چاچا چام چڑک سے ملاقات: واللہ اعلم / ڈاکٹر اختر شمار


akhtar shumar
  • 10
    Shares

گاڑی فراٹے بھرتی جارہی تھی کہ اچانک محسوس ہوا کہ اس کی آواز تبدیل اور شایدغیر متوازن ہو رہی ہے ۔میں نے بیٹے سے کہا رفتا ر کم کرو او ر گاڑی ایک طرف لگانے کی کوشش کرو ۔کچھ فاصلے پر درختوں کا ایک شاداب جھنڈ سا دکھائی دے رہا تھا ،ہماری گاڑی دھیرے دھیرے اسی جھنڈ کے قریب پہنچ گئی، اسکے ساتھ ہی چھوٹی سی ایک کچی سڑک تھی، مجھے اس طرح کی پُراسرار اور سر سبز و شاداب جگہیں بہت اچھی لگتی ہیں ، نجانے کیوںمیں نے گاڑی کو اسی کچے راستے پر ڈالنے کا کہہ دیا۔ موڑ مڑتے ہی درختوں کے پہلو میں ایک خانقاہ دکھائی دی ۔ پرانے ٹائر وں کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا ۔ کچھ فاصلے پر کافی سارے گدھے چر رہے تھے۔ ایک ادھیڑعمر شخص قریب ہی ایک تھڑے پر روٹی کوچھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر رہا تھا اور اس کے چھوٹے سے ٹرانسسٹر پر عابدہ پروین کی آواز گونج رہی تھی:
یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
گاڑی رکی تو نجانے کہاں سے ایک نوجوان بھی آگیا وہ سیدھا گاڑی کے قریب آیا اور بولا : گاڑی کا کوئی مسئلہ ہے؟ میں نے اسے کہا ہاں ذرا دیکھئے،شاید ہوا کم ہو گئی ہو ۔ اتنے میں تھڑے پر بیٹھے شخص نے آواز دی: ” ادھر آجائیں ،کچھ دیر ریسٹ کر لیں ۔ نوجوان نے کہا: ” آپ ادھر چاچے کے پاس بیٹھیں وہ آپ ہی کو بلا رہا ہے ۔“ میں گاڑی سے اتر کر تھڑے کی طرف چل پڑا ۔بیٹا اس نوجوان کو گاڑی کے ٹائر چیک کرانے لگا ۔ مجھے اس ادھیڑ عمر شخص نے اپنی چٹائی پر جگہ دی ۔ سلام دعا کے بعد بولا: ” یہ بچہ بڑا گنی ہے آپ کی گاڑی کا کوئی مسئلہ ہے تو ٹھیک کر دے گا۔سڑک سے ہٹ کر ہے اس کی دکان پھر بھی لوگ آجاتے ہیں ۔ میں نے کہا: ”یہ چھوٹا سا خوبصورت کچا راستہ تو خود بخود بندے کو ادھر کھینچ لاتا ہے ۔ “ اب وہ شخص بول پڑا: یہ سب خانقاہ کی برکت ہے ۔ میں تجسس سے اس نوجوان جس کانام جاجو بتایا گیا تھا، کی طرف دیکھنے لگا، پھر سوال کیا : ” یہ کون سا علاقہ ہے، کیا آس پاس کو ئی آبادی ہے ؟ “
ہاں یہاں سے قریب ہی کوہی والا پنڈ ہے ۔ادھر کے لوگ بھی اپنے موٹر سائیکل ادھر ہی سے ٹھیک کراتے ہیں ، آپ کچھ اپنا تعارف بھی کرائیں ۔“
میں نے بتایا : ” مسافروں کا کیا تعارف باباجی ! ہم تو ملتان جا رہے ہیں ۔میرے ساتھ میرا بیٹا ہے ۔ گاڑی تو ٹھیک ہی ہے، بس ذرا سستانے کو جی کر رہا تھا اور دوسری بات یہ ہے کہ شاید ٹائر میں ہوا کم ہو گئی ہے مگر یہاں تو مجھے ہوا بھرنے والی مشین نظر نہیں آرہی۔“
بزرگ نے کہا :”جاجو ٹھیک ٹھاک کاریگر ہے۔کوئی بھی مسئلہ ہو یہ چٹکی بجاتے حل کر لیتا ہے آپ بے فکر ہوجائیں۔“ اتنے میں جاجو اور میرا بیٹا وقار بھی ہمارے قریب آگئے ، جاجو بولا: سب ٹھیک ہے ،ٹائر کا مسئلہ نہیں۔بونٹ کھول کر پانی ڈال دیا ہے ،وقار بھی اس پُر اسرار سی جگہ اور لوگوں کو نہایت تجسس سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے جاجو سے کہا : یہ تو ایک خانقاہ ہے تم نے یہاں دکان بھی بنائی ہوئی ہے ؟
جاجو بولا: یہ جو قبر ہے میرے سائیں جی کی آخری آرام گاہ ہے ۔یہ چاچا جی بھی ان کے خاص مریدہیں ۔ یہ ایک زمانے سے ان کی خدمت میں رہے ہیں ، میں بھی پنڈ سے یہاں آتا جا تا ہوں ۔ پنڈ میں میری مکینک کی دکان ہے،یہاں تو بس چند اوزار رکھے ہوئے ہیں ۔کبھی کوئی مسافر لوگ اگر اس طرف نکل آئیں تو میری دیوٹی ہے کہ میں ان کی مدد کروں ۔ اس کٹیا میں چاچا رہتا ہے ۔ میں نے اس بزرگ ( چاچے ) کی طرف دیکھا ۔ وہ مسکرایا اور مجھ پر نظریںگاڑ کر بولا : ” ڈر کاہے جی، ڈر تو بندے کے اند ر ہوتا ہے ۔ “
