علی سخن ورکالمکتب نمالکھاری

پاکستان بمقابلہ دنیا : تلاشِ گم شدہ / علی سخن ور

سازش کب اور کیوں کی جاتی ہے؟دو جمع دو برابر چار کے اصول کے تحت اس طرح کے سوالوں کا جواب ڈھونڈنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، تاہم انسانی تاریخ اور رویوں کے مشاہدے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سازش کرنے کی ضرورت ہمیشہ ایسی صورت حال میں پڑتی ہے کہ جب مد مقابل کو دوبدو مقابلے میں شکست دینا آسان نہ ہو ۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیے، بڑے بڑے طاقت ور بادشاہوں ، سپہ سالاروں اور اراکین سلطنت کے حالات زندگی پر نظر ڈالیے،ایسے ایسے سورما گزرے ہیں کہ جس علاقے سے گذرتے تھے،اسے فتح کر لیتے تھے،تیر اندازوں اور نیزہ بازوں کے غول کے غول ان کے سامنے بے بس ہوجایا کرتے تھے لیکن جب سازشوں کے جال میں پھنسے تو ایسے بے بس ہوئے کہ قبر تک نصیب نہ ہوئی اور نشان تک باقی نہ رہا۔اگرچہ یہ سب گئے وقتوں کی باتیں ہیں لیکن آج بھی پرانی محسوس نہیں ہوتیں۔جدید ترین جوہری ہتھیاروں سے لیس، اس عہد جدید کا انسان بھی بعض صورتوں میں کامیابی کے حصول کے لیے سازشوں کا جال پھیلانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔بلٹ پروف لباس کے سامنے بندوق کی گولی بے حیثیت ہوجاتی ہے، ویسے بھی لوگوں کا آج اس نظریے پر زیادہ پختگی سے یقین ہے کہ بندوق کی گولی ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتی ، چنانچہ اب ایسے راستے زیادہ جانفشانی سے تلاش کیے جاتے ہیں کہ جن کی مدد سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ گھمانی پڑے۔لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک سچائی ہے کہ ماضی کے مقابلے میں آج سازشوں کا بہت دیر تک پوشیدہ رہنا بھی ایک مشکل کام ہوگیا ہے۔اسے پاکستان کی خوش قسمتی کہیے یا پھر بد نصیبی کہ اپنے قیام کے فوری بعد ہی سے پاکستان کو مختلف قسم کی سازشوں کا سامنا رہا، خوش قسمتی کا لفظ یوں استعمال کیا کہ سازش ہمیشہ اسی کے خلاف ہوتی ہے جسے دوبدو لڑائی میں شکست دینا ممکن نہیں ہوتا۔ اور بد نصیبی کا پہلو یہ کہ ارد گرد پھیلی دنیا کو یہ ادراک ہی نہیں ہو سکا کہ پاکستان اپنے مخصوص جغرافیائی حالات اور یہاں کے لوگوں کی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث عالمی امن اور ترقی میں کس قدر مددگار اور معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستان کو ختم کرنے یا پھر اسے کمزور کرنے کی جدوجہد کی بجائے پاکستان کو مضبوط کرنے کی کوشش میں اقوام عالم اگر یک جان ہو جاتیں تو آج کم از کم جنوبی ایشیائی ممالک کی ترقی اور استحکام ساری دنیا کے لیے قابل تقلید مثال بن جاتا۔پاکستان کو پانی کی فراہمی روک کر ایک ریگزار میں بدلنے کی خواہش بھی ایک ایسی ہی سازش ہے جو عرصے سے پاکستان دشمن ذہنوں میں پروان چڑھ رہی ہے، پاکستان کی طرف بہہ کر آنے والے دریاﺅں پر بند باندھے جارہے ہیں تاکہ پاکستان میں بہنے والے دریا خشک ہوجائیں اور یہاں کے انسان،چرند پرند اور کھیت پانی کی بوند بوند کو ترسنے لگیں، ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اگر بھارتی آبی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز پر مؤ ثر انداز میں نہیں اٹھایا گیا تو2030تک پاکستان میں پانی کا ایسا خوفناک بحران پیدا ہوگا جس سے نمٹنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں رہے گا۔تاہم یہ سچائی اپنی جگہ ایک انتہائی اذیتناک حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام ابھی تک اس معاملے کی سنگینی سے بالکل ہی نا آشنا ہیں، انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ وہ دھیرے دھیرے ایک ایسی دلدل میں پھنستے جارہے ہیں جس میں سے زندہ بچ نکلنا ان کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بھارت نے راستے میں بنائے جانے والے غیر قانونی ڈیموں کی مدد سے دریائے چناب اور دریائے جہلم کے پانی کو تقریبا Nil Position پر پہنچا دیا ہے۔ منگلا اور تربیلا ڈیمز میں اس وقت بمشکل دس روز کی زرعی ضروریات کے لائق پانی باقی ہے۔ 719کے لگ بھگ نہریں ریگستان کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ اس آبی جارحیت کا براہ راست اثر پاکستان میں بجلی کی پیداوار کو بھی براہ راست متاثر کر رہا ہے۔ ارسا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق تربیلا ڈیم میں 3478میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن پانی کی کمیابی کے سبب صرف 600میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔تاہم اس سب کے باوجود عالمی اداروں کا گونگا، بہرہ اور اندھا نظام، پاکستان کا نام دہشت گردوں کی نام نہاد مدد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے بے چین دکھائی دیتا ہے۔یہ سارا سلسلہ دراصل پاکستان کو کمزور کرنے کی سازشوں کا حصہ ہے۔یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جوں جوں پاکستان ترقی اور استحکام کی منزلوں کی جانب مزید تیزی سے بڑھے گا،پاکستان کے خلاف سازشوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ گذشتہ دنوں جناب امتنان شاہد نے بھی ایک رپورٹ میں ایسی ہی ایک سازش کی نشاندھی کرتے ہوئے اس منصوبے کو بے نقاب کیا جو پاکستان اور چین کے تعاون سے بننے والے سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کے لیے بھارت اور امریکا نے تشکیل دیا اور دکھ کی بات یہ کہ ہمارا برادر اسلامی ملک اومان بھی اس منصوبے میں ان کے معاون و مددگار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اومان کے سلطان قابوس اور مسٹر نریندر مودی نے حال ہی میں ایک یاداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اومان کی بندرگاہ ڈوکم پر بھارتی جہازوں کو کسی بھی قسم کی ادائیگی کے بغیر لنگر انداز ہونے اور تیل ڈلوانے کی سہولت حاصل ہوگی۔بھارت ابتدا میں اس بندرگاہ کو ڈیویلپ بھی کرے گا اور بعد میں اس کا سارا کنٹرول بھارتی بحریہ کے پاس چلاجائے گا۔ واضح رہے کہ گوادر اور ڈوکم کا درمیانی فاصلہ 436میل کے لگ بھگ ہے جبکہ اسی طرح کی ایک اور بندرگاہ چاہ بہار، گوادر سے107میل کے فاصلے پر ہے۔بھارت کی یہ ساری سرگرمی بحیرہءعرب میں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لیے ہے تاکہ وہ آنے والے دنوں میں سی پیک منصوبے کو ثبوتاژ کرسکے۔
اسی طرح کی ایک اور سازش کو حال ہی میں شائع ہونے والی ایک کتاب “The Betrayal of India : Revisiting the 26/11 Evidence”میں بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مصنف جرمن نژاد یہودیElias Davidsson نے مختلف حوالوں، عینی شہادتوں اور ثبوتوں کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ ممبئی دھماکے اصل میں ممبئی ڈرامے تھے جنہیں حقیقت کا روپ دینے کے لیے رسوائے زمانہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی راءنے بھارتی میڈیا اور بھارتی عدالتوں سے بھی بھرپور مدد حاصل کی۔مقصد صرف ایک ہی تھا کہ کسی طرح پاکستان کو اقوام عالم میں سکہ بند دہشت گرد ملک کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ مگر ہمیں ایسی داستانوں سے کبھی خوفزدہ نہیں ہونا ہے۔آج سے سو پچاس سال بعد ہمارے بچے اپنے بچوں کو سازشوں کی یہ داستانیں لطیفوں کے طور پر سنایا کریں گے، اور یہ وہ زمانہ ہوگا جب ڈوکم سے لے کر گوادر تک ایک ہی ملک کاجھنڈا لہراتا دکھائی دے گا اور وہ ملک ہوگا پاکستان۔یاد رکھیے پاکستان آنے والے زمانوں کا ایک ایسا سمندر ہے جس کے کنارے ڈھونڈنے کے لیے عمروں کی مسافت درکار ہوگی۔
( بشکریہ : روزنامہ خبریں)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker