارے اپنے ہی گھر میں بیگناہ نظر بند رکھا گیا.
پھر ایک تصویر بنتی ہے کہ وہ چہرے پر مسکان سجائے پرائم منسٹر کا حلف لیتی ہے.
پھر ایک تصویر بنتی ہے کہ ایک بہت ہی وجیہہ آدمی ہے شیر جیسا اسکو سڑک پر مار دیا گیا ہے، وہ بینظیر کا بھائی ہے.
تصویر بنتی ہے کہ جس میں بینظیر اور نصرت بھٹو کالے لباس میں ملبوس ہیں، دونوں کی آنکھیں اور چہرے رو رو کر سوج چکے ہیں.
وہ رو رو کر اپنی وہی گھسی پٹی کہانی سنا رہی ہیں اور ایک جم غفیر ان کے ساتھ بین کر رہا ہے.
(سوائے بینظیر کے سب مانتے ہیں کہ وہ قتل اسکے اپنے شوہر نے کیا تھا)
تصویر بنتی ہے بینظیر یہ بتا رہی ہے کہ کس طرح اسی کی پارٹی کے ایک شخص نے اسی کی حکومت گرا دی ہے.
اب تصویریں کم ہوگئی ہیں آصف زرداری جیل میں ہیں اور بینظیر کی پارٹی کے پاس سترہ سیٹس ہیں.
لیکن کبھی کبھی کہیں سے کوئی تصویر آہی جاتی ہے کہ بینظیر کسی جیل کے دروازے کے باہر موجود ہے ایک بچہ گود میں ہے اور ایک نے اسکی انگلی پکڑی ہوئی ہے.
آن تصاویر میں کچھ فوٹو میاں نواز شریف کے بھی ہیں کہ وہ جلسہ عام میں اعجاز الحق کا ہاتھ پکڑ کر کہہ رہے ہیں کہ میں ضیائ الحق شہید کا مشن پورا کروں گا،
وہ کہہ رہے ہیں کہ نہ جانے کہاں سے آ گئی ہے یہ عورت، اس نے آپ سے آپکی پیلی ٹیکسی چھین لی ہے، آپکا روزگار چھین لیا ہے، اسکے باپ نے ملک توڑا تھا اب یہ آپکا چولہا نہیں جلنے دے گی..
پھر پتہ چلتا ہے کہ بینظیر ملک سے چلی گئیں ہیں.
اب کہیں کہیں بینظیر نظر آتیں ہیں کبھی کسی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں لیکچر یا کبھی کسی غیر ملکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے
کبھی بچوں کو پڑھاتے ہوئے تو کبھی اپنی شوہر کی بیگناہی کا ماتم کرتے ہوئے.
پھر کئی سال گزرے ہم نے پھر کچھ تصویریں دیکھیں کہ میاں نواز شریف اور بینظیر لندن میں اکھٹے ہوئے اور میثاق جمہوریت پر دستخط کئے گئے.
بینظیر ملک واپس آئیں خوب تصویریں بنی.
کئی کلومیٹرز پر مشتمل ریلی نے بینظیر کا استقبال کیا.
کار ساز پر دھماکا ہوا.
بینظیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف، پرویز الہی اور بیت اللہ محسود کو اس کا ذمے دار قرار دیا.

