علی نقویکالملکھاری

آپ نہیں‌ !! یہ ہیں مثالی خواتین ۔۔ علی نقوی

کیرن آرمسٹرانگ نے سن 2004 میں ایک آرٹیکل لکھا تھا جس کا ٹائٹل تھا From Buddha to” “becham جو کہ دی گارڈین اخبار میں چھپا تھا۔ اس آرٹیکل میں انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ جب لوگوں کے آئیڈیل بدھا جیسی شخصیات ہوا کرتی تھیں جن کی وجہ شہرت اعلیٰ انسانی اقدار اور ان کی تعلیمات ہوتی تھیں لیکن جیسے جیسے انسان آگے بڑھا سائنسی ترقی کی منازل طے کرتا گیا اعلیٰ انسانی اقدار اس کی ترجیحات میں کہیں پیچھے رہ گئیں اور آج زمانہ یہ ہے کہ لوگوں کے آئیڈیل ڈیوڈ بیکھم جیسے لوگ ہو گئے ہیں اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ڈیوڈ بیکھم کوئی غلط آدمی ہے ایک بہت بڑا فٹبال سٹار لیکن جو کیرن آرمسٹرانگ کہنا چاہتی ہیں وہ یہ ہے کہ یہ وہ زمانہ ہے کہ جس میں سطحیت کا راج ہے ہر کچھ دن بعد لوگوں کے آئیڈیل تبدیل ہوجاتے ہیں کم از کم ہمارے معاشرے میں سٹار کی تعریف یہ رہ گئی ہے کہ سٹار یا تو میڈیا انڈسٹری سے ہوگا یا سپورٹس انڈسٹری سے..
ایک اور لفظ ہے جس کے معنی میں بہت ابہام پایا جاتا ہے وہ ہے “Elite” ایلیٹ سے ہمارے یہاں صرف ایک مراد لی جاتی ہے اور وہ یہ کہ ایلیٹ کلاس سے وہ ہوتا ہے جو پیسوں کے لحاظ سے امیر ہو ہمارے ملک کے دانشوروں کو چاہیے کہ وہ یہ ابہام دور کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ ہر فیلڈ کی اپنی ایک ایلیٹ کلاس ہوتی ہے تعلیم کے شعبے کی الگ ایلیٹ ہے تو سیاست کی الگ، کسی بھی شعبے کی ایلیٹ کلاس وہ ہوتی ہے کہ جس کا نقش پا فیشن کے طور پر اپنا لیا جائے مثال کے طور پر پاکستان میں چیریٹی اور فلنتھروپی کی فیلڈ میں ایدھی اور عمران خان صاحب ایلیٹ ہیں کہ اس ملک میں جو آدمی بھی فلنتھروپی کرنا چاہتا ہے ۔ اس کی خواہش ہے کہ یا تو وہ ایدھی بن جائے یا عمران خان، اسی طرح ہر آنے والا گلوکار علی ظفر یا عاطف اسلم بننا چاہتا ہے ہر سٹرگلنگ اداکار فواد خان اور ہر اداکارہ ماہرہ خان بننا چاہتی ہے ہر نئے صحافی کی خواہش ہے کہ اس کو حامد میر مان لیا جائے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنی فیلڈ کے آئیکونز ہیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ہر فیلڈ میں ایک ایسی کلاس موجود ہوتی ہے کہ وہ اس شعبے کی سب سے بہتر کلاس ہوتی ہے اسی کو ایلیٹ کہا جاتا ہے اور ان کا اپنایا ہوا راستہ فیشن بن جاتا ہے..
