عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

ایک ”کمینہ “ کالم !۔۔عطا ءالحق قاسمی

شاعر نے جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے والے مصرعے میں ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی کی بات کی تھی جو بالکل ٹھیک تھی اسی طرح کائنات کا تو پتہ نہیں۔ البتہ ہمارے معاشرے میں جدھر نظر اٹھتی ہے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والے لوگ جوق در جوق نظر آتے ہیں اور یہ لوگ معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہیں۔ہمارے ایک بزرگ ادیب ہوتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں دولت دنیا سے بھی نوازا تھا اور بے پایاں عزت بھی بخشی تھی۔لیکن وہ ہر وقت گرمل کرتے رہتے تھے ان کی باتیں سن کر لگتا تھا کہ وہ مظلوم ترین شخص ہیں لگتا تھا کے حکومت نے انہیں بلوچستان سے بھی زیادہ حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ہم سب دوستوں کو ان کے بارے فکر لاحق رہتی تھی کہ کہیں یہ ”محروم“ ادیب اسی صدمے کے نتیجے میں ”مرحوم“ ادیب نہ ہو جائیں چنانچہ ہم میں سے ہر کوئی حسب توفیق ان کی دلجوئی میں لگا رہتا تھا جب صدر پاکستان کی طرف سے انہیں ان کی اعلیٰ ادبی خدمات پر پرائیڈآف پرفارمنس دیا گیا تو ہم سب بہت خوش ہوئے میں اس سے اگلے روز ڈاکٹر وحید قریشی کے پاس بیٹھا تھا تو میں نے ان سے اس حوالے سے اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا اب کم از کم آپ کے دوست ادیب گرمل کرنا بند کر دیں گے۔یہ سن کر ڈاکٹر وحید قریشی بولے مگر وہ تو یہاں سے ابھی اٹھ کر گئے ہیں وہ ایوارڈ پر خوش ہونے کی بجائے بہت پریشان نظر آ رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ اب یہ ایوارڈ اگلے سال کسی اور کو مل جائے گا۔متذکرہ ادیب ادب سے متعلقہ سرکاری اداروں اور بااثر ادیبوں کو بے شمار خط لکھا کرتے تھے جو گلے شکوےسے شروع ہوتے تھے اور گلے شکوے ہی پر ختم ہوتے تھے انہوں نے سب سے زیادہ خطوط اکیڈمی آف لیٹرز کے سربراہوں کو لکھے چنانچہ ایک دفعہ ایک سربراہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں روزانہ موصوف کے تین چار خط ملتے ہیں یہ کہہ کر وہ ہنسے اور کہا مجھے لگتا ہے ہمارے ادارے کو ان کے لیٹرز ہی کی وجہ سے اکیڈمی آف لیٹرز کہا جاتا ہے۔
میں اپنے اس ادیب دوست کے ناشکرےپن اور دوسروں کی خوشیوں میں شریک نہ ہونے کے رویے سے بہت ناخوش تھا چنانچہ میں نے ایک دن ایک ایسی حرکت کی جس کا مجھے بعد میں بہت افسوس ہوا کیونکہ یہ حرکت ان کے لئے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی تھی۔ایک دفعہ ان کے گھر کے قریب سے گزرتے ہوئے میں نے انہیں دروازے پر کھڑا دیکھا تو رک گیا اس زمانے میں میرے پاس لمریٹا اسکوٹر ہوتا تھا انہوں نے بیٹھنے کے لئے کہا میں نے اسکوٹر ان کے گیراج میں کھڑا کیا اور ان کی وسیع وعریض کوٹھی کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوگیا۔ گفتگو کے دوران اچانک انہوں نے مجھے مخاطب کیا اور کہا۔” آپ کو احمد ندیم قاسمی کے بارے میں کچھ پتا چلا؟ میرا دل دھک سے رہ گیا کیونکہ کچھ دنوں سے وہ علیل چلے آ رہے تھے میں نے گھبرا کر کہا نہیں “خیر تو ہے۔


آپ کو واقعی کچھ نہیں پتہ ، اس بار میرے پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی مجھے یقین ہو گیا کہ ان کے پاس کوئی بہت بری خبر ہے میں نے شدید اضطراب کے عالم میں کہا کیا ہوا ہے انہیں آپ بتاتے کیوں نہیں۔ ان کے چہرے پر دکھ کی لکیریں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔گلوگیرلہجے میں بولے ”مجھے معتبر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ وہ روزانہ سونے سے پہلے آدھا کلو دودھ پیتے ہیں “ یہ سن کر میں ریلیکس تو ہو گیا مگر مجھے غصہ بہت آیا کیونکہ یہ روزانہ آدھا کلو دودھ پینے کی بات انہو ں نے ان کی امارت ثابت کرنے کے لئے کی تھی، جو ان کے لئے ناقابل برداشت تھی ان لمحوں میں میں نے انہیں تنگ کرنے کا فیصلہ کیا جس کی پہلی قسط کے طور پر میں نے کہا جناب !آپ کو تو کچھ علم ہی نہیں وہ روزانہ دودھ ہی نہیں باقاعدگی سے ایک سیب بھی کھاتے ہیں۔ بے شک کسی اور سے بھی پتا کر لیں یہ سن کر ان کا آدھا سانس اوپر اور آدھا نیچے رہ گیا۔لیکن ابھی میری تسلی نہیں ہوئی تھی چنانچہ میں نے جان بوجھ کر مہنگائی کا ذکر شروع کر دیا اور پھر اس حوالے سے اپنی ماہانہ آمدنی جو ان دنوں بمشکل دس ہزار روپے تھی لیکن میں نے مختلف مدوں سے اس میں اضافہ شو کرتے کرتے اسے چالیس ہزار تک پہنچا دیا جو اس دور کے حوالے سے بہت زیادہ رقم تھی۔ میں نے دیکھا کہ موصوف کی حالت غیر ہونا شروع ہو گئی ہے مگر اس کے باوجود مجھے ان پر ترس نہ آیا چنانچہ میں نے آخر میں ت±رپ کا پتہ پھینکنے کا فیصلہ کیا اس کے لئے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پچاس ہزار کے نوٹوں کی گڈی نکال کر میز پر رکھ دی اور کہا ”جناب! یہ پچاس ہزار روپے آپ دیکھ رہے ہیں مگر مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ابھی یہ میرے پاس ہیں گھنٹے بعد نہیں رہیں گے“ میں نے یہ صحیح کہا تھا کیونکہ ہمارے ہمسائے میں ایک کمیٹی ڈلی ہوئی تھی جو اس ماہ میرے جاننے والے ایک خوش قسمت صاحب کے نام نکلی تھی اور میں یہ امانت ان تک پہنچانے جا رہا تھا۔ گھنٹے بعد یہ رقم واقعی میرے پاس کہاں ہونا تھی مگر میں نے محسوس کیا کہ میرا یہ جملہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوا ہے، موصوف کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا ،ہاتھ کانپنا شروع ہو گئے تھے اور زبان میں لکنت آگئی تھی تب مجھے احساس جرم ہوا اور میں نے ڈور لپیٹنا شروع کی مگر میں نے پتنگ اتنی اونچی چڑھائی ہوئی تھی کہ اسے کم وقت میں پوری طرح واپس لانا ممکن نہیں تھا تاہم جو کچھ میرے بس میں تھا وہ میں نے کیا جس سے ان کی حالت تھوڑی بہت سنبھل گئی۔ اللہ مجھے معاف کرے اس روز میری وجہ سے کوئی حادثہ ہو جانا تھا۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker