انقلاب کے ترانے اور انقلابی نوجوانوں کی گرفتاریاں ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف


dr ali shazif
  • 100
    Shares

میں نے بھٹو دور نہیں دیکھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اب تک کوئی سوشلسٹ تحریک نہیں دیکھی تھی ۔ ہاں، میں نے ضیا الحق کا جبر و استبداد دیکھا۔ کابل میں عظیم کامریڈ نجیب اللہ کا بہیمانہ قتل دیکھا۔ سوویت یونین کو ٹوٹتے اور لبرل ازم اور مذہبی انتہا پسندی کو پھلتے پھولتے دیکھا۔ میں نے پاکستان میں لولی لنگڑی جمہوریت پروان چڑھتے اور پھر روشن خیال آمریت پر قربان ہوتے دیکھی ۔ میں نے سرمایہ دارانہ نظام کے ہاتھوں برباد ہوتے عراق، افغانستان اور شام دیکھے۔ ہاں اب تک میں نے وہ سرخ جدوجہد نہیں دیکھی تھی جو آج دیکھ رہا ہوں۔
آج ساری دنیا میں انقلاب کے ترانے بج رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ جبر کا نظام اپنی آخر سانسیں لے رہا ہے۔ سوشلزم کا آفاقی نظریہ بڑی تیزی سے محنت کشوں اور نوجوان طلبا و طالبات میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی حالات باقی دنیا سے مختلف نہیں ہیں ۔
میرے ملک میں ایک منصوبہ بندی کے تحت مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے کر اذہان پر فکر و شعور کے دروازے بند کیے گئے۔ طلبا یونینز پر پابندیاں لگا کر نوجوانوں کو سیاست سے دور کر دیا گیا۔ ریاست نے اپنے کٹھ پتلی بدعنوان سیاست دانوں کا ایسا چہرہ دکھایا کہ عوام سیاست ہی سے متنفر ہو گئے ۔جعلی انتخابات اور من پسند حکومتوں کے ذریعے جمہوریت کی عصمت دری کی گئ۔ نام کی جمہوریت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دھاندلی کے الیکشنوں میں بھی 70 فی صد ووٹر گھر بیٹھے رہے اور بقایا 30 فی صد کو فرشتوں کا خطاب دیا گیا یعنی ان کے ووٹ بھی اپنی مرضی سے ڈالے گئے۔ پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان میں بہت سی چھوٹی بڑی تحریکیں شروع ہوئیں۔ یہ ان تحاریک سے الگ ہیں جو خود ریاست نے شروع اور پھر ختم بھی کیں ۔ لیکن حال ہی میں خیبر پختون خواہ سے اٹھنے والی پختون تحفظ موومنٹ سب سے مضبوط تحریک بن کر سامنے آئی ہے۔ 22 اپریل 2018 کو لاہور کے موچی گیٹ پر پی ٹی ایم کا جلسہ عام منعقد ہوا۔ اگرچہ جلسہ خاطرخواہ عوامی توجہ حاصل نہ کر سکا لیکن اس کے نتیجے میں کچھ اہم واقعات رونما ہوئے۔ ان میں اسی روز پی ٹی ایم کی حمایت میں احتجاج کرنے والے ریڈورکرز فرنٹ اور پروگریسو یوتھ الائنس کے کامریڈز کی گرفتاری شامل ہے۔ ان انقلابی نوجوانوں میں کامریڈ آفتاب اشرف، زین العابدین، کریم پرہار اور دیگر سوشلسٹ کارکن شامل ہیں۔ ان گرفتاریوں کے نتیجے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید ترین ردعمل دیکھنے میں آیا۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا اور جنوبی ایشیائی ممالک میں زبردست مظاہرے کیے گئے جو اب تک جاری ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز اور تصاویر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہیں۔ اسی طبقاتی تحریک کا دوسرا بڑا واقعہ آج ایک بار پھر کراچی میں رونما ہوا جب کامریڈ جلال جان اور یاسر ارشاد سمیت مزید چار کامریڈز کو پریس کلب کراچی کے باہر سے احتجاج کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ ملک بھر کے ترقی پسند ، ان ظالمانہ اقدامات کی مذ مت کرتے ہیں اور غاصب حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 11 کے 11 گرفتار کارکنوں کو فوراً رہا کیا جائے ۔اگر نہیں، تو ہم میں سے ہر ایک اپنے کامریڈز کے ساتھ یک جہتی کے لیے گرفتار ہونے کو تیار ہے۔

Views All Time
Views All Time
934
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*