شکریہ یوسفی صاحب ۔۔ آپ نے ہمیں ہنسنا سکھایا ۔۔ علی نقوی


mushtaq yousafi
  • 29
    Shares

میں مشہور ٹی وی آرٹسٹ ثانیہ سعید کو ریڈیو کے لیے انٹرویو کر رہا تھا تو میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کے خیال میں کامیڈی کا معیار گر گیا ہے؟ اس سوال کے جواب کے دوران مجھے انہوں نے ایک واقعہ سنایا جو ان کو کسی پروموٹر (جو کہ انٹرنیشنل ایونٹس کے لیے آرٹسٹس فراہم کیا کرتے تھے) نے سنایا کہ یورپ کے ٹور کے لیے لٹریری فگرز کے ناموں پر غور ہورہا تھا تو میں نے یوسفی صاحب کا نام پیش کیا اور تعریفوں کے پُل باندھے۔ آگے بیٹھے ہوئے صاحب نے پوچھا کہ یہ جو یوسفی صاحب ہیں کیا یہ معین اختر سے بھی بہتر ہیں؟؟؟ معین اختر اور یوسفی صاحب کا فرق ایک عام آدمی کو سمجھانا کم از کم میرے جیسے عمومی سطح کے آدمی کے لیے تقریباً ناممکن ہے، لیکن یہاں ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ یوسفی صاحب میں آپ کا نہایت مشکور ہوں کہ آپ اسُ دور میں ہمارے ساتھ رہے کہ جب سلیقے سے بات کرنے والے لوگ ہمارے پاس نہیں رہ گئے۔۔ جہاں ایک طرف چراغ تلے، خاکم بدہن، زر گزشت اور آب گم نے نجانے کتنے ہی چور اچکوں کو مزاح نگار اور کروڑ پتی بنا دیا وہیں کچھ لوگوں کو کڑوی بات میٹھے سُروں میں کہنے کا فن بھی عطا کیا کاش ہم یہ سمجھ پاتے کہ معاشرے کے لئے اہم لوگ کون ہوتے ہیں وہ کون لوگ ہوتے ہیں جو معاشروں کو زندگی بخشتے ہیں ۔ یوسفی صاحب چورانوے برس ہمارے بیچ رہے، حالات کا ہر جبر برداشت کیا اور یقیناً ایک عام آدمی کی نسبت زیادہ کرب سے گزرے لیکن معاشرے کو مثبت راہ اختیار کرنے کی ترغیب دیتے رہے کبھی تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ میں جب بھی یوسفی صاحب کی کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو وہ مجھے ان کی آپ بیتی لگتی ہے جس میں اپنے عہد کا ایک بڑا دانشور اپنے اوپر بیتے ہوئے حالات اور اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات کا مذ اق اڑاتا نظر آتا ہے اور یہ راہ وہ اس لیے لیتا ہے کیونکہ وہ کڑوی سے کڑوی بات کو سلیقے سے کہنے کا فن جانتا ہے اسُ نے معاشرے کو اسُ آنکھ سے نہیں دیکھا جس سے ہم دیکھتے ہیں اسی لیے اس کا قلم اگر کبھی زہر بھی اگلے تو وہ میٹھا ہوتا ہے کہتے ہیں کہ رونا فطری عمل ہے جبکہ ہنسنا سیکھنا پڑتا ہے میں آج یہ اقرار کرتا ہوں کہ یوسفی صاحب ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنہوں نے مجھے ہنسنا سکھایا ہے اسی لیے ہم یوسفی صاحب کو الوداع بھی ویسے ہی کہیں گے کہ جیسے ہم انہیں خوش آمدید کہا کرتے تھے “ہنستے مسکراتے” کیونکہ وہ ہمیں جاتے ہوئے درس دے گئے ہیں کہ اگر ہنستے مسکراتے رہو گے تو لمبی زندگی جیو گے ۔۔

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*