اختصارئےسندھلکھاری

بلاول بھٹو پہ میرے دو سو روپے ادھار ہیں ۔۔ ابصارحسن

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ٹرین کاروان میں ایک نوری بابا تھا، چہرے پہ جھریاں اور بالوں میں سفیدی سجائے وہ دیوانہ بلاول بھٹو کی جھلک دیکھتے ہی پوری قوت سے بلاول بلاول ایسے پکارتا کہ جیسے مجذوب دیوانگی میں ہوش کھوبیٹھا ہو اور ابھی مجھے کسی نے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے نوری بابا کا یہ جنون پورے دوسو روپے میں خریدا تھا!
پشاور کے وجاہت خان کو جب بلاول بھٹو کے کاروان کا علم ہوا تو وہ وہیں سے دوڑا دوڑا چلا آیا، کراچی پہنچ کر اسے تیز بخار ہوگیا، وہ تپتے بدن کے ساتھ کاروان بھٹو میں دوڑتا رہا، مجمع کی دھکم پیل کی وجہ سے وجاہت کے کپڑے پھٹ گئے، بلاول کی جھلک دیکھنے کے خواہش مندوں نے وجاہت کو دبوچ دبوچ کے جب ادھر ادھر پھینکا تو اس کے جسم پر خراشوں کے جابجا نشان ہیں، میں وجاہت سے پوچھنے کی بھی ہمت نہیں کرپارہا کہ اتنی مشقت دوسو روپے میں کیوں!
حبیب کوٹ ایک چھوٹا سا شہر ہے، یہ شکارپور ضلع میں آتا ہے، دیہی پس منظر والے شہر کی روایت ہے کہ یہاں لوگ جلدی سوجاتے ہیں مگر جب رات تین بجے بلاول بھٹو کی ٹرین نے حبیب کوٹ اسٹاپ کیا تو شاید شہر کا کوئی بچہ بوڑھا اور جوان ایسا نہ ہوگا جو اسٹیشن پر نہ ہو، لاڑکانہ میں صبح چار بجے بلاول بھٹو تقریر کررہے تھے اور کروڑوں روپے خرچ کرکے سیاسی جماعتیں جو مجمع دن کی روشنی میں جمع نہیں کرسکتیں، وہ رات کے اس پہر بلاول بھٹو نے دوسو روپے میں جمع کرلیا۔
ایک سٹیشن پر لوگ اس امید پر کھڑے تھے کہ ٹرین رکے گی تو وہ اس میں سوار ہوجائیں گے، جب ٹرین نہیں رکی تو سینکڑوں نوجوانوں نے دیوانہ وار ٹرین کی جانب دوڑنا شروع کردیا، جب ٹرین گزرگئی تو کوئی بال نوچ رہا تھا اور کوئی بے بسی سے ہاتھ مل رہا تھا اور یہ تلملاہٹ، یہ بے چینی صرف دوسو روپے کی تھی!
حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر صرف بلاول بھٹو کو دکھانے کے لئے ایک لڑکا انتہائی اونچے پول پر چڑھ گیا تاکہ وہاں پی پی کا پرچم لہرائے، وہ پرچم بی بی کا بیٹا دیکھے گا اور اس احساس کے ساتھ وہ نوجوان اپنی ساری زندگی سرشار رہے گا، سنا ہے یہ جان جوکھم میں ڈالنا صرف دوسو روپے کی مار تھی، جنگ شاہی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین نجانے کب پہنچے، باؤشکیل کو شک تھا کہ اسے ٹرین کے پہنچنے کا درست وقت نہیں بتایا جارہا، وہ رات کو ہی ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا اور نگاہیں ریل کے اس ٹریک پر ٹکالیں جہاں سے بھٹو کے نواسے کی گاڑی کو آنا تھا، بلاول بھٹو کو باؤشکیل کا وہ رت جگا اور وہ انتظار سب دوسو روپے میں کتنا سستا مل گیا نا!
میں اس لڑکی کو جانتا ہوں، وہ اپنے حسن کے بارے میں اتنی حساس ہے کہ چہرے پہ دھوپ لگے تو اسے کالا ہوجانے کا خدشہ ہوجاتا ہے، مٹی لگے تو جلد خراب ہونے کا ڈر ہوتا ہے، وہ بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ خواتین کی بوگی میں موجود تھی، اس دن اس نے اپنی ہر نزاکت پر سمجھوتہ کرلیا تھا اور بلاول بھٹو نے یہ سمجھوتہ صرف دوسوروپے میں خریدا تھا!

چلیں یہ تو عام لوگ ہیں، میرے اور آپ جیسے لوگ جو دوسو روپے میں بلاول بھٹو کے لئے بک گئے، وہ بڑے لوگ جن کا کروفر دیکھنے لائق ہوتا ہے، وہ با اثر لوگ جو اپنی ناک پہ مکھی تک نہیں بیٹھنے دیتے، وہ بلاول بھٹو کے کاروان میں بری طرح رُل رہے تھے، اونچی ناک والے ان لوگوں کو غریبوں کے کاندھوں سے اچک اچک کر اونچا ہونا پڑرہا تھا تاکہ بلاول بھٹو کو پتہ لگ جائے کہ یہ بھی قافلہ عشاق کا حصہ ہیں، بلاول بھٹو نے دولال نوٹ گرا کر انہیں بھی کافی سستے میں خرید لیا۔
پاکستان میں کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے لاڑکانہ ریلوے اسٹیشن تک 26 اور 27 مارچ کو جو مناظر تاریخ کے اوراق نے محفوظ کیے، وہ دنیا کے کسی بھی لیڈر کی سب سے بڑی خواہش ہوسکتے ہیں، سرمایہ دار اربوں روپے خرچ کرکے یہ منظر کسی کینوس پہ پینٹ نہیں کرسکتے مگر بلاول بھٹو کو دیکھیں۔ دوسوروپے میں ہی یہ سب کرگئے۔
میں تو کہتا ہوں کہ بلاول بھٹو کو بٹھائیں، وہ گُر پوچھیں، اُس راز کو دریافت کریں کہ صرف دوسوروپے میں یہ سودا کیسے کھرا کیا، اسٹبلشمنٹ نے پہلے نواز شریف پہ اتنی بھاری سرمایہ کاری کی، پھر عمران خان کے لئے اربوں روپیہ پانی کی طرح بہایا گیا مگر وہ کام جو ان دوسو روپے نے کردیا ہے، وہ اربوں روپے نہ کرسکے!
اور ہاں! میرے دوسوروپے بلاول بھٹو زرداری پہ ادھار ہیں۔ کوئی ان سے ملے تو کہہ دے کہ میرا دوسوروپیہ مجھے چاہیے، مجھے زندگی گروی رکھنا ہے، دوسو روپے کے لئے اپنی جان آپ کے نام پر قربان کرنا ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker