خوبصورت،ضدی پڑوسن ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب


articles of dr farzana kokab at girdopesh.com
  • 566
    Shares

کہا جاتا ہے”ہمسائے ماں جائے” ۔۔ اورپڑوسیوں کے حقوق کی بابت ویسے بھی جتنی سخت تنبیہہ کی گئی ہےوہ تو سب کو فکر مند کردینے اور سب کےکان کھڑے کردینےکے لئے کافی ہے۔لیکن خوبصورت پڑوسنیں رکھنے والی بیویوں کو تو رہ رہ کر ہول اٹھتے رہتے ہیں۔کہ ان کے شوہر وراثت میں پڑوسیوں سے حصہ کے دعویدار بھلے نہ ہوں۔لیکن ان خوبصورت پڑوسنوں کے غیر اعلانیہ وارث ضرور بن سکتے ہیں۔
کتنےوردوظیفےپڑھ کےایک سےجان چھڑائی تھی
پھر قتالہ آن بسی اک اور مرے ہمسائے میں
اور ویسے بھی جس طرح دور کے ڈھول ہمیشہ سہانے لگتے ہیں اسی طرح سامنے والی کھڑکی سے دکھنے والا چہرہ بھی ہمیشہ چاند سا نظر آتا ہے۔
اپنی بیوی سے کہا انتیسویں کا چاند ہو
اور پڑوسن سے کہا،تم چودھویں کا چاند ہو
بلکہ بیوی تو گویا گھر میں اک اماوس کی رات ہےجو ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔اور ویسے بھی اپنی بیوی کے بارے میں تو ہر شوہر ایک ہی راگ الاپتا ہے۔۔شادی کےپہلے سال چندر مکھی، پانچویں سال سورج مکھی دسویں سال جوالہ مکھی اور بیسویں سال”وہ بھی دکھی،میں بھی دکھی”اور اس کے بعد کے سارے سال”مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں”۔
اور پھر یہ خطروں کے کھلاڑی “عشق ممنوع”کے کھیل میں جی جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔ویسے بھی کہنے والے کہتے ہیں کہ “عشق ممنوع ” میں ہیر رانجھا بننےکاایک الگ مزہ ہے۔لذت گناہ کا نشہ دو آتشہ جو ہوجاتا ہے
یوں پڑوسن ہے مرے ہمسائے میں
پہلوئے رانجھا میں جیسے ہیر ہو
لیں جی اس پر ایک لطیفہ یاد آگیا کہ ایک بچے نے اپنی ماں سے پوچھا کہ پری کسے کہتے ہیں؟؟تو ماں نے بڑے پیار سے جواب دیا کہ بیٹا پری ایک بہت خوبصورت عورت ہوتی ہے۔۔جس کے بہت پیارے پر ہوتے ہیں جن سے وہ اڑتی ہے۔۔تو بچے نے معصومیت سے اگلا سوال کردیا کہ مما پڑوس والی آنٹی کے تو پر نہیں اور نہ وہ اڑتی ہیں پھر پاپا انہیں “میری پری”کہہ کر کیوں بلاتے ہیں؟؟؟
ویسے بھی یہ تو سیانے کہتے ہی آئے ہیں کہ ہر مرد کو بچے اپنے اور بیوی ہمیشہ دوسرے کی اچھی لگتی ہے۔اور یہ بھی آزمائی ہوئی حقیقت ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر اور باہر کی دال میں بھی مرغ مسلم کا سواد۔یاد آیا کہ دو پڑوسی ایک دوسرے کے بہت گہرے دوست تھے۔روزانہ شام کو اکٹھےبیٹھ کر اپنی اپنی بیویوں کے حوالے سے اپنی بدقسمتی اور نامرادی کا رونا روتے تھے۔ایک شام ان میں سے ایک پڑوسی کام سے واپس آکردوسرے کے گھرگیا تو اس نے بتایا کہ وہ اگلے دن اپنی بیوی کے ساتھ مری جا رہا ہےتو پڑوسی نےحیران ہو کر پوچھا کہ اتنی محبت کب سے شروع ہوئی؟جناب فرمانے لگے کہ مذاق نہ اڑا میرا۔جاتے ہی اسے پہاڑ سے دھکا دے دوں گا۔تو پڑوسی نے بڑی لجاجت اور رازداری سے کہا۔۔یار یہ بات ہے تو میری والی کو بھی لیتاجا۔اس پر دوست صاحب بولے۔”دوست وہ جو مشکل میں کام آئے۔جیسا تو چاہ رہا ہے ویسا ہی ہوگا لیکن سوچ رہا ہوں کہ تیری والی کو واپسی پر نہ دھکا دیتا آؤ ں۔
