ثمینہ سندھو اور ننھی آصفہ کے لیے چند بے جان الفاظ : تیسرا کنارہ / بشریٰ اعجاز


bushra ejaz
  • 14
    Shares

ملکی سیاست کی دنیا اہم اور بڑی خبروں سے گونج رہی ہے۔ بڑے فیصلے اور ان کے خلاف جارحانہ ردعمل۔ (ن) لیگ کی ٹوٹ پھوٹ، شکست وریخت اور شریف خاندان کی برہمی۔ اڈیالہ جیل کی صفائی اور آنے والے دنوں میں بننے والا سیاسی منظر نامہ جو بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ انتخابات، نگران حکومت اور چاروں صوبوں میں بننے والے نئے اتحاد۔ لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے مگر اس بہت کچھ میں لاڑکانہ کی مقامی گلوکارہ ثمینہ سندھو شامل ہے، نہ آٹھ سالہ کشمیری بچی آصفہ ، یہ دونوں چھوٹی اور غیر اہم کہانیاں ہیں، جن کا آنے والے دنوں کے سیاسی منظرنامے سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ چنانچہ انہیں دہرا کر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ البتہ سوشل میڈیا کہ اس پر ثمینہ سندھو نام کی گمنام گلوکارہ کی آواز ضرور گونج رہی ہے، اور وہ ٹھائیں ٹھائیں بھی۔ جس کے بعد وہ معصومہ کوئل یکایک خاموش ہو گئی۔۔۔ شرابی، بد مست اور وحشی تماشائی تتر بتر ہو گئے۔ سازندوں کو قانون کے محافظوں نے ان چھوٹے بڑے کرنسی نوٹوں سے محروم کر دیا، جن کے لیے بدقسمت گلوکارہ ، پیٹ میں چھے ماہ کا بچہ اٹھائے ان غلیظ اور بے رحم تماشائیوں میں آن بیٹھی تھی۔ جو موقع بہ موقع عورت کو نچا کر خوشی حاصل کرتے ہیں۔ اس پر چھوٹے بڑے نوٹ وارتے ہیں۔ اسے بڑھ بڑھ کر داد دیتے ہیں۔ داد دینے کے بہانے اسے چھیڑتے اور ذلیل کرتے ہیں۔ شراب کے نشے میں دھت ہو کر، اسے گالیاں بکتے ہیں اور بکاؤ سمجھ کر، اس کے عورت پن کی تذلیل کرتے ہیں۔ بعد میں اسے کنجری، گشتی اور بازاری گالی بھی منہ بھر بھر کر دیتے ہیں۔ مجرے کرانا اور طوائف بازی کرنا، گانے کی مردانہ محفلیں سجانا اور ان میں گانے والیوں سے من مرضی کا سلوک کرنا۔۔۔ چاہے سندھ کا کلچر ہو یا پنجاب کا۔ بلوچستان کا یا سرحد کا۔ ہر جگہ اسی طرز کی مردانگی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ عورت پاؤں کی جوتی ہی ہے، جسے گلے کا ہار بنانے کو یہ مرد معاشرہ تیار ہوا نہ ہو گا۔ یہی وجہ جہاں موقع ملتا ہے، کہ زور پر مردانگی ظاہر کر دی جاتی ہے۔ ثمینہ سندھو بھی اسی مردانہ بے رحمی کا شکار ہوتی ہے۔ جس ٹھائیں، ٹھائیں نے اس بدقسمت لڑکی کو دفعتاً موت کے گھاٹ اتار ا ہے، وہی ٹھائیں ٹھائیں، مختلف شکلوں میں عورت کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سوچ اور طرز عمل میں تبدیلی آتی، مگر اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ سائنس او رٹیکنالوجی کی ترقی اور تہذیبی ارتقا کے ساتھ، عورت پر ظلم و تشدد اور اسے کم تر سمجھنے کے رویے زیادہ متشدد، زیادہ بے رحم اور زیادہ خوفناک ہوتے جا رہے ہیں۔ پرانے وقتوں میں عورت اگر غیر محفوظ تھی، تو کم از کم زینب اور آصفہ جیسی ننھی بچیاں، غیر محفوظ نہ تھیں۔ ان کے ساتھ جنسی تشدد جیسا معاملہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ چنگیز خان جیسا بد ترین اور بے رحم ،جو انسانوں پر ظلم و تشدد کی نئی نئی ترکیبیں سوچتا تھا، اس نے بھی کبھی کسی مفتوح قوم کی بچی پر ایسی نگاہ نہ ڈالی ہو گی۔ جو زینب، کائنات، مبشرہ اور آصفہ جیسی ننھی بچیوں کو آرے کی طرح چیر کر ان کے ٹکڑے کر ڈالتی ہے۔ اور انسان کتنا پست ہو سکتا ہے، اور کتنا نیچے گر سکتا ہے، یہ سوال پوری انسانیت کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔
آصفہ جس کی عمر آٹھ برس تھی۔ آصفہ جو پہاڑوں کی وادیوں میں اپنے چھوٹے قد کے گھوڑوں کی ایال پکڑ کر، دنیا کو حیرت اور دلچسپی سے دیکھتی تھی۔ آصفہ جس کا بچپن پہاڑوں، چشموں اور جھرنوں سے ننھی ننھی باتیں کرتے گزرا تھا۔ فطرت سے ہم کلامی نے جسے انسانوں کے اندر پھلنے پھولنے والی بدی، سے دور رکھا ہوا تھا۔ جو خدا اور انسان کو تو جانتی تھی، مگر شیطان سے اس کی ہرگز واقفیت نہ تھی۔ وہ ان میں شیطانوں سے واقف نہ تھی جو انسانوں کے بھیس میں آئے اور اسے نشہ آور دوا کھلا کر، بھگوان کے گھر میں لے گئے اور انہوں نے بھگوان کو اس کے گھر سے زبردستی باہر نکال دیا۔ بھگوان دروازے پر کھڑا گڑگڑاتا رہا مگر شیطان نے اس کی ایک نہ سنی۔ آصفہ مندر میں تین دن اسی ظلم، تشدد اور بے بسی کی حد سے گزرتی رہی۔ جس سے زینب گزری تھی۔ وہ بے بسی اور ظلم کیا ہے؟ اس کی شکل اور کیفیت کے رنگ کیا ہیں؟ یہ بیان کرنے کے لیے مجھے موجودہ لغت سے کوئی ایسا لفظ نہیں ملا، جو اس کے مطابق ہو۔ لسانیات کے ماہرین اور اساتذہ کو اس کے واسطے ایک نئی لغت ترتیب دنیا ہو گی۔ تا کہ اخباری کالم نگار اور میڈیائی پرسنز اس سے مستفید ہو سکیں کہ ہم جیسے لوگ اور کچھ نہیں کر سکتے صرف لکھ اور بول ہی سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے دائرہ کار میں اور کچھ ہے ہی نہیں۔ شاید نہ لکھنے اور نہ بولنے سے یہی بہتر ہے کہ اپنے اپنے حصے کی آواز اٹھا دی جائے۔ وہی آواز، جو اس وقت آصفہ کے حق میں، بغاوت کے طول و عرض سے ابھر رہی ہے۔ آصفہ چاہے مسلمان بچی تھی چاہے کشمیری تھی۔ چاہے معمولی اور بے حد عام تھی۔ مگر بہر حال بچی تھی، جسے بھگوان کے گھر میں نوچا، گھسیٹا، مسلا اور کچلا گیا۔ پورا بھارتی سماج جیسے اس ظلم کے خلاف جھرجھری لے کر جاگ اٹھا، اور اس نے جگہ جگہ مظاہرے کر کے ، دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ بی جے پی کی خونخوار چھتری تلے، ابھی بھی کچھ انسان باقی ہیں۔ جو مذہبی خلیج کے باوجود اس انسان کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں، جو ہندو ہے نہ مسلمان ،دلت ہے نہ شودر، گجراتی ہے نہ کشمیری۔ بس وہ انسان ہے۔ اور انسان ہی بھگوان کا روپ ہے اور انسان ہی خدا کا نمائندہ ہے۔ جتنا بھی مسلم کش کہا جائے بھارت کو، مگر بہر حال یہ ماننا ہو گا کہ انسان وہاں بھی بستے ہیں۔ جو ایک ننھی کشمیری بچی کے حق کے لیے سڑکوں پر نکلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اپنی سرکار کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ، چھوٹی بچیوں (چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان) کو درندوں سے بچانے کا حوصلہ۔ آصفہ کیس میں بھارتیوں کی جانب سے گرچہ یہ حوصلہ افزا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جو جسٹس فار آصفہ کے سلوگن اٹھائے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور چلا چلا کر اس ننھی ہرنی کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں، جسے بے رحم شکاریوں نے شکار کر لیا۔ ہو سکتا ہے آصفہ کو انصاف مل جائے۔ ہو سکتا ہے اس کا وہ گہرا جامنی رنگ کا لباس، جو تتلی کی طرح دیو داروں اور چناروں کے پتوں پر پھڑپھڑاتا تھا اور ان پر اپنے شوخ رنگ چھوڑ جاتا تھا، اس پر لگے خون کے گہرے دھبے دھل جائیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نسلی تعصب سے بالاتر ہو کر بھارتی سماج کے کرتا دھرتا مظلوم کشمیری بچی کے حق میں فیصلہ کر دیں۔ مگر بات صرف یہ نہیں کہ آصفہ کو انصاف ملایا نہیں، معاملہ صرف نسلی، علاقائی، قبائلی، مذہبی اور پاک و ہند کی سرحدوں کے آس پاس رہنے والوں کا نہیں۔ اس رویے کا ہے، جو ثمینہ سندھو کے پاؤں میں گھنگھرو باندھتا ہے ، اسے نچاتا ہے اور بعد میں بازاری، طوائف اور کنجری کی گالی دے کر، اس کی ذات کا انکار کرتاہے۔ یہی رویہ عورتوں اور بچیوں کا دشمن ہے، اور انہیں کیڑے مکوڑوں کی طرح تلف کرتا جا رہا ہے۔ اسی کا سامنا ہے، آج کی عورت اور زینب، آصفہ جیسی ننھی بچیوں کو، جب تک ہم اس مردانہ رویے کو نہ بدلیں گے، ہماری عورتیں محفوظ ہو سکتی ہیں، نہ ننھی بچیاں!!!
( بشکریہ : روزنامہ نئی بات )

Views All Time
Views All Time
205
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*