Pakistan Affairs

 

 


Subscribe to National Geographic magazine

 

ڈالڈا

Dalada ka Dasterkhuan Home Delivery world wide

 

 

 

 

 

 


Subscribe to the Economist magazine

 

 

 

پاکستان کی مدر ٹریسا - ڈاکٹر روتھ فاؤ

ڈاکٹر رتھ فاؤ جرمن نژاد پاکستانی ڈاکٹر تھیں۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل دورانیہ جذام کے خاتمے کے لئے وقف کر دیا۔

تحریر ؛    نوشین بشیر

عبدالستار ایدھی کے بعد ڈاکٹر رتھ فاؤ پاکستان کی دوسری شہری ہیں جن کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی ۔

 

 

 

 

 


 


 


 

ڈاکٹر رتھ فاؤ کو انکی کی خدمات کے اعتراف میں پاکستانی شہریت سے بھی نوازا گیا۔ان کی کوششوں کی بدولت عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جن میں جذام یعنی کوڑھ کے مرض پر قابو پا لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ جرمن نژاد پاکستانی ڈاکٹر تھیں۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل دورانیہ جذام کے خاتمے کے لئے وقف کر دیا۔

دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جب روس نے مشرقی جرمنی پر قبضہ جمایا تب ڈاکٹر رتھ ماؤ اپنے خاندان کے ساتھ مغربی جرمنی آئیں۔یہاں انہوں نے طب کے شعبے کو اپنایا۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ ١٩٦٠ میں جرمنی سے پاکستان آئیں۔ڈاکٹر رتھ نے جزام کے مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔جزام کے خلاف جدوجہد کے دوران انھیں کئی مرتبہ مشکلات کا بھی سامنا رہا مگر انہو نے اپنے اس مقصد کو جاری رکھا۔

 

ایم - اے - ایل سی :

میری ایڈ یلیڈ لیپروسی سینٹر صدر کراچی میں واقع ایک ہسپتال ہے جہاں جزام کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی طرف سے ایم اے ایل سی کو اعزازی ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔اپنی وفات سے پہلے تک اس ہسپتال کو چلانے کا کام ڈاکٹر رتھ ماؤ کے ذمے تھا۔ایم اے ایل سی میں ملک بھر سے کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگ علاج معالجے کے لئے آتے ہیں۔ ایم اے ایل سی  نے بحالی کا ایک پروگرام بھی شروع کیا ہے۔جسکے تحت جزام کے مریضوں کے خاندانوں کی کونسلنگ کا کام کیا جاتا ہے۔یہاں اس بیماری کے بارے میں بیداری اور سمجھ پیدا کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔

مدر ٹریسا نے اپنی پوری زندگی بیمار، محتاج اور لا چار لوگوں کے لئے وقف کی۔ مدر ٹریسا کو انکی خدمات کے اعتراف میں نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا۔مدر ٹریسا کی خدمات کے اعتراف میں بھارتی حکومت کی جانب سے انھیں سرکاری اعزازات سے بھی نوازا گیا۔مدر ٹریسا یوگو سلا وین میں پیدا ہوئیں۔

ڈاکٹر رتھ ماؤ کی زندگی بھی اس طرح کی جدوجہد اور انتھک کوشش کی ایک مثال ہے۔ڈاکٹر رتھ ماؤ کو پاکستان کی مدر ٹریسا کہا جاتا ہے۔

 پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے اپنے تعزیتی پیغام میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوۓ کہا کہ انہیں انسانیت اور پاکستانی عوام کے لئے بے لوث خدمات کے لئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

 

ہمارے مقبول صفحات

سعودی عرب کے لاپتہ شہزادے

جرمنی میں برقعہ پر پابندی 

 

Readers Digest in Pakistan

 

جنوبی کوریا میں احتجاج

ہاشمی رفسنجانی