اختصارئےڈاکٹر علی شاذفلکھاری

سرطان کے مریض اور ہسپتال مافایا ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف

سرمایہ دارانہ نظام میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس نے ایک عام انسان کو صحت، تعلیم، روٹی، کپڑا اور مکان جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم کر دیا ہے۔ بنیادی صحت کی فراہمی ریاست کی اہم ترین ذمہ داری ہونی چاہیے لیکن بدقسمتی سے یہ شعبہ پرائیویٹ مافیا کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں بےانتہا بھیڑ ہے۔ پاکستان کے دل لاہور سمیت پورے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں کو غریب عوام کے علاج کے لیے بستروں اور دواؤں کی قلت کا سامنا ہے۔ یہاں آنے والے بدنصیب لوگ عام اور قابل علاج بیماریوں کے ہاتھوں دم توڑ دیتے ہیں۔ ایسے عالم میں یہ امید رکھنا کہ کینسر جیسے موذی مرض کا معیاری علاج ممکن ہو سکے گا، بےکار ہے۔

پچھلے دنوں ملتان میں ایک مشہور اور تجربہ کار ماہر امراض سرطان کو ان کی ایک مریضہ کے شوہر نے ٹانگ میں گولی مار کر زخمی کردیا۔

گولی مارنے والے شخص نے بعدازاں سوشل میڈیا پر ایک وڈیو اپ لوڈ کی جس میں اس نے ڈاکٹر پر حملے کی وجوہات بیان کیں۔ میرے نزدیک اس کے اس عمل کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا لیکن اس نے جو کڑوی باتیں کیں وہ بہت حد تک درست تھیں۔
اس نے وڈیو میں بتایا کہ اس نے اپنی ساری جمع پونجی اپنی بیوی کے علاج پر لگا دی۔ یہ بات یقیناً درست ہوگی۔ چھوٹے سے چھوٹے سرطان کے پرائیویٹ علاج کا تخمینہ دس لاکھ روپے تک لگایا جا سکتا ہے۔ حملہ کرنے والے شخص نے بتایا کہ ڈاکٹر نے کیموتھیراپی کے ساتھ ساتھ شعاعیں بھی دیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خاتون کے علاج پر ایک عام سرطان کی نسبت کہیں زیادہ سرمایہ لگا ہوگا۔ جب اس شخص کے پاس پیسے ختم ہو گئے تو وہ اپنی بیوی کو نشتر ہسپتال لے گیا جہاں بدترین حالات میں اس کا انتقال ہو گیا.
سرطان کی بیماری صرف ایک عام انسان کو بیمار نہیں کرتی بلکہ اس کے پورے گھر کو لے ڈوبتی ہے۔ سفید پوش افراد فٹ پاتھ پر آ جاتے ہیں اور مفلس ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ دیتے ہیں۔ اس بیماری اور اس کے علاج کے باعث مریض اور اس کے اقرباء شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کینسر کے علاج کے بعد بھی انسان بہت سی ذہنی بیماریوں جیسے پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس سنڈروم کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں مریض اور اس کے گھر والوں کو ہمیشہ نفسیاتی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔
ایک ماہر امراض سرطان اور سرطان کے مریض اور اس کے لواحقین کے درمیان عام طور پر ایک اعتماد کا رشتہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تعلق معالج کے ہمدردانہ رویے اور اچھے ماحول میں ہونے والی بہت سی ملاقاتوں کے نتیجے میں استوار ہوتا ہے۔ اس واقعے نے اس بدترین معاشی نظام کی قلعی کھول دی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس نے کینسر کے ہاتھوں مرنے والی خاتون کے لواحقین اور معالج کے درمیان بھروسے اور یقین کا تعلق بننے ہی نہیں دیا۔ مریضہ کا شوہر ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا اور اس نے معالج کو گولی مار دی۔

یہاں میں یہ نہیں کہوں گا کہ ڈاکٹر لالچی تھا۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اس شخص نے درست کیا۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ موجودہ معاشی

نظام میں بنیادی خرابی موجود ہے۔ وہ خرابی ہماری زمین پر سرمائے کا راج ہے اور یہ تخت گرائے بغیر معاشی مسائل اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دوسرے مسائل کا حل ناممکن ہے.

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker