موسم کی تو مان لے آج ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب


articles of dr farzana kokab at girdopesh.com
  • 79
    Shares

پچھلے ایک دو دن سے ایک خبر نما سی پوسٹ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی کہ “کراچی میں محکمہ موسمیات کا افسر گرفتار،روز بارش کی پیشنگوئی کر کے بیوی سے پکوڑے بنواتا تھا”پھرکچھ ہی وقت گزرا ہوگا کہ اس سے متعلقہ ایک اور خبر نما پوسٹ بھی ان گناہ گار نظروں کے سامنے آگئی جو کچھ یوں تھی”محکمہ موسمیات کے افسر کی FIR میں یہ سنگین الزام بھی لگایا گیا ہے کہ بارش میں بھی صرف پکوڑے ہی بنواتا تھا”۔
اور ہمیں ایمان کی حد تک یقین آگیا کہ
”یہ باتیں ایسی باتیں ہیں،جو لوگوں نے پھیلائی ہیں“کیونکہ ”خلقت شہر تو کہنے کو فسا نے مانگے“
اب تک خواتین کو خبر رسانی کا معتبر نہ سہی مگر تیز ترین ذریعہ مانا جاتا رہا۔مگر یہ کم بخت سوشل میڈیا تو ایسا Fast&furious ذریعہ بن گیا ہے کہ کوئی بھی جھوٹی سچی خبر ایک ٹچ یا کلک پر وائرل ہو جاتی ہے۔
اور رہی بات موسم کی تو ” وہ باتیں تری وہ فسانے ترے“۔کم از کم اردو شاعری میں محبت اور محبوب کے ساتھ موسم کا تذکرہ ایک لازمہ سا رہا ہے۔عشاق بلکہ بڑے بڑے شاعروں تک کے دل پر جہاں موسم نے ایک خوشگوار رومانوی اثر ڈالاوہیں ایسےایسے ہولناک اثرات بھی پڑے کہ قصے پڑھ پڑھ کر دل تھام لینے کو جی چاہتا ہے۔اور ان کے دلوں پر موسم کچھ ایسا اثر دکھاتا تھا کہ انہیں بالکل یہی لگتا تھا”جی کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ صبح گیا یا شام گیا “ اور میر صاحب لاکھ دعوت دیتے رہیں کہ”چلتے ہو تو چمن کو چلئے،کہتے ہیں کہ بہاراں ہے“ پر اسی بہار کے حیات بخش موسم میں عشق وہ رنگ دکھاتا اور آشفتہ سری اور دل کا وہ عالم ہوتا کہ دامن چاک کرلیتے اور سر میں خاک ڈال اپنی جان لینے کو تل جاتےاور پھر ناچار زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے۔
ویسے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دل کا موسم اچھا ہو تو سارے موسم اچھے لگتے ہیں۔لیکن”دل تو ہے دل،دل کا اعتبار کیا کیجئے“اب کسی جان بہار کو دیکھ کر دل گل وگلزار ہو جائے۔۔چاہے وہ پھول کسی اور کے آنگن میں کھلا ہو لیکن دل یہی رٹ لگائے ہوئے کہ ”نہ ہو بہار کو فرصت مگر بہار تو ہے“۔اورپھر اس دکھ کا کون مداوا کرےکہ
اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
حضرات ہم شرط لگا کر یہ دعوی کرتے ہیں کہ بہتوں کا اصل دکھ یہ ہوتا ہے کہ جس گھر میں بہار آئی ہے وہ لازماً کسی اور کا ہوتا ہے اور بیاباں سے مراد ان حضرات کا”اپنا گھر“جہاں انہیں ایک ”خزاں صورت “ کے سوا کچھ اوردکھائی نہیں پڑتا۔
عشق میں گرمی سردی کی آنکھ مچولی کے عجب قصے کی بھی غضب کہانی ہے۔عشق کو آگ کہا جاتا ہے جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے۔محبوب کی ایک جھلک دیکھتے ہی یہ آتش عشق کبھی اور بھڑک جاتی ہے اوردل کیساتھ ساتھ “جلتا ہے بدن”والی کیفیت ہو جاتی ہے اور کبھی محبوب کی ایک جھلک سے دل میں تو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے لیکن “جلتا ہے بدن”والی کیفیت مزید شدت اختیار کر جاتی ہے۔اور ہم اس دعوی پر پوری مضبوطی سے قائم ہیں کہ آج کل کی محبت اس کیفیت کے سوا کچھ نہیں۔
معاملات عشق میں ساون کے موسم اور بارشوں کا اپنا ایک ناقابل فراموش کردار ہے۔عشاق کے سینوں میں تو عشق کی بھڑکتی آگ پر بارش کا پانی بھی جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے اور حالت یہ ہوتی ہے
بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم
چپ چاپ سوگوار تجھے سوچتے رہے
لیکن یہ تب تک ہے جب تک محبوب کا حصول نہ ہو جائے۔یعنی target achieved والا معاملہ نہ ہو جائے۔تب تک ان کا حال یہ رہتا ہے۔
شاید کوئی خواہش روتی رہتی ہے
میرے اندر بارش ہوتی رہتی ہے
کیونکہ اس کے بعد تو انہیں صرف یہ فکر دامن گیر رہتی ہے
ان بارشوں سےدوستی اچھی نہیں فراز
کچا ترا مکان ہے کچھ تو خیال کر
پھر یہ کہتے ہوئے کہ ان بارشوں سے کہہ دو کہیں اور جا کے برسیں،پکوڑے بنوانے میں ہی عافیت جانتے ہیں( ہر لحاظ سے)۔
خیر “سب کی اپنی مجبوری”۔اب بچارے “سردار صاحب” کی بھی تو کوئی مجبوری ہو سکتی ہے نا انہیں بھی تو بارشوں کا موسم ستا سکتا ہے نا۔جی جی،ہوا یہ کہ ایک سردارجی جب بھی کپڑے دھونے کا ارادہ کرتے بارش آجاتی۔ایک دن مطلع نسبتاًصاف دیکھ کر جھٹ سے سرف لینے دکان کی طرف بھاگے ابھی دکان کے دروازے میں قدم ہی رکھا تھا کہ بادل زور سے گرجے۔سردار صاحب بادلوں کو دیکھ کر بولے”کتھے؟؟؟میں تاں نمکو لین آیا واں”

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*