میرا تو جیسے رنگ اُڑ گیا تھا ، میں ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ اس ویران سی جگہ پر اس ” چاچے “ کو ڈر نہیں لگتا۔میری تو جیسے چوری پکڑی گئی تھی ۔ میں نے قدرے شرمندہ سا ہو کر سر جھکا لیا ،بزرگ بولے :
بندے کے اندر سے خوف کی دیمک ”مر مٹ “ جائے توتبھی زندگی سمجھ میں آتی ہے۔
پھر جنگل بیلے یا ان کی مخلوق اسے کچھ نہیں کہتی۔“
میں نے کہا : ” بابا! ویسے یہ جگہ بڑی پُر سکون ہے ۔ کتنی تنہائی اور خاموشی ہے ادھر۔۔“
بابا نے آہستہ سے کہا: ” ایسی خاموشی اور تنہائی پہلے من میں تخلیق کرنی پڑتی ہے ۔پھر اسے باہر لانے کی کاوش کرنی پڑتی ہے۔ وقار نے جاجو سے دریافت کیا: ” یہ بہت سے گدھے ادھر کیسے ہیں ؟ “
جاجو نے بتایا: ” یہ گدھے نہیں ان میں زیادہ گاؤں کے لوگوں کی گدھیاں ہیں۔ کاشتکار لوگ ان دنوں ان گدھیوں کو گھروں سے نکال دیتے ہیں ، ان کا کام کاج کم ہو جائے تو گدھیاں انہیں بوجھ لگنے لگتی ہیں ۔بس پھر ہر کوئی اپنی گدھی کو آوارہ کر دیتا ہے ، گاؤں کی یہ گدھیاں بے چاری ادھر ادھر ماری ماری پھرتی ہیں ۔ بابا جی نے ایک بڑا سا ٹب مرمت کر ا کے ان کے پانی پینے کے لئے ” مختص “کر دیا ہے اب گدھے یا گدھیاں ہی نہیں اور کئی جانور بھی اس گرمی میں یہاں سے پانی پیتے ہیں۔ صبح ہی اس ٹب کو اسی ہاتھ کے نلکے سے بھر دیا جاتا ہے۔ پرندوں کے لئے بھی دانہ دنکا اور دیگر خوراک کا بندوبست بھی بابا جی کرتے ہیں ۔میں گھر سے بابا کے لئے جو لنگر لاتا ہوں وہ انہی چڑیوں اور کتوں کو کھلا دیتے ہیں۔خود تو بس چکھتے ہیں ۔بابا نے کہا: پتر مہمانوں کی سیوہ نہیں کرنی ؟جاجو جھونپڑی سے ایک چنگیر لے آیا اس میں مسی روٹی اور اچار کی ڈلی تھی ۔ نہ نہ کرتے بھی تبرکاََ ہم نے دو دو نوالے لئے ۔گھڑے کا ٹھنڈا پانی پیااور واپسی ٹھہر کر دوبارہ لنگرکھانے کا وعدہ کر لیا۔ بابا نے کہا : کھانا پینا نصیب کا ہوتا ہے ۔ یہ دو نوالے کہاں سے آپ کو یہاں لائے ہیں۔چنگا رب راکھا۔ ہم نے کچھ نذر کرنا چاہا تو انکار کردیا گیا ۔ واپسی پر ٹھیک تین روز بعد تردد کر کے ہم اسی روڈ پر درختوں کے اسی جھنڈ کو تلاش کرتے رہے ۔ بالکل جگہ وہی تھی ، خانقاہ بھی موجود تھی ہم نے وہاں فاتحہ بھی پڑھی ،اتنے میں ایک نوجوان بھی آگیا اس نے بھی فاتحہ پڑھی اگر بتیاں سلگائیں اور ہمیں مکھانے دئےے ۔باقی قبر کے سرہانے رکھ گیا ،وقار نے اسے پوچھا : ”اس خانقاہ پر جاجو اور ایک بزرگ بھی ہوتے تھے ابھی پچھلی جمعرات کو ہم یہاں ٹھہرے تھے ۔وہ نوجوان ہمیں عجیب نظروں سے دیکھنے لگا ۔ بولا یہاں تو جاجو نام کا کوئی بندہ نہیں رہتا ۔ ہمار اگاؤں یہاں سے کافی فاصلے پر ہے، کبھی کبھی میں ادھر آتا ہوں ۔ یہ چاچے چام چڑک کا مزار ہے ۔اور انہیں دنیا سے پردہ کئے برسوں گذر گئے ہیں۔ مجھے میرا والد ادھر لاتا تھا۔ وہی بتاتا تھا کہ چاچا چام چڑک کے پاس چمگادڑوں کا ڈیرہ تھا ۔ وہ ان کی خدمت کرتا تھا ۔ لیکن یار! ہم نے تو ابھی پچھلی جمعرات کو یہاں سے مسی روٹی اوراچار کھایا ہے جس کا ذائقہ اب تک زبان پر ہے۔ وقار نے اسے بتایاتو حیران ہو کر وہ تیزی سے رخصت ہو لیا۔ میں ابھی گدھیوں اور چمگادڑوں کے فرق میں کھویا ہوا تھاکہ وقار نے گاڑی کے ساتھ ریڈیو بھی آن کردیا: عابدہ کی آواز دل میں اتر رہی تھی :
یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

Views All Time
Views All Time
60
Views Today
Views Today
2
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*