اسکے بعد صرف خبر آئی تصویر نہ آ سکی کیوں اس بینظیر کا چہرہ اب شاید دیکھنے کے قابل نہیں تھا..
اسکے بعد تصاویر تو بہت بنی لیکن اس میں بینظیر نہیں تھی
27 دسمبر 2007 کی شام میری زندگی کی اب تک کی سب سے دھشت ناک شام ہے،
میں جن چیزوں پر اللہ کا شکر ادا کرتا ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں ملتان میں رہتا ہوں، یہاں کبھی جلاو¿ گھیرو¿ نہیں ہوتا، توڑ پھوڑ نہیں ہوتی، شازو نادر کبھی ٹائر جلتے ہیں، کوئی بڑا ہنگامہ نہیں ہوتا..
لیکن اس± شام ملتان ویران تھا، ہو± کا عالم تھا، شام خونی تھی رات کالی،
مجھے یاد ہے کہ خبر ملتے ہی تمام لوگوں نے اپنے ان اہلخانہ کو فون کیے کہ جو گھر سے باہر تھے شاید ہر کوئی یہی سوچ رہا تھا کہ اگر بینظیر محفوظ نہیں ہے تو کوئی اور کیا ہوگا.
میرے والد مرحوم اینٹی پیپلزپارٹی تھے لیکن وہ بھی اس± شام بے حد اداس تھے،
میں نے بچپن سے ہی انکو بینظیر اور پیپلز پارٹی کی شدید مخالفت کرتے دیکھا تھا،
اس شام میں نے ان سے مزاقا کہا کہ آپ کو تو خوشی ہوئی ہوگی تو ایکدم بولے کیوں میں انسان نہیں ہوں کسی کی موت پر کیسے خوش ہو سکتا ہوں یہ زیادتی ہوئی ہے،
رات کو باہر نکلے تو جو منظر دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا مجھے ملتان میں کبھی سڑک پر ڈر نہیں لگا لیکن اس± شام لگا،
میں سڑک پر جاتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں اسی دنیا میں وہ آدمی بھی پھر رہا ہوگا، سانس لے رہا ہوگا کہ جس نے ابھی کچھ دیر پہلے بینظیر کے سر میں گولی ماری ہے،
یہ بھی ذہن میں آ رہا تھا کہ پنڈی کے ایک ہسپتال میں بینظیر کی لاش پڑی ہے کہ جس کے متعلق میں یہ سوچ چکا تھا کہ اس بار ووٹ بینظیر کو دوں گا،
تصویر بنتی ہے کہ ٹی وی پر آ رہا ہے انتخابات موخر کر دیے گئے ہیں… دماغ یہ سوچ رہا ہے کہ شاید اب اگلے کئی سالوں تک مارشل لاءہی رہے گا..
اگلی تصویریں بظاہر تو ایک جنازے کی ہیں لیکن ایسے لگتا ہے کہ جیسے پوری قوم مل کر اپنے نصیب کو رو رہی ہے…
چار قبریں
چار لوگ
باپ، دو بیٹے، ایک بیٹی
سب کے سب کی موت غیر طبعی..
ایک اور تصویر بھی ہے وہ دیکھی تو نہیں لیکن محسوس کی ہے ایک ماں ہے جو اس بات سے بے خبر ہے کہ اس کی بینظیر بیٹی اب دنیا میں نہیں ہے.
یہ ہے کل± کہانی اس خاندان کی.
اب قبریں پانچ ہیں
نصرت بھٹو اپنی طبعی عمر پوری کر چکی ہیں.
میں آج سوچتا ہوں کہ کیا یہ لوگ اس قابل تھے کہ ان کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا نہ جانے وہ کون سے گناہ ہیں کہ جن کی سزا ختم ہونے کا نام نہیں لیتی بینظیر کی موت کے بعد میں اکثر یہ سوچتا رہا کہ وہ کون سا غصہ ہے جو بھٹو، شاہنواز اور مرتضیٰ کی موت سے بھی ٹھنڈا نہیں ہوا، جنہوں نے بھٹو کو مارا انکی ایک خواہش پوری نہیں ہو سکی تھی کہ وہ بھٹو کی لاش کو سڑکوں پر گھیسٹ سکتے لہذا یہ خواہش انہوں نے بینظیر کی دفعہ پوری کر لی.
آج جہاں میاں نواز شریف کھڑے ہیں کچھ پرچھائیاں انکے دماغ میں بھی ابھرتی ہونگی میں پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج میاں نواز شریف جن لوگوں کو شدت سے یاد کرتے ہوں گے ان میں ایک بینظیر بھٹو ہے کیونکہ اگر آج وہ زندہ ہوتیں تو تمام مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر وہ میاں صاحب کے ساتھ کھڑی ہو جاتیں…
آخر میں جو لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ بینظیر کی موت کا سب سے بڑا بینفشری کون ہے تو انکو بتاتے چلیں کہ بینظیر کی موت کی سب سے بڑی بینفشری ہماری لوکل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہے کیونکہ جہاں ایک طرف بینظیر کی موت سے اس ملک میں موجود واحد سیاسی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی وہیں دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کے بونوں کو اقتدار کے ایوانوں تک رسائی مل گئی اور آج انہی کا ایک بونا اس ملک کا مسیحا بنا ہوا ہے. یہ بات بہت سادہ ہے کہ اگر بھٹو زندہ رہتے تو نواز شریف جیسوں کے لیے اقتدار صرف ایک خواب رہتا بلکل اسی طرح اگر بینظیر زندہ رہتیں تو عمران خان جیسے کے لیے اقتدار صرف ایک خواہش رہتی جو بینظیر کی موجودگی میں کبھی پوری نہ پاتی.
اس سب کو دیکھتے ہوئے ہم جیسی جذباتی زندہ لاشیں صرف ایک التجا کر رہی ہیں کہ بیشک بلاول اور آصفہ کو اقتدار نہ دو لیکن ان کی زندگی بخش دینا ہمیں اور شہید نہیں چاہیے…

Views All Time
Views All Time
22
Views Today
Views Today
1




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*