ہائے یہ بور کے لڈو ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب


articles of dr farzana kokab at girdopesh.com
  • 68
    Shares

ہائے یہ بور کے لڈو جو کھائے پچھتائے جو نہ کھائے پچھتائے۔۔کنواروں کا رونا”رناں والیاں دے پکن پروٹھے تے چھڑیاں دی اگ نہ بلے”جبکہ شادی شدہ حضرات اور کچھ نہ ملے تو کنواروں کو یہ کہہ کر ہی تسلی دے دیتے ہیں”اماں یار ہم سے تو اچھے ہو بیڈ کی دونوں سائیڈوں سے تو اتر سکتے ہو”
عام طور پر شادی خانہ آبادی کے حوالے سے مزاحیہ شاعری اور تمام لطیفے بیویوں سے ہی متعلق ہوتے ہیں۔اور بالعموم مردوں کے ہی بنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ہاں جی “نیرو” نے بھی توخود ہی روم میں آگ لگوائی تھی اور پھر خود ہی مزے لے لے کر بانسری بھی بجاتا رہا۔
ہمارے بچپن کے زمانے میں ٹیلیویژن پر بچوں کے ایک اشتہار کی پیروڈی ایک مزاحیہ پروگرام میں دکھائی گئی “پیارے بھائیو،بیوی کیا ہے۔۔بیوی ایک درندہ ہے۔۔۔۔”تب سے اب تک ایسی بیوی کو دیکھنے کی حسرت میں ہم تومرے جاتے ہیں۔۔کاش کوئی ایک پیس ہی مل جائےتو آنکھوں کو ٹھنڈک ملے اور دل کو قرار آجائے۔لیکن”وے صورتیں الہی کس دیس بستیاں ہیں۔۔ہمیں تو اپنے آس پاس بھیگی بلیاں،سہمی ہرنیاں اور کھونٹے سے بندھی گائیں ہی نظر آئیں۔اور ان کے سر پر کھڑے دھاڑتے شیر۔۔اور کہیں کمزور اور لاچار بیویوں کو چیرتے پھاڑتے شوہر نما درندے۔
یہ بھی آپ کو بتا دیں کہ جو شادی اور بیوی کا زیادہ رونا روتے ہیں ان ہی کی کبھی نہ کبھی ایک یا ایک سے زیادہ خفیہ شادیوں اور بیویوں کے ہوشربا انکشافات ہو رہے ہوتے ہیں۔۔ان کے لئے شادی گویا بچوں کا کھیل ہوتی ہے”بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
اور یہ بھی راز کی بات بتادیں آپ کو کہ وہ دوسروں بالخصوص دوسری عورتوں کے سامنے اپنی شادی خانہ بربادی اور مظلومیت کا رونا روتے ہی اسی لئے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں اپنے لئے ہمدردی پیدا کرکے اپنے لئے مزید شادیوں کی راہ ہموار کی جائے۔کوئی اور بھولی بھالی دلربا ان کے بہکاوے میں آکران کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے اپنا تن من دھن ان پر نثار کردے۔مزے کی بات یہ ہے کہ شادی اور بیوی کا رونا رونے والے اور توبہ توبہ کرنے والے دوسری شادی کو فورا”تیار ہو جاتے ہیں “دل پھر طواف کوئے ملامت کو جائے ہے” بور کے لڈو کھا کر اور بظاہر پچھتا کر دوسری شادی کے نام پر دل میں خوشی سے انار پھوٹنے لگتے ہیں اور چہرے گلنار ہو جاتے ہیں “اس دل کا بھروسہ کون کرے،ہر روز مسلماں ہوتا ہے”حالانکہ تصویر کا ایک دوسرارخ بھی ہے۔کہ ہماری ایک بہت اچھی جاننے والی نے ہمیں بتایا کہ ان کی ایک دوست جو خوبصورتی،خوب سیرتی،خدمت گذاری اور وفا شعاری میں اپنی مثال آپ تھیں کے شوہر موصوف نے بھی دوسرا بیاہ رچا لیاتو بقول ان کے انہوں نے اپنی دوست کو بہت ڈانٹا کہ تمہیں اتنی مثالی بیوی بننے کی ضرورت کیا تھی تمہارے شوہر نے سوچا ہوگا کہ بیوی ایسی شاندار مخلوق ہوتی ہے تو ایک اور سہی”یعنی چوپڑیاں وہ بھی دو دو”
