میں اور ظہور چوہان: روشنی دونوں طرف۔۔ ڈاکٹر علی شاذف




zahoor chohan

میں یہاں اپنا یا کسی اور کا ظہور چوہان سے تقابل پیش نہیں کر رہا۔ بلکہ اس کالم کے عنوان سے میری مراد جدید غزل کے عہد میں میرا بطور ایک طالب علم کے ظہور چوہان جیسے منجھے ہوئے غزل گو سے تعلق ہے۔ اس بلند قامت شاعر سے میری پہلی اور اب تک کی آخری ملاقات 2010 میں سخنور فورم ملتان کے ایک اجلاس میں ہوئی۔ ان کے چند اشعار سننے کے بعد ہی مجھ پر ظاہر ہو گیا کہ وہ صرف جسمانی نہیں بلکہ فنی لحاظ سے بھی ایک بلند قامت شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کے شعر سنانے کے دھیمے انداز اور ان کے کلام کی لطافت نے اسی دن مجھے ان کا مداح بنا دیا۔ بعد ازاں فیس بک پر ان سے دوستی کی روشنی دونوں طرف قائم ہوئی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی چلی گئی۔
ظہور چوہان کی ایک صاحبزادی کا نام ارتقا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان کی شاعری ارتقا کی شاعری ہے۔ غزل کے عہد جدید میں اردو شاعری کی یہ صنف بہت تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے اور اس کا سبب ظہور چوہان اور ان جیسے کچھ ترقی پسند شعراء ہیں۔ہر قاری کا کسی بھی تخلیق کار سے رشتہ ذاتی نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ ان دونوں کے باہمی تجربات، مشترکہ افکار اور ملتے جلتے خیالات سے جنم لیتا ہے۔ میں نے بھی ظہور چوہان کے چوتھے مجموعے “روشنی دونوں طرف” کا مطالعہ کر کے ان کے ساتھ اپنا ایک الگ رشتہ استوار کیا ہے۔ظہور چوہان محبت میں مخلص سچا اور وفادار شخص ہے۔ اس کی شاعری میں جس محبوب کا ذکر ہے وہ بھی اس کی محبت کا جواب ہمیشہ اتنی ہی محبت اور وفاداری سے دیتا ہے۔ یعنی اس کے ہاں بےوفائی کا کوئی تصور سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ یہ محبت کی وہ روشنی ہے جو دونوں طرف ہے اور ایک جیسی شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔اس کی شاعری کا دوسرا رخ جو میں نے دیکھا ہے وہ اس کا اپنی ذات اور پھر دنیا کی معرفت کا ہے۔ وہ بحیثیت ایک انسان کے خود کو اس کرہ ارض کا مالک اور مختار سمجھتا ہے۔ یہ اس کے اندر کی روشنی ہے۔ دوسری طرف اس کے باہر کی روشنی ہے جو اسے دکھاتی ہے کہ اس کے اردگرد موجود افراد بھی اتنی ہی روشنی سے بھرے ہوئے ہیں جو خود اس کے اندر اپنا وجود رکھتی ہے۔ وہ اپنی شاعری میں مجموعی طور پر امید پرست دکھائی دیتا ہے اور مایوسی کو یکسر مسترد کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ بنی نوع انسان کے اندر وہ اہلیت موجود ہے جو اس کی بےپناہ صلاحیتوں کی بدولت اسے بہت جلد ایک معراج تک پہنچا دے گی۔ وہ وقت دور نہیں جب انسان جنگ و جدل اور تباہی کے راستے کو ترک کر کے فلاح اور باہمی اخوت و محبت کے درجے تک پہنچ جائے گا۔
ظہور چوہان انفرادیت پسند ہے۔ وہ بھرتی کے شعر کہنے سے ہمیشہ اجتناب برتتا ہے۔ وہ بہت احتیاط سے شعر کہتا ہے اور اس لحاظ سے پرفیکشنسٹ ہے۔ اس کو علم اور مطالعے کا جنون ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ علم و آگہی اور شعور حاصل کیے بغیر کوئی بھی تخلیق لاحاصل اور بےمعنی ہے۔ اس کے اندر ایک مستقل اضطراب اور بےچینی موجود ہے جو اسے ہمہ وقت خوب سے خوب تر کی تلاش میں گامزن رکھتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ظہور چوہان ابھی بہت آگے جائے گا۔ وہ غزل کی تاریخ کے ورق پر ایسے انمٹ الفاظ چھوڑ جائے گا جو ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے۔آخر میں ان کے تازہ مجموعے سے کچھ اشعار:
حق کی آواز اٹھانے لگے کمزور سے لوگ
ہے یہی رمز حسینی، یہی بیداری ہے

تری جدائی نہیں صرف میری ذات کا دکھ
سمٹتا جاتا ہے اس دکھ میں کائنات کا دکھ

بیچ میں دیوار ہے اور زندگی دونوں طرف
یعنی اک جلتے دیے کی روشنی دونوں طرف

پوری ہو جاتی اگر کوئی کہانی ہوتی
یہ محبت ہے میاں اس میں کسک رہتی ہے

یہ پیش خیمہ کسی انقلاب کا تو نہیں!
جو ارتعاش سا آب ِرواں میں رہتا ہے

جدید عصر کا زندہ امام بھی میں ہوں
یہی وجہ ہے کہ عالی مقام بھی میں ہوں

مرا وہ خواب جو تعبیر سے رہا محروم
وہ میرے بیٹے کی آنکھوں میں جگمگاتا ہے

لینے لگی ہے کروٹیں یہ گھومتی زمیں
اٹھنے لگی ہے کالی گھٹا آسمان سے

دیکھنے والو! ہمیں اب دیکھ لو
جانب منزل رواں ہوتے ہیں ہم

خال و خد میرے بھی تبدیل ہوئے وقت کے ساتھ
اس قدر دیکھتے کیوں ہوں مجھے حیرانی سے

میں اپنے دائرے میں ہی رہتا اگر ظہور
معلوم کیسے کرتا بھلا اپنی حد یہاں

لوگ چپ چاپ چٹانوں کی طرح بیٹھے ہیں
عین ممکن ہے بغاوت بھی تو ہو سکتی ہے

حسب معمول دھڑکتا ہے ابھی ہجر میں دل
کیونکہ موسم ہی نہیں آیا عزاداری کا

غزل جمود کا یکسر شکار لگتی ہے
سنا جو میں نے تو اپنا کلام پیش کیا

کمی نہ آئے گی تیری مری محبت میں
میں جب مرا تو مروں گا تری رفاقت میں

چھوڑ جاؤں گا نشاں، میں بےنشاں ہوتے ہوئے
رائگاں ہونا نہیں ہے، رائگاں ہوتے ہوئے

میں اک تازہ شعر ہوں لیکن کیا معلوم
کتنے عرصے بعد مکمل ہوتا ہوں

ایک ایسے خواب میں ہوں میں ظہور
ٹوٹ جائے گا اگر سونا پڑا

علم کی وسعت، یہ کائنات اور میرا جنوں
اے خدا! میرے لیے اک زندگی کافی نہیں

اڑنے لگی جو خاک مرے چاروں طرف ہی
پھر مجھ کو نظر آنے لگا سب سے زیادہ

سخن کا آخری در مجھ پہ ہو رہا ہے ظہور
مری غزل کسی تازہ جہاں سے آئے گی

اور آخر میں ظہور چوہان کے لیے بہت سی نیک خواہشات.

Views All Time
Views All Time
66
Views Today
Views Today
2




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*