صوبیدار میجر لال ٹوپی ۔۔عباس برمانی


  • 77
    Shares

ناظرین آج پھر ہمارے ساتھ ہیں نامور عسکری تجزیہ کار ، تاحیات اعزازی صوبیدار میجر جناب لال ٹوپی اور ہم ان سے خطے کی دگرگوں صورت حال کے بارے میں سوالات کریں گے اور وہ حسب معمول اپنی فراست مومنانہ کی روشنی میں ان کے سیرحاصل جوابات سے ہمیں مطمئن کریں گے۔۔۔۔۔
اگین ویلکم ٹو دا شو سر ، مشرقی سرحد اور ایل او سی کی دگرگوں صورت حال آپ کے سامنے ہے ،آئے دن انڈیا کی طرف سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور گولہ باری ساری دنیا دیکھ رہی ہے اس سے وہ کیا مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
جی بہت شکریہ دیکھیں یہ کوئی نئی بات نہیں کوئی نیا کھیل نہیں ، اقبال نے فرمایا تھا ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز۔۔۔یہ تیرہ سو سال سے جاری غزوہِ ہند کا تسلسل ہے، جس دن بحیرہ عرب کے ساحل پہ ایک مظلوم خاتون نے فریاد کی تھی یاحجاج۔۔۔ اس دن سے۔۔۔ غزوہِ ہند کے پہلے سالار محمد بن قاسم سے لے کر موجودہ آرمی چیف تک یہ جنگ جاری ہے اور انشاللہ جاری رہے گی۔
لیکن سر یہ کیسا غزوہِ ہند ہے کہ بھارت کی آئے دن کی بمباری کا جواب یہ ہوتا ہے کہ ان کا سفیر پورے طمطراق سے آتا ہے اور ایک خط وصول کر کے جھنڈا لہراتا ہوا واپس چلا جاتا ہے!
یہی تو سمجھنے کی بات ہے۔۔۔ آبنائے جبل الطارق کے ساحل سے لے کر ماورالنہر تک ہماری درخشاں تاریخ ہمارے جن ہتھیاروں کا ذکر کرتی ہے ان میں دو طاقتور ہتھیار کاغذ اور قلم بھی ہیں
قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے اور کاغذ ڈھال سے زیادہ مضبوط دفاع ہے ، اصل بات یہ ہے کہ کون سا ہتھیار کب استعمال کرنا ہے، اور یہ بات آپ کے کسی بھی جاہل سیاست دان کو معلوم نہیں ، کسی بھی سیاست دان سے پوچھیں سٹریٹیجک ڈیپتھ کیا ہے ،شیڈول فور وار کیا ہے ، ففتھ کالم کیا ہے ،ڈیٹرینس کی کتنی اقسام ہیں کسی کو پتہ نہیں ہو گا ، انہیں تو یہ تک پتہ نہیں کہ سی پیک کا آغاز کر کے چین نے کتنی بڑی سٹریٹیجک موو کی ہے ،یہ تک پتہ نہیں ہو گا کہ سی پیک سے ہمیں سالانہ ریونیو کتنا ملے گا۔
سر آپ نے کاغذ اور قلم کے ہتھیار ہونے کا ذکر کیا ،اطلاعات ہیں کہ انڈیا ایک اور طیارہ بردار جہاز بنا رہا ہے اب اس کے پاس دوسری نیوکلیئر سب میرین آگئی ہے بلکہ اس نے خود بنالی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یہی تو یہی تو ۔۔جب آپ نیل کے ساحل سے کاشغر کی خاک تک بکھری ہوئی تاریخ کو بھول جائیں گے تو ایسی ہی بھول بھلیوں میں کھو جائیں گے ،علامہ اقبال نے کیا فرمایا تھا
مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ، بلکہ وہ زیادہ موزوں ہے
طارق چو بر کنارہ اندلس سفینہ سوخت۔۔۔
فتح کشتیاں بنانے سے نہیں کشتیاں جلانے سے حاصل ہوتی ہے اور یہ راز بھارت بلکہ امریکہ تک کو نہیں معلوم۔۔
واہ کیا کہنے سر سبحان اللہ ، میں حضرت علامہ ہی کے الفاظ میں ہی آپ سے سوال کروں گا پس چہ باید کرد؟ اب کریں کیا !
جنگ تو ہوگی اور زیادہ دور نہیں ہے اور مشرقی سرحد پہ ہوگی ،اس کے لئے ہمیں وقت ضائع کیے بغیر مغربی سرحد سے خود کو فارغ کرنا ہو گا ہمیں افغان طالبان کو مضبوط کرنا ہو گا ،ہمیں اپنے بازوئے شمشیر زن قبائل کو بھی مضبوط کرنا ہو گا ، اس کے لئے اگر ہمیں آگے بڑھ کر خوست کنڑ جلال آباد غزنی وغیرہ پر قبضہ بھی کرنا پڑے تو کر لینا چاہئے۔۔۔۔۔
لیکن سر اس کا مطلب تو امریکہ سے براہ راست جنگ ہو گا۔۔
تو ہو جائے ، آج افغانستان کے ستر فیصد رقبے پر طالبان کی حکومت ہے ،روس اور چین طالبان کے ساتھ ہیں اور ہمارے ساتھ بھی ہیں ،امریکہ پوری دنیا میں رسوا ہو چکا ہے ،اب اس کے افغانستان سے دم دبا کر بھاگنے کا وقت آگیا ہے ،وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اس کے لئے سب سے پہلے تو سیاسی حکومت کا خاتمہ کرنا ہو گا ،یہ جاہل سیاست دان ملکی معیشت پر بوجھ ہیں،اور زمین پر بھی بوجھ ہیں ،یہ فہم و فراست سے عاری اغیار کے غلام ،حرص و ہوس کے بندے۔۔۔
سر اس حوالے سے درخشاں تاریخ اور بانگ درا کیا کہتی ہیں ۔۔۔
بیچ میں مت بولیے ،میں ایک سنجیدہ بات کر رہا ہوں ، دیکھیں سی پیک چین کی شہ رگ ہے جیسے کشمیر ہماری شہ رگ ہے ، سیاست دانوں کی بددیانتی کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کا سربراہ فضل الرحمان کو بنایا ہوا ہے، پوچھیں ان جاہل سیاست دانوں سے فضل الرحمن کو چھوڑیں احسن اقبال سے پوچھیں کہ سی پیک کے لئے کتنے چینی ہمارے ملک میں آئیں گے اور کتنے چینی خاندان یہاں آباد ہوں گے، کچھ نہیں پتہ ہو گا انہیں کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہر سویز سے آبنائے ملاکا تک اور باسفورس سے ہرمز تک کسی کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی ۔۔۔۔اب پوری دنیا میں گوادر گوادر ہو گا ۔۔
سر ایک ذرا سا چبھتا ہوا سوال ہے ،نہ پوچھتا مگر یہ سوال کیا جاتا ہے تو جواب دینا پڑتا ہے ، سیاست دان کہتے ہیں کہ پاکستان نے جتنے علاقے کھوئے ہیں وہ عسکری ادوار میں کھوئے جیسے کارگل سیاچن مشرقی پاکستان،اور کچھ حاصل کیے تو وہ سیاسی ادوار میں سب سے بڑی مثال ہے گوادر۔۔
یہ ایک شرپسندانہ سوال ہے وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ فوجی ادوار میں چین اور ایران کو ہزاروں مربع میل بہ رضا ورغبت دے دیے گئے ۔۔۔۔ یہ جاہل اور شرپسند ان اقدامات کے پیچھے نہاں مومنانہ فراست سے یکسر نابلد ہیں یا نظریں چراتے ہیں ،اگر ہم چین کو علاقے نہ دیتے تو ہم بھی بھارت کی طرح اس کے دشمنوں کی فہرست میں ہوتے اور سی پیک بھی نہ بن رہا ہوتا، ایران اس وقت ہمارا دوست تھا ہمیں فوجی اور مالی امداد دیتا تھا ، اگر ہم نے چند ہزار کلومیٹر بےآب و گیاہ ریگستان اور بنجر پہاڑیوں سے وہاں آباد شرپسند بلوچوں سمیت جان چھڑا لی تو کیا برا کیا۔۔ اسی طرح مشرقی پاکستان ہماری معیشت پر بوجھ تھا وہاں کی آبادی کی اکثریت بھارت نواز غیر محب وطن اور ناراسخ العقیدہ برے مسلمانوں پر مشتمل تھی اور سیاچن پہ تو گھاس تک نہیں اگتی منفی ٹمپریچر اور برف، ضیاء الحق شہید نے اس وقت یہی جواب دیا تھا، اور وہ بھی ایک سٹریٹیجک موو تھی انڈیا کو وہاں پھنسا کے آہستہ آہستہ بلیڈ کرنا مقصود تھا اور وہ تیس سال سے پھنسا ہوا ہے اس کا خون آہستہ آہستہ بہہ رہا ہے اور وہ کمزور ہو رہا ہے ۔۔۔نڈھال ہو کے ایک دن گرے گا اور اس کا رام نام ستیہ ہو جائے گا۔۔ حضرت علامہ نے فرمایا تھا
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ۔۔۔
اور
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
شرم ہو تجھ میں تو پانی میں جا کے ڈوب مرے۔۔۔۔
اور ہماری درخشاں تاریخ۔۔۔
خواتین و حضرات وقت ہے ایک بریک کا جس کے بعد جناب لال ٹوپی کی مومنانہ فراست پر مبنی گفتگو جاری رہے گی ہمارے ساتھ رہیے۔۔

Views All Time
Views All Time
345
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*