آٹھ مارچ کو پاکستان میں خواتین مارچ ہوا اور اس کے بعد ایک سلسلہ شروع ہوا جو تھم نہیں رہا جہاں اس مارچ کے حق میں ہزاروں لوگوں نے بات کی وہیں ہزاروں لوگوں نے اس کے خلاف بات کی کئی لوگوں نے اس کو انقلاب سے تعبیر کیا اور کئی نے معاشرتی پستی سے میں اس پر خالد سعید صاحب کا ایک تفصیلی انٹرویو کر چکا تھا لیکن گفتگو ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی اس لیے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں ویسے تو جو تصویر ٹائٹل پر لگائی گئی ہے وہ میرا مدعا بیان کرنے کے لیے کافی ہے لیکن بات کو ذرا کھولنے کی کوشش کرتے ہیں یہ جن خواتین کی تصاویر ہم نے لگائی ہیں اگر ہم ان کے بارے میں یہ کہیں کہ یہ پاکستان کی نمائندہ خواتین ہیں تو یہ بیجا نہ ہوگا محترمہ فاطمہ جناح سے لیکر ملالہ یوسفزئی تک تقریباً ہر دور کی نمائندگی اس کولاج میں ہو رہی ہے اس کولاج میں جتنی بھی خواتین کی تصاویر موجود ہیں یہ وہ خواتین ہیں کہ جو کسی نہ کسی لیول پر معاشرتی مظالم اور زیادتی کا شکار رہیں اگر ہم محترمہ فاطمہ جناح سے بات شروع کریں تو یہ واضح ہے کہ اس ملک کو بنانے میں ان کا حصہ کسی طور پر اپنے بھائی محمد علی جناح سے کم نہیں ہے نوعیت کا فرق ہوسکتا ہے لیکن ملک بننے کے بعد جس طرح کی ہزیمت اور جس طرح کے گندے الزامات ان پر لگائے گئے وہ شرمناک ہی نہیں کسی بھی خاتون کو دہشت زرہ کر دینے اور اس سماج سے نفرت کرا دینے کے لیے کافی تھے، محترمہ نصرت بھٹو کو شاید ہی کچھ سال آسودگی کے نصیب ہوئے ہوں ورنہ تو ساری زندگی اس عورت نے سماج کے ہاتھوں مصائب و پریشانی ہی اٹھائی کبھی شوہر پر غداری کے مقدمات تو کبھی شوہر کی حراست اور آخرکار شوہر کو پھانسی یہاں تک کہ آخری دیدار تک نہ کرنے دیا گیا سالہ ہا سال کی نظر بندی پھر جوان بیٹے کی موت پھر ایک اور جوان بیٹے کی موت بیٹی جلا وطن، بینظیر بھٹو کی زندگی میں جو مصائب باپ کی قید سے شروع ہوئے وہ انکی اپنی موت پر جاکر کہیں ان کے لیے ختم ہوئے،کلثوم نواز جب نواز شریف جیل گئے ان کی رہائی کے لیے تحریک چلاتی رہیں لیکن جیسے ہی حالات موافق ہوئے ایسے منظر سے غائب رہیں جیسے کبھی تھیں ہی نہیں انکی بیماری پر جو پراپگنڈہ کیا گیا اس کو انکی موت نے غلط ثابت کیا، عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کی اس ملک میں سب سے بڑی علمبردار تھیں اس عورت کی جدوجہد اس ملک کے سارے انسانی حقوق کے کارکنوں کی کُل جدوجہد سے زیادہ ہے وہ کونسی گالی اور کونسا الزام ہے جو عاصمہ پر اس ملک کے شدت پسندوں نے نہیں لگایا لیکن جہاں ایک طرف عاصمہ انکو منہ توڑ جواب دیتی رہیں وہیں دوسری طرف اپنے ساتھیوں کو یہ بھی سمجھاتی رہیں کہ تصادم کی طرف نہیں جانا کیوں کہ یہ مسائل کا حل نہیں ہے،
