اختصارئےڈاکٹر علی شاذفلکھاری

کینسر کی سمجھ بوجھ کیسے ہو ؟ ۔۔ ترجمہ: ڈاکٹر علی شاذف

کینسر یا سرطان صرف ایک بیماری نہیں بلکہ بہت سی متعلقہ بیماریوں کا مجموعہ ہے۔ یہ جسم کے کسی بھی حصے میں رونمَا ہو سکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ہمارے جسم کے خلیوں میں موجود جینز کی بیماری ہے، ہمارے جینز ہمارے خلیوں کے مختلف افعال کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ جب ہمارے جینز میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں تو خلیے بھی ٹھیک کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ خلیے بغیر کسی وجہ کے بڑھنا اور تقسیم ہونا شروع کر دیتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ سرطان بےکار خلیوں کو تلف ہونے سے بھی روک دیتا ہے، یہی بےکار خلیے سرطان کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔
ہم جینیاتی تبدیلیوں کی سمجھ بوجھ ہی سے سرطان کو سمجھ سکتے ہیں. اس کے علاوہ سرطان کی شماریات یا اسٹیٹکس کی مدد سے بھی اس کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کینسر کی شماریات اور جانچ پڑتال ہی ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمارے معاشرے پر اس کا کتنا بوجھ موجود ہے۔ شماریات کی مدد سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہر سال کتنے لوگ اس کا شکار ہوکر مر جاتے ہیں یا اس کی تشخیص کے بعد اس سے مقابلہ کر کے زندہ رہتے ہیں۔ شماریات میں بتدریج تبدیلی سائنسدانوں کو بتاتی ہے کہ کہاں زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے. سرطان کی شماریات ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ متعلقہ آبادی میں اس کے علاج میں کتنی عدم مساوات موجود ہے. اس کی مثالیں کسی آبادی میں زیادہ اموات کا ہونا، اس کی جلد تشخیص کے لیے بنیادی ٹیسٹوں کا نہ ہونا اور دیر سے تشخیص کے نتیجے میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے سرطان کا ہونا شامل ہیں.
( ماخذ: این سی آئی)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker