ڈاکٹرعفان قیصرکالملکھاری

صلیبی جنگ اور وڈیو گیم والا قلعہ : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

اگر ہم موجودہ عالمی حالات کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیرن آرمسٹرانگ کی مشہور کتاب (The Crusades) کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ لڑکپن میں جب وڈیو گیمز کے جنون نے عروج پکڑا تو امریکہ کے سافٹ وئیر ماہرین کی وڈیو گیم StrongHold ہاتھ لگ گئی، یہ گیم کیا تھی ،بس ایک نشہ سا تھا ۔یہ وہ وقت تھا جب نہ مطالعہ اتنا تھا اور نہ ہی کوئی بات زیادہ سمجھ آیا کرتی تھی۔گیم میں آپ کو پرانے زمانے کے قلعے حوالے کردیے جاتے ، آپ کو ہر مشن میں اپنے محل کو مضبوط سے مضبوط کرنے کے ساتھ بہترین فوج تیار کرنا ہوتی تھی۔ آپ کسانوں ،لکڑہاروں کے گھروں سے گیم کا آغاز کرتے، بادشاہ کے محل کے اردگرد جنگی سازوسامان تیار کرنے کی آرمر عمارات قائم کرتے اور وہیں پھر آپ بادشاہ کے دربار کے پاس بیٹھی عوام کو جنگ میں شامل کرتے،اس گیم میں آپ کو لوگوں کو کئی بار سمجھانا پڑتا کہ یہ The Crusades ہے، ہمیں بہت خطرہ ہے، ہمیں خود کو بچانا ہے، جب ایک بہترین فوج تیار ہوجاتی تو آپ یہ لشکر لے کر ہرے جھنڈوں والے کسی قلعے کی طرف نکل پڑتے اور پھر بہترین جنگ ہوتی ،جس میں اگر آپ اچھی ذہانت دکھاتے تو محل کے کسی چور راستے سے فوج داخل کرکے بہترین جنگ لڑتے چلے جاتے،اگر آپ فوج بنانے میں تھوڑی دیر لگادیتے تو پھر ہرے جھنڈے والے آپ کے محل پر آپ سے پہلے پہنچ جاتے ،اور یوں دیر سے جنگ آپ کو جارحانہ ہونے کی بجائے دفاع کے لیے لڑنا پڑتی اور وہ مشن آپ اکثر ہار جاتے۔ کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب کے مطالعہ کے دوران مجھے ہر صفحے پر ایسا لگا کہ میں وہ گیم کھیل رہا ہوں۔ تاریخ میں سب سے پہلے یہ جنگ اس کتاب میں 1096ءمیں دکھائی گئی کہ جب مسلمانوں سے بیت المقدس چھیننے کی کوشش کی گئی ،یہ جنگ تین سال جاری رہی،مگر تاریخ اس سے زیادہ پرانی ہے ، ظہور ِ اسلام سے پہلے یہودی اور عیسائی بہت بااثر تھے، جب ان کی طاقت ٹوٹتی دکھائی دینے لگی ، تو انہوں نے اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا گیا ، مگر اونٹ چرانے والے جاہل عرب اس قدر طاقت ور نکلے کہ انہوں نے بہت جلد عیسائی اکثریت ممالک مصر، شام، عراق ، ایران(آتش پرست)،اسپین،وسط ایشیائی ،آرمینیائی ،آذر بائی جان، کریٹ اور قبرص پر قبضہ کرلیا۔آنے والے سلسلے 1096ءکی جنگ تک جانکلتے ہیں، اس کے لیے پوپ اربن دوم نے عیسائیوں کو اکسایا اور بیت المقدس ،فلسطین اور ملحقہ علاقے فتح کرلیے گئے۔دوسری صلیبی جنگ 1147ءاور تیسری جنگ1189ءمیں لڑی گئی اور اس کا مقصد مشہور مسلمان جرنل صلاح الدین ایوبی کو بیت المقدس کے حملے سے روکنا تھا،دوسری طرف انگلستان کا بادشاہ رچرڈ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس جنگ میں شریک تھا،اس جنگ میں ایوبی کو فتح حاصل ہوئی ،مگر یہ سلسلہ یہاں تھما نہیں۔