سلام رمضان ، یا دکان رمضان ؟ تیسرا کنارہ / بشریٰ اعجاز


bushra ejaz
  • 6
    Shares

سلام رمضان ، امان رمضان یا دکان رمضان ؟ جب سے دین پر کاروباری رنگ غالب آیا ہے، اور امن پر جنگ ! لگتا ہے، زندگی، مذہب اور امن کے معافی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں! پہلے امن، امن تھا، اور جنگ، جنگ ، مگر وار آن ٹیرر اور نائن الیون نے، جنگ اور امن کے حقیقی معانی تبدیل کر کے رکھ دیئے۔ اس کے بعد، جنگ بھی بکنے لگی اور امن بھی، رہا دین، تو اس کے نام پر جتنی خون ریزی، معلوم تاریخ انسانی میں اس سے قبل ہوئی، لگتا ہے، پچھلے برسوں نے اس کی کسر نکال کر رکھ دی! اسلام، مسلمان اور اسلامی ممالک، سبھی دنیا کے نقشے پر سوالیہ نشانوں کی طرح رقم ہونے لگے! خصوصاً پاکستان، جس نے افغان جنگ کا بوجھ اٹھایا تھا اور لاکھوں کی تعداد میں افغانون کو اپنے ہاں پناہ دی تھی، اس کے بعد ، کبھی بھی اپنے قدموں پر کھڑا دکھائی نہ دیا، اس کے شہر غیر قانونی اسلحہ کے ڈپو بن گئے اور منشیات، بازاروں میں چورن کی طرح بکنے لگی، آدھے پاکستان کی رگوں میں ہیروئن کا زہر اتر گیا۔ اسلحہ جو پٹھانوں کا زیور تھا، اسے ہر کس و ناکس نے چڑھا لیا، رہا مذہب، تو اس کا جتنا تماشہ، پچھلی ایک ڈیڑھ دہائی میں لگا اور شریعت اسلامی کے متعلق جس قدر مغالطے اس دوران سامنے آئے، انہوں نے عباسی عہد کے دینی فتنوں، بحثوں اور معتزلہ کے فتنے کو بھی مات دے دی!
اسلام، جہاد ، اور شریعت اسلامی، سمجھنے کی نہیں، بیچنے اور خریدنے کی چیز بن کر رہ گئے! جن نکات پر سنجیدہ دینی محافل اور مجالس میں، مذہبی سکالر اپنے طالب علموں کو تعلیم دیا کرتے تھے ، ان پر ہر کس و ناکس نے ہاتھ صاف کرنے شروع کر دیئے، نتیجتاً مغالطوں کی فصل تیار ہونے لگی، عام لوگ، دینی معاملات میں الجھنے لگے، اور جب انہوں نے اس ضمن میں، کسی استاد سے رجوع کی ضرورت محسوس کی، تو انہیں ، آن لائن نما، نہایت چرب زبان سجے بنے، میک اپ زدہ خوشبودار عالم جابجا ٹی وی سکرینوں پر نظر آئے جو زنانہ تکالیف سے لے کر، جہاد و اسلام؟ اور طلاق و نکاح سمیت ان موضوعات پر بلا تکلف، گھنٹوں کے حساب سے بولتے دکھائی دیئے۔ جن پر اس سے قبل نہایت احتیاط سے بات کی جاتی تھی، چنانچہ اس طرح دین، مساجد و محافل سے اُٹھ کر، ٹی وی چینلز کی ’’زینت‘‘ بن گیا، عمل کے بجائے، سننے ، دیکھنے اور برتنے کی چیز بن گیا، مغالطے بڑھنے لگے، عالموں کی ریٹنگ کا گراف اونچا ہونے لگا، چینل، سرمایہ سمیٹنے لگا اور نقلی و اصلی کے مابین، فرق تیزی سے مٹنے لگا! گھریلو عورتیں، شریعت اسلامی کے بجائے، ساس نندوں کے جھگڑے، شوہروں کی بے وفائی کے قصے لے کر، آن لائن، عالموں سے ون ٹو ون ہو گئیں اور ریٹنگ کے خود کار آلے نے ان پروگراموں کی مقبولیت کو آسمان پر چڑھا دیا!
سلام رمضان ، امان رمضان ۔۔۔ اور شہر رمضان ، ٹی وی سکرینوں پر کیا کھلے، رمضان کو بھاؤ لگ گیا، پھر تو، اس دکانداری میں ہر کوئی کود پڑا، سارا سال، طرح طرح کی لغویات دکھانے والے، اس ماہ مکرم میں اس قدر ’’اسلامی‘‘ ہو گئے کہ خود اسلام اپنی اس آؤ بھگت پر حیران رہ گیا۔ رمضان کی دکان میں، بہت سا سامان دکھائی دینے لگا۔ نعتیں، ڈفلیاں، نعت خواں، قوال، ،بہروپئے عالم، اور ایسے ایسے لوگ جو مسلمان تو یقیناًہیں مگر مسلمانی کے جملہ آداب سے ناواقفیت پر شرمندہ ہونے کے بجائے اتراتے ہیں۔ اچھے چہروں والی ٹی وی اینکرز اور ڈرامہ آرٹسٹ ، سبھی اس ’’دکانداری‘‘ کا حصہ دکھائی دیتے، کہ اس طرح سال بھر کی کمائی، اس ایک ماہ منور کی برکت سے، ان کی جھولی میں گرنے لگی!
اس دفعہ کا رمضان بھی ٹی وی سکرینوں پر اسی دھوم دھام سے وارد ہوا ہے، جسے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس دفعہ بھی حسب سابق ٹی وی چینلز کی تیاری مکمل ہے جبکہ عوام کی تیاری کا یہ عالم ہے کہ شدید گرمی میں، بجلی نہ پانی، اس پر رمضانسے پہلے، اس ملک کے صوم و صلوٰۃ کے پابند تاجروں کی پیدا کردہ، پری رمضان مہنگائی، جس نے روزہ داروں کی گراں فروشوں کے ہاتھوں درگت بنا دی ہے۔ حکومت کے سستا بازار، اور ان میں بکتی غیر معیاری اشیاء پر ٹوٹتے لوگوں کا حال دیکھ کر معلوم ہوا، حکومت نے ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی اپنا ہوم ورک نہیں کیا جبکہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور گراں فروشوں کی تیاری مکمل ہے۔ جس کی بدولت رمضان کی دکان کو جو بھاؤ لگا ہے وہ کسی اور اسلامی تہوار کو کبھی نہیں لگ سکتا۔ حسب سابق اس دفعہ بھی رمضان کے تمام میڈیائی پروگرام کراچی میں چل رہے ہیں۔ البتہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ان گیم شوز، انعام گھروں، اور کھیل تماشا پروگراموں پر پابندی عائد کر کے ہم پر احسان کیا ہے جو روح رمضان کو مسلسل زخمی کر رہے تھے۔ یہ بدعت دین کے نام پر اس نام نہاد عالم نے شروع کی تھی جسے بہروپ بدلنے اور لہجے تبدیل کرنے پر خصوصیت حاصل ہے۔ یہ عالم گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے اور اپنے ہر رنگ میں ناقابل برداشت ہونے کے باوجود ریٹنگ حاصل کرنے میں سب سے آگے ہوتا ہے۔ لوگوں کی اناؤں کو طرح طرح سے کچل کر اور انہیں ذلیل کرنے کے بعد انعام تھمانے والے اس شخص نے دیگر چینلز کو مال بنانے کا اک نیا راستہ دکھایا جس کے بعد چل سو چل ہو گئی۔ کیسا رمضان ، کہاں کارمضان ، محض اچھل کود، کھیل تماشا، لالچ اور ترغیبیں، جنہوں نے عام آدمی کی عزت نفس سے کھیل کر اسے لالچی اور بھیک منگا بنا دیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق چینل ایک دن میں کروڑوں کی دیہاڑی لگانے لگا، محض دوسروں کی چیزیں بیچ کر اور لوگ دھڑا دھڑ ان انعام گھروں اور لالچ پھیلاؤ پروگراموں کا حصہ بننے لگے۔ ملٹی نیشنل اور کارپوریٹ میڈیا کی چاندی ہو گئی اوررمضان کا حسن جو سادگی میں نمایاں تھا، اپنے خدو خال سے محروم ہو گیا۔ ان گیم شوز کو بند کرنے سے یقیناًبہتری تو آئی ہے مگر اب بھی اس ضمن میں کرنے کو بہت کچھ باقی ہے۔
ٹی وی چینلز پر رمضان کی سجی سجائی ’’دکانوں‘‘ پر اینکرز سے لے کر علماء حضرات تک کے زرق برق لباس، رنگ رنگ کے پکوان اور قسما قسم کے کھانوں کی تراکیب، بیٹی ٹپس اور کوئنز شوز جن میں انعامات بانٹے جاتے ہیں اور لوگوں کی حسرتوں اور خواہشوں سے کھیلا جاتا ہے جب تک ان میں سادگی کا پہلو نمایاں نہ ہو گا ہم اس مقصد کی جانب کبھی نہ بڑھ سکیں گے جس کے تحت ان انعام گھروں اور گیم شوز پر پابندی لگائی گئی ہے۔
جبکہ یہ کارپوریٹ میڈیا رمضان کیش کرانے کے بعد اب عید کیش کرائے گا۔ جب ’’ رمضان کے شہر‘‘ اور ان کے باسی‘‘ اپنے پرانے روپ میں واپس آجائیں گے، اور یوں عید جو کسی زمانے میں اپنی سادگی اور مٹھاس کے ساتھ، اس معاشرے کے ہر گھر میں اترتی تھی، اس میڈیائی چکاچوند میں اپنی پرانی پہچان کو ترستی رہ جائے گی۔ وہ جب جنگ اور امن کے معانی تبدیل نہ ہوئے تھے ، جب اچھا ذہن بکاؤ تھا نہ اچھے لوگ۔ جب رمضان سادہ پیرہن میں امت مسلمہ پر اترتا تھا۔ جب نوع نوع کے مغالطوں کو دین کا حصہ بنا بیچنے کا کاروبار عام نہ تھا۔ جب یہ ماہ مکرم تزکیۂ نفس اور تطہیر قلب کا پیغامبر تھا۔ جب حکومتیں رمضان کے سستا بازار نہیں لگاتی تھی عوام کو حقیقی ریلیف مہیا کرنے کی سال بھر کوششیں کرتی تھی۔ جب دین پر نمائش اور ظاہر دار طبقے کی اجارہ داری نہ تھی۔ وہ معاشرہ کہاں ہے؟ وہ روحِ رمضان کہاں ہے؟
رمضان کے یہ بھاری بھر کم دستر خوان، مہنگے پکوان اور زرق برق لبادہ پوش جو اس طرز سے عام انسان میں محرومیاں بانٹتے ہیں، کیا اس روح رمضان کو واپس لا سکتے ہیں۔ جو اس معاشرے سے چھین لی گئی ہے؟؟؟

( بشکریہ : روزنامہ نئی بات )

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*