جمائما گولڈ سمتھ جو یہاں جمائما خان کے نام سے مشہور ہوئیں اس معاشرے سے تعلق نہیں رکھتی تھیں لیکن مجال ہے کہ جب تک وہ یہاں رہی اس نے کوئی ایسی حرکت کی ہو جو اس معاشرے کی معاشرتی بنت کے خلاف ہو اور عمران خان سے طلاق کے بعد بھی اس نے عمران خان کے خلاف کوئی بات تو کیا کرنی تھی جب بھی عمران خان کو اس کی مدد کی ضرورت پڑی اس نے خاموشی سے مدد کی اسی عمران خان کی دوسری بیوی کے لچھن اور رویہ سب کے سامنے ہے کہ جو صرف عمران خان دشمنی میں انڈین میڈیا پر بیٹھ کر یہ بتا رہی تھی کہ پاکستان ایک خطرناک ملک ہے اور عمران خان ایک سیکورٹی رسک ہے، منیبہ مزاری ایک ایسی نوجوان لڑکی کہ جس کو اسکے شوہر نے ایک ایکسیڈنٹ کے بعد اس لیے طلاق دے دی کہ وہ اب دونوں ٹانگوں سے معذور ہوچکی تھی جہاں ایک طرف وہ اپنی زندگی کی طرف واپس لوٹی اور خود کو ایک شاندار انسان منوایا وہیں دوسری طرف اس نے کبھی اپنے اس شوہر کو گالیاں نہیں بکیں کہ جو اس جو اس وقت چھوڑ گیا جب شاید اسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، ملالہ یوسفزئی ایک نشان ہے اس عزم کا کہ جو اس ملک کے لوگوں کے دہشتگردی کے خلاف کیا تھا ایک ایسی بچی کہ جو نہ طالبان سے ڈری نہ اس مائنڈ سیٹ سے کس کس طرح کی گھٹیا بات اس ملک کے مردوں نے نہیں کی پہلے تو یہ لوگ یہ ہی نہیں مان رہے تھے کہ اسکو کوئی گولی بھی لگی ہے اس کے بعد کوئی اسکو انگریز کا ایجنٹ کہتا رہا تو کوئی کچھ اور لیکن مجال ہے کہ جو اس نے کبھی انکو پلٹ کر جواب بھی دیا ہو، آخر میں بات کرتے ہیں رتھ فاؤ کی ایک جرمن خاتون کہ جس نے اپنی زندگی کے پچپن سال اس ملک میں ان لوگوں کے لیے وقف کر دیے کہ جو کوڑھ کے مریض تھے کہ جن کے اپنے گھر خاندان والے انکو ہاتھ نہیں لگاتے تھے لیکن اس عورت نے سب قربان کردیا شادی نہیں کی کبھی واپس اپنے وطن نہیں گئی کئی بار اس کے کلینک پر حملہ کیا گیا آگ لگائی گئی لیکن نہ کوئی احتجاج کیا نہ پریس کانفرنس نہ کوئی گلہ کیا نہ شکوہ
ان خواتین کی کہانی شئیر کرنے کی غرض صرف یہ تھی کہ لوگوں کو بتایا جاسکے جدوجہد بنا شور مچائے اور بنا تصادم کئے بھی کی جاسکتی ہے آپ ذرا سوچیں کہ اگر فاطمہ جناح ایوب خان سے تصادم کی راہ لے لیتیں تو کیا ہوتا؟ اگر نصرت بھٹو ضیاء الحق کے خلاف علم بغاوت بلند کرتیں تو اس معاشرے کا اور کتنا نقصان ہوتا؟ اگر بینظیر بھٹو نواز شریف
(کہ جس نے انکی کردار کشی کی کوئی حد نہیں چھوڑی تھی جس نے انکے ساتھ ہونے والے ہر ظلم میں حصہ ڈالا تھا) کے ساتھ میثاق جمہوریت نہ کرتیں تو آج ہماری ریاست اور سیاست کہاں کھڑی ہوتی؟ اگر کلثوم نواز ان وزیروں کو نہ بھولتیں کہ جو نواز شریف کے جیل جاتے ہی وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے اور بیگم کلثوم نواز کا فون تک نہیں اٹھاتے تھے تو آج ن لیگ اور نواز شریف کہاں کھڑے ہوتے؟ اگر منیبہ مزاری اپنے شوہر کے رویے سے دل برداشتہ ہوکر مرد ذات کو ہی ذلیل قرار دے دیتیں تو آج شاید کسی ذہنی عرضے کا شکار ہو کر ڈپریشن کی دوائیں کھا رہی ہوتیں، اگر ملالہ دنیا کے سارے مردوں کو طالبان کی صف میں لا کھڑا کرتی تو کیا آج وہاں ہوتیں جہاں ہیں؟
“میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ شاید کچھ لوگوں کو اچھا لگے لیکن آپ کس طرح اس نعرے کا دائرہ کار عورتوں تک محدود رکھیں گے اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ جیسے آپکا جسم آپکی مرضی ویسے ہی “میری آنکھیں میری مرضی” آپ کس حق کو استعمال کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں آپ کو نہ گھوروں؟