یہ ایک سے دو سو سال تک چلنے والا صلیبی جنگوں کا پہلا عشرہ تھا۔ دوسرا عشرہ تیرہویں صدی کے اواخر اور چودہویں صدی کے شروع میں ظہور پذیر ہوا، اس عشرے میں انگریز ،ہسپانوی ،جرمن حکمرانوں نے مراکش،تیونس، الجیریا، مصر،لیبیا،سوڈان،چاڈ،یوگنڈا،سینی گال،شام،فلسطین،انڈیا،گمبیا،مالی،گنی وغیرہ پر قبضہ کرکے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی۔ یہ سلسلہ اس کے بعد کسی مہلک بیماری کی طرح تھما نہیں، مگر اس کی شدت میں کمی آگئی۔ برصغیر پاک و ہند میں ایسی شدت جنگ آزادی کے بعد دیکھنے کو ملی ، مگر پھر اڈولف ہٹلر کے آنے کے بعد ، یہودیوں کی طرف اڈولف کی بدترین قاتلانہ پالیسیوں اور جرمنی کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنانے کے جنون نے صلیبی جنگ کا جنون بالکل ختم کردیا۔اڈولف ہٹلر کے بعد عالمی طاقتوں میں کولڈ ورلڈ وار چھڑ گئی اور یوں صلیبی جنگیں اسی جنگ میں ضم ہوکر رہ گئیں۔ 1948ءمیں صہیونی ریاست کے قیام اور اس کو تقویت بخشتی ریاستوں نے آنے والے سالوں میں پہلے عشرے کی یاد تازہ کردی ، مورخ اس عشرے کو Reborn Christians سے منسوب کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ جارج بش سینئر و جونئیر، ٹونی بلئیر ،سرکوزی اور دیگر حکمرانوں کا گٹھ جوڑ تھا۔ اس عشرے میں یہ جنگ بہت مختلف طریقے سے لڑی جانا تھی۔اب یہ ممکن نہیں تھا کہStrongHold کی طرح آپ اپنے محلات کو طاقت ور بنائیں، لوگوں کو ختم ہوتے دین کے واسطے دے کر کسی جنگ کے لیے تیار کرلیں۔ اب ایک ہی طریقہ تھا کہ مسلمانوں کو صفِحہ ہستی سے ختم کردیا جائے،ان کے دین کو بہت بڑی انٹرنیشنل پلاننگ کے ذریعے بدنام کردیا جائے اور ان کے غداروں کو ساتھ ملا کر وفاداروں کو پھانسیوں پر لٹکا دیا جائے اور سب سے بڑھ کر کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ گروہوں کی طرح مسلمانوں کے اندر مذہبی انتشار اور فرقہ واریت کو پھیلا کر اس قدر ہوا دی جائے کہ یہ خود ایک دوسرے کو ختم کردیں۔ ستر کی دہائی کے بعد ،وہ تمام مسلمان حکمران ،جو مسلم ریاستوں کو ساتھ ملا پوری امت کو اکٹھا کرنے جارہے تھے، ان کو چالیس سال کے اندر اندر عبرت ناک انجام تک پہنچا دیا گیا۔کولڈ ورلڈ وار کو بہت ہی عیاری سے استعمال کرتے ہوئے ،جہاں روس کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ،وہیں اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کئے گروہوں کو 9/11 کے بعد دہشت گردی کے ساتھ اس عیاری سے ملایا گیا کہ اسلام اور انتہاپسندی میں فرق ختم کرکے پیش کیا گیا۔عراق ،کویت جنگ کی طرح ،مسلم ممالک کو آپس میں لڑایا گیا،ایک کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا ،اس کو شاباش دی اور دوسری کو بھی اسلحہ بیچتے گئے،یوں اپنی سب سے بڑی کمائی کے ذریعے کو بھی زندہ رکھا اور ہمیں بھی مارتے چلے گئے۔ ناقدین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پچاس کی دہائی کے بعد سے صلیبی جنگ اپنے 1096ء اصل روپ میں لوٹ آئی ہے۔ اگر ہم سب بطور مسلمان ،9/11 کے بعد رونما ہونے والے واقعات کو آپس میں جوڑتے چلے جائیں ،تو معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح عالمی صلیبی جنگ کے تحت مختلف عالمی بہانوں کے ذریعے ہمیں ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے لیے تیار کیا گیا، جہاں خود مناسب لگا ،وہاں براہِ راست ہمیں ختم کرنے کے لیے حملہ کردیا گیا۔ پچھلے چند سالوں میں داعش کا قیام اور شام میں حالات کا اس قدر خراب ہوجانا اور اب عرب ایران کشیدگی اس بات کی غماز ہے کہ ہم بہت برے جال میں پھنسا دئیے گئے ہیں اور The Crusades آج اپنی پوری طاقت کے ساتھ ہماری بربادی کے درپے ہے۔ یہ سب اس قدر طاقت کے ساتھ واپس کیسے لوٹ آیا؟ مسلمان اس قدر تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود اتنی بڑی عالمی سازش کا شکار کیسے ہوگئے؟ ان سوالوں کے جواب ہمیں قرآن میں ملتے نظر آتے ہیں ’ اے ایمان والوں یہود و نصاری کو اپنا دوست مت بناﺅ،یہ ایک دوسرے کے دوست اور محافظ ہیں،اور جو شخص تم میں سے ہوگا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔‘ ایک اور جگہ صاف ہدایت کی گئی ہے ’اگر تم راہ راست کو چھوڑ دو گے تو خدا تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا،جو تمہاری طرح نہ ہوں گے‘۔ ہمارے حکمرانوں نے ان کی چالو ں میں پھنستے ہوئے،دین کی انہی ہدایات کو بھلا دیا۔ اپنے اقتدار کو طول دیتے ہر مسلم ممالک کے حکمران نے ان عالمی طاقتوں کو اپنے لیے ریسکیو کا درجہ دے کر ،ان کی گود میں بیٹھنا شروع کردیا اور یوں صرف چند سالوں کے اقتدار اور پھر عبرت ناک موت سمیٹتے یہ مسلم حکمران ،ان صلیبی و صہیونی طاقتوں کی انگلیوں پر ناچنے لگے۔ عالمی ممالک میں کشیدگی ، نہ تو کسی اسلامی گروہوں کی لڑائی نظر آتی ہے اور نہ ہی ملکوں کی لڑائی نظر آتی ہے، بس عراق کویت جنگ کی طرح صلیبی طاقتوں کی جنگ میں کٹھ پتلی بنے چند حکمران اور ہماری صفوں میں گھس کر ہمیں ہی بدنام کرنے والی اور مارنے والی یہ صلیبی قوتیں آج ہم پر StrongHold کی گیم کی طرح چڑھ دوڑی ہیں۔ ہم نہ اپنا محل مضبوط بنا پائے ہیں ، نہ اپنی عوام کو مضبوط کر پائے ہیں،اس سے پہلے کہ ہم طاقت سمیٹ کر ،ان پر حملہ کی تیاری کرتے ،StrongHold کی طرح وہ مکمل تیاری کرکے ہمیں برباد کررہے ہیں۔ اس گیم کا آخری مشن The Crusades بہت ہیبت ناک تھا،اس میں ہرے جھنڈے والے محل پر چڑھ کر بادشاہ کو قتل کرکے ،اس محل پر ایک جھنڈے لگانا ہوتا تھا،جس پر The Crusades درج ہوتا تھا۔ ہمیں اقبال ؒ کا یہ شعر یاد رکھتے ہوئے اس مشن سے پہلے ہی اپنی امت کو اس بات پر آمادہ کرنا ہوگا کہ وہ صلاح الدین ایوبی کی طرح ،ان صلیبی قوتوں کو شکست دے کر ، ہر محل پر سبز جھنڈا لہرا سکیں۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker