بات پے واں زبان کٹتی ہے ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب




loud speaker
  • 271
    Shares

حضرات،الیکشن کی بسنت بہار ہے۔کہیں جنگ کہیں جہاد ہے۔میچ زوروں پر اور پیچے لڑ چکے ہیں۔کس کی گڈی اڑے،چڑھےکس کی ڈور کٹے۔اور پھر ڈور لوٹنے والوں کے اپنے ہی مزے۔
معاملہ سنجیدہ بھی ہے،رنگین بھی اور سنگین بھی۔اور اس سارے منظر نامہ میں زبان کی نئی نئی تانیں بھی اڑائی جا رہی ہیں۔ کسی کو نہیں پڑی کہ پہلے تولے پھر بولے۔لن ترانی ،بدزبانی اور لغو بیانی کے وہ وہ جوہر کہ سننے والے کی زبان دانتوں تلے آ کر کٹ کٹ جائے۔پطرس بخاری اور یوسفی صاحب رہ رہ کر یاد آرہے ہیں۔اور صورت حال کچھ ایسی ہے۔
بات پے واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
ہم تو ویسے ہی اردو جیسی تہذیب یافتہ،صاف ستھری اور شاندار روایات،تاریخ اور تہذیب کی امین زبان کےوارث اور مالک ہیں جس کی شان میں کہا گیا ہے
چکبست اور فراق کے ماتھے کا تلک ہوں
اقبال کے نغمات میں آیات کی جھلک ہوں
دوہوں میں کبیر کے محبت کی مہک ہوں
کیوں مجھ کو کہہ رہے ہو میں مسلمان ہوں
ہندوستان کی شان میں اردو زبان ہوں​
کوئی ہے جو کہے”میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا”کہ زبان کا زخم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے اور میٹھی چھری کھنڈی چھری سے زیادہ اذیت ناک ہوتی ہے۔پھر “بغل میں چھری مونہہ پے رام رام” کی وجہ سے بھی تو حالات وہاں تک جا پہنچے تھے کہ بعد میں بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب نے اردو ہندی تنازعہ کو قیام پاکستان کی بنیاد قرار دیا تھا۔اب” نئے پاکستان “کے قیام میں جو زبان وجہ تنازعہ بن رہی ہے اس کو سن کر تو کئوں کا دل چاہتا ہوگا کہ کاش ہم شودر ہوتے کہ ایسی مقدس اور متبرک زبان سننے کے گناہ کی پاداش میں ہمارے کانوں میں گرم پگھلا سیسہ انڈیل دیا جاتا۔تاکہ یہ زبان انہیں سننے کو نہ ملتی۔
اب تو “مائینڈ یور لینگوئج”کہنے کی حد بھی گزر گئی۔ کس کس کو کہا جائے کہ زبان سنبھال کر بات کرو اور اہل زبان کی قدر و منزلت اورتقلید تو کب کی جاتی رہی۔کہ یہ سب دستور مہذب قوموں میں رائج ہوتے ہیں۔اگرچہ کہا جاتا ہے کہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا پھر بھی اس کائنات کے سب سے تہذیب یافتہ مذہب کے پیروکار ہوکر ہمیں کب یاد ہے کہ یہ مذہب زبان کے استعمال کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
اہل زبان سے ایک لطیفہ یاد آیا”لکھنو سے ایک حضرت لاہور آن پہنچے۔ایک عزیز سے ملنا مقصود تھا۔تلاش بسیار کے باوجود ان کا گھر ڈھونڈنے میں ناکام رہے تو ایک گلی میں کھیلتے لڑکوں کے پاس جاکر یوں گویا ہوئے۔
اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو آپ کو تھوڑی تکلیف دینی تھی”ابھی اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ ایک لڑکا ان کا گریبان پکڑ کے غرایا”مامے کی کہیا ای۔توں تکلیف تا دے کے ویکھ۔”
اور وہ صاحب حیران پریشان سوچتے رہ گئے
حرف کیوں اپنے گنوائیں جاکر
بات سے پہلے جہاں بات کٹے
کچھ دن پہلے ہمارے ایک جاننے والے بھی بتا رہے تھے کہ وہ لاہور کسی کام سےاپنے کسی عزیز کے ہاں گئے۔اگلے دن بھابھی صاحبہ سیب لے کر آئیں اور بہت خوش اخلاقی اور احترام سے بولیں”پائن ایپل کھا لوو”بقول ان کے وہ ایک لمحے کو پریشان ہوگئے کہ ایپل کو پائن ایپل کیوں کہہ رہی ہیں بھابھی صاحبہ۔لیکن اگلے ہی لمحے ان کے ذہن میں جھماکہ ہوا اور انہیں سمجھ آئی کہ پائن سے مراد ان کی پائ جان(بھائی جان) ہے۔
صاحبو ہمیں اس حقیقت سے ہرگز مفر نہیں کہ ہر زبان اپنی جگہ اہم ہے،قابل قدر اور واجب احترم ہے۔اور ہر زبان کی اپنی ہی خوبصورتی اور انفرادیت ہے۔لیکن ذہن اور سوچ کا بھی صاف ستھرا،پاکیزہ اور خوبصورت ہونا ضروری ہے نا تاکہ ذہن غلاظت کا گٹر نہ بن جائے کیونکہ جب بھی گٹر کا مونہہ کھلتا ہے اس میں سے گندگی ہی ابلتی ہے۔جس طرح آنکھیں دل کا آئینہ ہوتی ہیں۔اور آنکھوں کی بھی اک زبان ہوتی ہے۔اسی طور زبان کوبھی تو ذہن کی عکاس کہا گیا ہے۔ کیا زمانے گزرے کہ اسلوب زیست اور اسلوب بیان ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم تھے۔بلکہ اسلوب زیست اسلوب زبان اور بیان ہی سےجانا اور پہچانا جاتا تھا۔اور اب یہ زمانہ ہم بدنصیبوں کو ہی دیکھنا اور جینا لکھا تھا کہ کردار تو کردار گفتار کے غازی بھی نہ رہے۔زبان دینا،زبان پر قائم رہنا اور زبان سے پھر جانا۔ان تراکیب کاچلن پتا نہیں کن خوش نصیبوں کے دور میں ہوتا تھا۔اب تو اس اصول پر کاروبار زندگانی چلتا ہے”کہنے میں کیا حرج ہے۔وقت آئے گا تو دیکھی جائے گی”حالانکہ حقیقت میں ہوتا یہ ہے کہ
“اک لفظ آگیا تھا جو میری زبان پر
چھایا رہانجانےوہ کس کس کےدھیان پر”
ہاں”طوائف کے کوٹھے”سے ایک بات یاد آئی کہ ایک خاتون بازار گئیں تو دیکھا کہ ایک بولنے والا طوطا ہے مگر قیمت بہت کم لگائی گئی ہے انہوں نے سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ طوطاطوائف کے کوٹھے پر پلا بڑھا تھا اس لئے اس کی زبان بہت لغو اور بیہودہ ہو گئی جس کی وجہ سے اس کے بہت کم دام لگائے گئے ہیں۔(سمجھ گئے نا آپ)
اور اب اپنے لئے دل سے دعا ہے کہ
“بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی”

Views All Time
Views All Time
511
Views Today
Views Today
2




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*