باقی رہ گئی کپڑے پہننے کی آزادی تو ضرور لیجیے لیکن یہ بھی بتائیے کہ اس معاشرے میں مرد کو کتنے مختصر کپڑے پہننے کی اجازت ہے کیا میں ایک مرد ہونے کے ناطے ایک انڈر وئیر میں باہر سڑک پر پھر سکتا ہوں اور اگر ہاں تو کتنی دیر؟ فحش تصاویر خواتین کو بھیجنا واقعی ایک مسئلہ ہے لیکن کیا یہ صرف مرد کرتے ہیں؟ کاش میں آپکو بتا سکتا کہ خاکسار جیسے انتہائی معمولی صورت اور جسامت کے مرد کو کون کون سی خاتون کس کس چیز کی تصاویر بھیجتی رہی ہیں میں تو یہ سوچتا تھا کہ وجیہہ مردوں کو کیا کیا آتا ہوگا؟ ورک پلیس پر جنسی ہراساں کرنا ہمارے یہاں ایک عام بات ہے جس کی روک تھام ہونی چاہیے یہ روک تھام صرف ایک صورت میں ممکن ہے کہ اس ایشو پر قانون سازی کی جائے اس کے لیے عورتوں کی ایک بڑی تعداد اسمبلی میں موجود ہونی چاہیے لیکن یہ بات شاید ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، آپ اس ملک میں کتنی بزنس وومنز کو جانتے ہیں کہ جو اپنا ذاتی کامیاب بزنس چلا رہی ہوں جس کا والیم اربوں میں نہ سہی کروڑوں ہی ہو شاید پورے ملک میں ایک دو ملیں کوئی انکو بتائے کہ آزادی اکنامکس سے جڑی ہوئی ہے آپ تب تک خودمختار نہیں ہوسکتی جب تک آپ کے پاس اپنا ذاتی روپیہ نہ ہو جب تک آپ مرد پر مالی انحصار کر رہی ہیں تب تک آپ اسکی محتاج ہیں اور آپکی مرضی نہیں چلے گی، آزادی سگریٹ پینے سے نہیں پیسہ کمانے سے ملے گی..
اس سب کے باوجود اگر آپ کہیں کہ سارے مرد سُور ہیں تو کبھی معاملہ حل نہیں ہوگا کیونکہ جنہوں نے معاملے حل کرنے ہوتے ہیں وہ اس طرح کی باتیں نہیں کرتے یہ کیسے ممکن ہے کہ سارے مرد غاصب، ظالم اور سُور قرار دے دیے جائیں جبکہ آپ کے ساتھ سینکڑوں مرد اس مارچ میں شامل ہوں؟
جن خواتین کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے ان میں سے سوائے بینظیر اور عاصمہ جہانگیر کے علاوہ کسی کی تصویر مجھے کافی ڈھونڈنے کے باوجود نہیں مل سکی لیکن قندیل بلوچ کی تصاویر جابجا دیکھی گئیں میں قندیل کو غلط نہیں سمجھتا اور اسکو مظلوم بھی مانتا ہوں اسکے حق میں آرٹیکل بھی لکھتا رہا ہوں اور لکھتا رہوں گا لیکن کیا قندیل بلوچ کوئی جدوجہد کر رہیں تھیں؟ کپڑے اتارنا اپنی غریبی مٹانے اور توجہ حاصل کرنے کی کی حکمت عملی تو ہوسکتی ہے جدوجہد نہیں، کیا میشا شفیع جیسی عورتیں (کہ جن کا مردوں کے خلاف بغض سب ہر واضح ہے کہ جس طرح سے انہوں نے علی ظفر پر ایک بے بنیاد الزام لگایا اور اس کو ثابت بھی نہ کر سکیں) اس معاشرے کی نمائندہ ہو سکتیں ہیں؟ کیا ایک عام عورت جو شادی کرتی ہے بچے پیدا کرتی ہے اپنے شوہر کا خیال رکھتی ہے اس کے یہ مسائل ہیں کہ اسکو چھوٹے چھوٹے کپڑے پہنے کی آزادی ہونی چاہیے؟ کیا چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں میں ہونے والا ڈومیسٹک وائلینس اس طرح کے مارچ ختم کر سکتے ہیں؟ اس طرح سے سڑکوں پر ڈانس کرتی سگریٹ اور ہیش پیتی عورتیں اس ملک کے مردوں کو چھوڑیں عورتوں کو بھی اپنی بات نہیں سمجھا پائیں گی کیونکہ یہ ایک قدامت پسند ملک ہے جہاں لوگ قدامت پسندی پر مطمئن ہیں کہ یہی صحیح راہ ہے.
