Press Review by ISPR

 

 

Foreign Affairs magazine subscription in Pakistan

Subscribe to the Smash magazine

Pakistan Affairs

ڈالڈا

Dalada ka Dasterkhuan Home Delivery world wide

 

Web Development in Rawalpindi

 

 

Boys Hostels in Rawalpindi

 


Subscribe to the Economist magazine

 

 

 

ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں وقت پر پہنچنا غیر مہذب فعل

بچپن سے ہی ہم سب کو وقت کی پابندی کا سبق سکھایا جاتا ہے کہ اگر کسی کو وقت دو تو اسے پورا کرو، ہر کام وقت پر پورا کرو اور اگر کہیں جانا ہو تو وقت پر پہنچو۔

 

Best Current Affairs Magazines

Khawateen Digest

Books by Umaira Ahmed

Baghi by Shazia Khan

 

 


 


 


 

کوئی اگر دیر سے آئے تو ہمیں کوفت ہوتی ہے، ٹرین دیر سے آئے یا فلائٹ میں تاخیر ہو تو غصہ آتا ہے۔

لیکن ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں وقت پر پہنچنا غیر مہذب سمجھا جاتا ہے۔ آپ کو پارٹی میں بلایا جائے اور اگر آپ وقت پر پہنچ جائیں تو ہو سکتا ہے کہ میزبان تیار نہ ہو۔

اس ملک کا نام ہے برازیل۔

برازیل لاطینی امریکہ میں واحد ایسا ملک ہے جہاں پرتگالی زبان بولی جاتی ہے اور جہاں وقت کے بارے میں لوگوں کا جو رویہ ہے وہ پوری دنیا کے برعکس حیران کر دینے والا ہے۔

جب میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو میں رہنے کے لیے پہنچی تو کچھ دوستوں نے مجھے پارٹی میں مدعو کیا۔

مجھے آج بھی جب وہ دن یاد آتا ہے تو بہت خفت محسوس ہوتی ہے۔ عادت کے مطابق میں دیے گئے وقت پر اپنی میزبان کے گھر پہنچ گئی اس نے گھبرا کر دروازہ کھولا اس وقت وہ باتھ روم میں تھی ایک بار تو مجھے لگا کہ میں غلط پتے پر پہنچ گئی ہوں۔

بہرحال اس نے مجھے گھر کے مہمان خانے میں بٹھایا جہاں پر ابھی بھی پارٹی کے لیے لایا گیا سامان بکھرا پڑا تھا۔ مجھے دو گھنٹے باقی مہمانوں کا انتظار کرنا پڑا۔

اس دوران میری میزبان نے تیار ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کا سامان بھی تیار کیا۔ یوں تو پورا کا پورا برازیل ہی لیٹ لطیف ہے لیکن ان میں بھی ریو کے لوگ سب سے زیادہ لیٹ ہوتے ہیں۔

جنوبی برازیل کی ٹیکنو کالج فیڈرل یونیورسٹی کی لیکچرار ڈاکٹر جیکلین بون کہتی ہیں کہ 'کسی بھی پارٹی میں وقت پر پہنچنا برازیل میں برا مانا جاتا ہے'۔ ریو میں تو خاصں طور پر اسے سماجی روایات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

جلدی پہنچنے کا مطلب ہے کہ جیسے آپ بن بلائے پہنچ گئے ہوں۔

برازیل کے لوگوں کا موٹو ہے 'لائف از اے بیچ' یعنی زندگی ایک ٹھراؤ ہے۔ اس سوچ میں اس وقت اور اضافہ ہو جاتا ہے جب آپ روز مرہ کی زندگی ٹریفک جام سے لڑتے ہوئے گذارتے ہوں۔

نتیجہ یہ کہ ریو کے لوگ نہ تو خود وقت کے پابند ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی اور کی پابندی پسند کرتے ہیں۔

برطانوی نثراد فیونا رائے برازیل میں مترجم کا کام کرتی ہیں۔

فیونا کہتی ہیں کہ یہاں غیر تحریری اصول ہے کہ میزبان پارٹی کے طے شدہ وقت کہ بعد پارٹی کے لیے تیار ہونا شروع کر دیتےہیں۔ لیٹ لطیفی تو پرتگالی زبان میں بھی جھلکتی ہے جس میں دیر یا تاخیر سے متعلق الفاظ تو ہیں لیکن وقت کی پابندی سے متعلق الفاظ نہیں ہیں۔

ڈاکٹر جیکلین کہتی ہیں ان کا ایک باس کئی بار یہ کہتا تھا کہ وہ ٹریفک میں پھنس گیا ہے اور جلدی ہی پہنچ جائے گا لیکن اس وقت اس کے گھر کے جیسی آواز فون پر سنائی دیتی تھی۔

برازیل کے لوگوں کا یہ رویہ نیا نہیں ہے پیٹر فلیمنگ نے 1933 میں اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ اگر کوئی جلد باز ہے تو برازیل میں اس کا برا حال ہو جائے گا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ وہاں دیر ہونا ایک ماحول ہے اور آپ اسی ماحول میں رہتے ہیں اور اپ اس کا کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں کی زندگی ہی آرام طلب ہے۔

ریو کی رہنے والی سمعون فرینسوکا اب جرمنی میں کام کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جرمنی کے لوگوں کی وقت کی پابندی سے انہیں پریشانی ہوتی ہے۔ اپنی پہلی ہی میٹنگ میں جب وہ وقت پر پہنچیں تو انھوں نے دیکھا تمام لوگ پہلے ہی وہاں موجود ہیں اور میٹنگ شروع ہونے کے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔

لیکن ریو کے لوگوں نے بھی لیٹ لطیف ہونے کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے۔ آپ کے اوپر وقت پر پہنچنے کا دباؤ نہیں ہوتا لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ کتنی بھی دیر سے پہنچیں۔ فیونا کا کہنا ہے کہ 'ایک بار میں پارٹی میں اتنی دیر سے پہنچی کے بار ہی بند ہو گیا تو زیادہ دیر کرنا بھی ٹھیک نہیں۔

فرانسس موریک کہتی ہیں کہ کاروباری میٹنگوں میں لوگ وقت پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی ایسی میٹنگوں میں بھی آدھے گھنٹے تک کی دیر ہو ہی جاتی ہے اور اس تاخیر کو برداشت کیا جاتا ہے۔

ہمارے مقبول صفحات

سعودی عرب اور امریکہ میں ایران کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق

دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے خطرہ 

 

Teen Time magazine subscription

 

پاکستان کی مدر ٹریسا - روتھ فاؤ

سعودی عرب کے لا پتہ شہزادے

نادیہ کمانچی اولمپک ہیرو