تو “پان کھانے والوں کو پان کھانے کا بہانہ چاہئیے”
اسی طرح ایک فعال سماجی کارکن بتا رہی تھیں کہ ایک آدمی کاطریقہ واردات یہ تھا کہ وہ اپنی بیوی کا حق مہر 5 لاکھ مقرر کرتا اور بیوی کے پاس جاتے ہی بخشوا لیتا۔اس طرح موصوف نے ” مینوں نوٹ وکھا،میرا موڈ بنے”کو اپنا اصول بنا کر آٹھ شادیاں کر ڈالیں۔۔مگر چھری کے نیچے تو آنا ہی تھا۔آٹھویں نے نہ صرف بخشنے سے انکار کردیا۔بلکہ بزور اپنا حق مہر وصول کیا۔بقول ان سماجی کارکن صاحبہ کے اس کے بعد سے اب تک ان ماہر شادیات کی مزید شادی کی کوئی خبر سننے میں نہیں آئی”چوروں کو پڑ گئے مور”
ویسے ہونا تو یہ چاہئیے کہ نکاح نامہ میں حق مہر سمیت جو جو شقیں عورت کے حق میں موجود ہیں لمبے لمبے کاٹے لگانے کی بجائے ساری پر بھی کی جائیں اور پوری بھی کی جائیں۔تاکہ پورے پورے حرم بنانے کی خواہش رکھنے والوں کو پتا چلے کہ اللہ تعالی نے ایک عورت کو حاصل کرنا یااس کو چھوڑ دینا مرد کے لئے کتنا مشکل بنایا ہے۔تاکہ شادی جیسے اہم ترین اور مقدس فریضہ کو کھیل تماشا نہ سمجھ لیا جائے۔اور نہ عورت کو کوئی سستا کھلونا کہ”اور لے آئیں گے بازار سے گر ٹوٹ گیا”۔ابھی تو ہمارے معاشرے میں عورت ہی شوہر اور گھر کو چھوڑتے ہوئےڈرتی ہے اور سب زیادتی اور ظلم سہتی ہے۔پھر مرد بھی عورت کو صرف دل بہلانے کا سستا کھلونا یا مال غنیمت میں ملی باندی سمجھ کر نہیں اپنائے گا۔بلکہ اسے بھی ڈر ہوگا کہ دوسری بھی اتنی ہی مشکل سے ملے گی جتنی پہلی۔۔اور ہر کوئی “گہرے پانیوں کا شناور” نہیں ہوتا۔
ویسے ایک بات کا ہم دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ صرف ساری کی ساری عورتیں ہی بھولی بھالی نہیں ہوتیں ہمارے کچھ خان بھائی بھی بہت سادہ دل اور معصوم ہوتے ہیں کہ بےاختیار کہنے کو جی چاہتا ہےکہ”اس سادگی پے کون نہ مر جائے اے خدا”۔اسی طرح ایک خان بھائی کی محبوبہ ان سے بہت اصرار کر رہی تھی کہ اب شادی کے لئےرشتہ لے کر اس کے گھر جائے اور اس کی امی سے ملے اور یہ بھی کہہ رہی تھی کہ وہ بالکل نہ ڈرے اس کی امی کو پہلے سے ہی خان صاحب بہت پسند ہے۔جب خان بھائی نے یہ سنا تو ایک دم بوکھلا گئے اور سخت لہجے میں لڑکی سے کہا۔”۔خالہ جان کو ایک بات اچھی طرح سمجھا دو وہ چاہے ہمیں جتنا مرضی پسند کرے لیکن ہم شادی صرف تم سے ہی کرے گی۔

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*