ویسے سیانے تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ دنیا میں سب سےزیادہ خطرناک ہتھیار دو ہی ہیں جن کے آگے بڑے سے بڑا سورما مرد بھی بے بس ہو جاتا ہے۔ایک بیوی کے آنسو اور دوسرا پڑوسن کی مسکراہٹ۔شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سےشوہر حضرات کو پڑوسن سے اپنی زوجہ محترمہ کی دوستی بہت کھلتی ہے۔خصوصاً وہ پڑوسن جوگھر آئے اور ان کی طرف دیکھ کر مسکرائے بلکہ دیکھے بغیر سیدھی کچن میں ان کی زوجہ محترمہ کے پاس چلی جائےاور کبھی ان صاحب کو ان سے یہ کہنے کا موقع نہ ملے۔
وہ آ ئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کوکبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
اور ستم بالائے ستم بیوی اپنی پڑوسن سہیلی کو اپنی “حفاظت”میں گھر کے بیرونی دروازے تک الوداع کہنے لے جائے اور پورے ایک گھنٹے بعد واپسی پر موصوف کے خفگی بھرے استفسار پر دیر ہونے کی وجہ بڑے بھولپن سے یوں بیان کرے”اصل میں بچاری کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا تسلی سے بیٹھ کے باتیں کرنے کا”۔
ہمارے ہاں تو یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپکے گھر کے چہار طرف چالیس گھر پڑوس میں ہی شمار کئے جاتے ہیں۔اور ہر بشر کی بساط کہاں کہ اس حوالے سے عائد کردہ فرائض کا بوجھ سہار سکے۔لیکن حقوق سارے کے سارے وصول کرنے کو ہر بندہ بشر ہر وقت تیار۔۔اور بعض اوقات تو یہ بھی ہوتا ہے کہ اپنی ان من مانی حسرتوں اور خواہشوں کو بھی اپنا حق ہی گردان لیا جاتا ہے جن کاجیتے جی پورا ہونے کا قطعی امکان نہیں ہوتا۔مگر دم نکلتے نکلتے بھی اس خواہش کو کسی نہ کسی طرح پورا کرنے کی کوشش آخری سانس تک جاری رہتی ہے۔کچھ ایسی ہی حسرت ایک بڑے میاں ساری زندگی دل میں لئے جیتے رہے حالانکہ اس خواہش پر ہر وقت ان کا دم نکلتا تھا۔بہرحال جب وقت آخر قریب آیا تو بیوی کے کان میں ہولے سے اپنی آخری خواہش بیان کردی۔اور اس سے پورا کرنے کا وعدہ بھی لے لیا۔اور خواہش ملاحظہ فرمائیں۔بیوی سے فرمایا کہ جب میں مر جاوں تو سامنے والے ہمسائے کی عورتوں کو ضرور بلانا۔بیوی نے تعجب سے پوچھا کہ کیوں؟تو ہولے سے جواب دیا”ان کے ہاں رواج ہے۔سنا ہے وہ مردے سے لپٹ لپٹ کر روتی ہیں”۔
استاد ذوق ایسے تو نہیں کہہ گئے”مر کے بھی چین نہ پایاتو کدھر جائیں گے؟”

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*