جن عورتوں کے ذکر سے میں نے بات شروع کی ان میں تین عورتیں وہ بھی ہیں جو اس معاشرے سے تعلق نہیں رکھتیں پہلی نصرت بھٹو، دوسری جمائما خان اور تیسری رتھ فاؤ لیکن اگر آپ غور کریں کہ ان تینوں نے بھی اس ملک کی طرزِ معاشرت کی نہ صرف ہمیشہ عزت کی بلکہ اسکو اپنایا جمائما کہ منہ سے اچھا بھی لگتا کہ اگر وہ عمران خان کو کہتی کہ “دوپٹہ اگر اتنا ہی پسند ہے تو خود پہن لو” لیکن شاید ہی اسکی کوئی تصویر جو پاکستان میں لی گئی ہو اور اس میں اس نے دوپٹہ نہ پہنا ہوا ہو، رتھ فاؤ ساری زندگی سر ڈھانپ کر شلوار قمیض میں ملبوس رہی تو کیا یہ مان لیا جائے کہ انہوں نے مرد کی حاکمیت کو قبول کر لیا تھا؟ کیا ملالہ کے لیے اب دوپٹہ اتارنا مشکل رہ گیا ہے؟ لیکن شاید یہ تمام کامیاب لوگ یہ جانتے ہیں کہ تصادم چیزوں کو مزید برباد کرتا ہے اپنے حقوق لینے کے لئے گالیاں نہیں دلیل اور تحمل چاہیے، یہ زمانہ بونے اور بالشتیے کی پروموشن کا زمانہ ہے مجھے تو یہ عورت مارچ بھی ایجنسیوں کی کارروائی لگتی ہے کیونکہ یہ جتنا سطحی اور عمومی تھا اس کی بنت یہ ہی بتاتی ہے کہ کسی طاقتور کو یہ ایجنڈا اس وقت سوٹ کرتا ہے اور عورت پھر استعمال ہو رہی ہے عورتوں کو خود یہ سوچنا چاہیے کہ اگر آپ خود سے کپڑے اتارنے پر مائل ہو رہی ہیں تو مرد کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے ہے؟ یہ آزادی نہیں ایک اور طرح کی قید ہے
شاید کیرن آرمسٹرانگ ٹھیک کہتی ہیں لوگ بدھا کو بھول کر بیکھم کو آئیڈیل ماننے لگ گئے ہیں اور یہی ہم دیکھ رہے ہیں کہ رتھ فاؤ جیسے لوگوں کا کردار قندیل بلوچ کی وڈیوز اور میشا شفیع کے بے سُرے گانوں کے شور میں کہیں دب گیا ہے اور شاید اسکو دیکھنے میں کوئی انٹرسٹڈ بھی نہیں ہے کیونکہ سگریٹ پینا تو آسان ہے لیکن زندگی کسی مقصد کے نام کر دینا بہت مشکل ہے..

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker