ارشد بٹتجزیےلکھاری

مودی کا سیاسی کریا کرم اور شاہ محمود قریشی کی پسپائی ۔۔ ارشد بٹ

عمران خان کی امن کی آشا سے نریندر مودی کی جنگی رنگ بازی کا رنگ پھیکا پڑ گیا۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے انڈین پائلٹ رہا کیے جانے کو دنیا بھر میں نہ صرف سراہا گیا بلکہ امن کی جانب ایک درست قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت یہ سوال اہم نہیں کہ عمران خان نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کا حکم اتنی جلدی میں کیوں اور کس کے کہنے پر دیا۔ پاکستانی حکومت کی بھارت کو مذاکرات کی بار بار پیشکش کو عالمی سطع پر پذیرائی مل رہی ہے۔ پاکستانی حکومت، اپوزیشن اور عسکری قیادت نے جنگ سے اجتناب کرنے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لئے بھارت کے ساتھ مذاکرات پر متفقہ پالیسی اپنا کر دنیا کو مثبت پیغام دیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن کی خواہش اور بھارت سے مذاکرات پر عمران خان کی پہل قدمی کو پاکستان کی کامیاب حکمت عملی کہا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ذرا غور سے دیکھیں تو پاکستانی سفارتی تنہائی اور ناکامی اپنے عروج کو چھوتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان پر بھارتی فضائی جارحیت کی دنیا بھر میں کسی ملک نے مذمت نہیں کی۔ تشویشناک بات کہ پاکستان کے عزیز ترین دوست ممالک نے بھی بھارتی جارحیت کی مذمت کرنے سے پر ہیز کیا۔ ان ممالک میں چین اور سعودی عرب سرفہرست ہیں۔ ایسا لگتا ہے عالمی سطع پر بھارت کا یہ بیانیہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ اس کا فضائی حملہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔
پاکستان کی ناکارہ سفارتکاری کا ایک اور منہ بولتا ثبوت بھارتی وزیر خارجہ کا اسلامی کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جانا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے اسلامی کانفرنس کے احتجاجی بائیکاٹ نے پاکستانی سفارتی تنہائی پر جلتی کا کام کیا۔ اسلامی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں نہ کشمیر کا ذکر اور نہ بھارتی فضائی حملے کی مذمت یا تشویش کا اظہار۔ شاہ محمود قریشی کی بائیکاٹ پالیسی نے اسلامی کانفرنس کا پلیٹ فارم بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی دسترس میں دے دیا۔
حکومت کے قیام کے بعد وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف اور وزیر خارجہ نے اوپر تلے بیرونی ممالک کے کئی دورے کیے۔ اس کے باوجود سفارتی ناکامی اور تنہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ محترم شاہ محمود قریشی نہ جانے کن سفارتی کامیابوں پر اتراتے پھرتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے او ای سی کے بند کمرے کے اجلاس میں بھارتی مذمتی قرارداد کو بڑا سفارتی کارنامہ گردان رہے ہیں۔ مگر کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں بھارتی حملے کی مذمت اور کشمیر کا ذکر نہ ہونے پر پاکستانی وزیر خارجہ کو کسی قسم کی پریشانی لاحق نہیں ہوئی۔
قرائن بتاتے ہیں کہ عمران خان ڈالر جمع کرنے اور اپوزیشن کو سبق سکھانے میں اتنا کھو چکے ہیں کہ انہیں بھی ملک کی سفارتی تنہائی اور ناکامی کا احساس نہیں ہو رہا۔ وہ شاہوں اور ولی عہدوں کی ڈرائیونگ کر نے اور ان سے دوچار ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنے کو ہی کامیاب ڈپلومیسی سمجھ بیٹھے ہیں۔
بھارت کی جانب نظر دوڑائیں تو بھارتی وزیر آعطم نریندر مودی کے جنگی جنون کو بھارت کے اندر سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعتوں، امن کے حامی تجزیہ نگاروں، سول سوسائٹی اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ مودی پلوامہ ہلاکتوں پر سیاست کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے خلاف جنگی جنون اور انتہا پسند ہندو قوم پرستی کو انتخابات میں کامیابی کی کنجی سمجھتے ہیں۔ مگر سیاسی حالات کا رخ متعین کرنا اب ان کے اختیار سے باہر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بھارتی جنگی ہوائی جہاز بالا کوٹ پر حملہ کر کے لاشوں کے انبار کیا لگاتے، وہ الٹا اپنے دو جنگی جہاز تباہ کروا بیٹھے اور ایک جہاز کے پائلٹ کو پاکستان کا جنگی قیدی بننا پڑا۔ہوائی حملوں کے نتائج مودی پر بھاری پڑنا شروع ہو چکے ہیں۔ بالا کوٹ پر فضائی حملوں میں منہ کی کھانے کے بعد عوام سے اصل حقائق چھپانے پر مودی حکومت اپوزیشن سیاسی جماعتوں، پریس اور دانشوروں کے تابڑتوڑ حملوں کی زد میں ہے۔ انتہا پسند ہندو قوم پرستی اور جنگی نعرہ بازی اب مودی اور بی جے پی کے لئے کانٹوں کی سیج بنتا جا رہا ہے۔مودی مقبولیت کی انتہاوں کو چھونے کے بعد زوال کی راہوں پر گامزن ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ پلوامہ ہلاکتوں کے بعد مودی کی جنگی حکمت عملی نے آئندہ الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی کی راہ میں بڑی مشکلات حائل کر دی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کی موثر انتخابی مہم، مودی اور بی جے پی کو شکست سے دوچار کر سکتی ہے۔ بھارتی تجزیہ کار لکھ رہے ہیں کہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں ائیندہ انتخابات میں بی جے پی کے لوک سبھا میں تقریبا ایک سو نشستں کم لینے کے واضح امکانات نظر آ رہے ہیں۔ انتہا پسند ہندو قوم پرستی اور جنگی جنون بالآخر مودی اور بی جے پی کی سیاست اور حکومت کو لے ڈوبے گا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker