ڈاکٹر فرزانہ کوکبلکھاریمزاح

بیمار ہوئے جس کے سبب ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب

کہا جاتا ہے کہ جیتی جان کےساتھ سو سکھ ،ہزار دکھ”اور انہی دکھوں میں ایک “بیماری”بھی ہے۔بیماری تو ہر کسی کو تکلیف دیتی ہی ہے لیکن اکثر تیمارداری بھی جی کا آزار بن جاتی ہے۔کیونکہ ہر کسی کے دیکھے سے منہ پر رونق نہیں آتی کہ وہ سمجھے کہ “بیمار کا حال اچھا ہے”بلکہ اکثر تو یہ بھی ہوتا ہے
افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے
لوگوں نے پوچھ پوچھ کر بیمار کر دیا
اورجب تیماردار ایسا شوہر نامدار ہو کہ بیماری سے عاجز لیکن خود کو اپنےشوہر کے دل کی ملکہ سمجھنے والی بیوی نے ایک دن شوہر سے بڑے مان سے پوچھا کہ”اگر میں مر گئی تو آپ بھی میری یاد میں تاج محل بنوائیں گے؟تو شوہر نے بھرپور محبت اوراعتماد سے جواب دیا”کیوں نہیں جان من،میں نے تو زمین بھی خرید لی ہے۔تم ہی دیر کر رہی ہو”۔
ویسے یہ بات تو دو سو فی صد درست ہے کہ بیوی سے زیادہ شوہر کو کوئی نہیں جانتا اور سب سے زیادہ دکھتی رگیں بیوی کو ہی پتہ ہوتی ہیں اپنے شوہر کی۔ یہ الگ بات کہ بہت زچ آکر وہ کوئی رگ پکڑتی ہے جیسے ایک زوجہ محترمہ نے گھر کے سودا سلف کی ایک لمبی فہرست اپنے سرتاج کو بذریعہ ایس ایم ایس لکھ بھیجی اور آخر میں لکھا”شمع کے لئے سر درد کی کوئی اچھی دوائی بھی خرید لیجئے گا”فورا” ہی شوہر کا جواب آگیا۔شمع کون؟؟۔بیوی نے جواب میں لکھا۔کوئی نہیں بس اس لئےلکھا کہ کنفرم کرنا چاہ رہی تھی کہ آپ نے میسج پڑھ لیا ہے۔
قسم لے لیں کچھ لوگوں کو تو ایسی عادت ہوتی ہے کہ بیماری میں بھی دو نمبری اور چالاکی دکھانےسے باز نہیں آتے کوئی اور نہ ملے تو خود پر ہی طبع آزمائی شروع کر دیتے ہیں
بس اک ترا نام چھپانے کی غرض سے
کس کس کو پکارا دل بیمار نے میرے
ویسے تو ہم اس بات پر جی جان سے ایمان رکھتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بیماری ایسی نہیں جس کی شفاء نہ ہو۔لیکن اس ضمن میں اغلب گمان یہ ہے کہ یہ سراسر جسمانی بیماری کے متعلق کہا گیا ہے۔کیونکہ جس بیماری دل کا میر صاحب نے رونا رویا وہ جسمانی تو کیا انسانی بیماری بھی نہیں ہے جس میں سب تدبیریں بھی الٹی پڑ جائیں اور دوا بھی کچھ کام نہ کرے بلکہ” آخر کام تمام کیا” والے حتمی اور منطقی انجام تک پہنچے بغیر کوئی راہ فرار نہ ہو۔
اس نوعیت کی بیماری کو اکثر و بیشتر آسیبی” بھی قرار دیا جاتا ہے۔اور یہاں بھی غیر جانب داری سے دیکھیں تو صنفی امتیاز صاف صاف جھلکتا ہے کہ صنف نازک کو ایسی علامات والی بیماری لاحق ہو جائے تو گھر والے فورا”آسیب”قرار دے کر “جن اتارنے” کے واسطے جعلی عاملوں اور پیروں کے حوالے کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں بیچاری مریضہ کو کبھی عزت سے اور کبھی زندگی سے ہاتھ دھوناپڑتے ہیں۔اور یہاں مریض دہائی دئیے جا رہا ہے
کوئی تعویذ ہو رد بلا کا۔۔۔۔۔۔۔
محبت میرے پیچھے پڑ گئی ہے
مگر مجال ہے کہ اس کے “جن اتارنے”کا کوئی حیلہ وسیلہ کریں۔تب بھی مورد الزام صنف نازک ہی۔۔کہ “فلانی کم بخت چڑیل کی طرح بچارے کو چمٹ گئی ہے”
اب انہیں کیسے یقین دلایا جائے کہ میر صاحب نے اگر اس عارضے کو بیمارئ دل کہا تو مرزا غالب نےاپنے ہی دماغ کا خلل بھی قرار دیا۔ آپ ہی منصفی کیجئے کہ یہاں” ابن مریم” بھی ہو توکیا کرے۔
اس حقیقت کو بھی بھلے مانسوں کی طرح مان جائیں کہ مرض میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو جاتا ہے جب دماغ کا خلل یہ صورت اختیار کر جائے
وہ کسی اور کا بیمار ہوا ہے اور ہم
اک بیمار کے بیمار ہوئے بیٹھے ہیں
لیں جی بیماری نہ ہوئی “زبردستی”ہوئی۔بلکہ زیادتی ہوئی اپنے ساتھ بھی اور دوسرے فریق کے ساتھ بھی۔
پھر بچارے میر صاحب کو بھی کب پتہ تھا کہ ان جیسے “سادہ “ہر دور میں دہائی دیتے پائے جائیں گے کہ جس کے سبب بیمار ہونگے اسی “عطار کے لونڈے”سے دوا لیں گے۔تو پھر “بیماری” ناقابل علاج ہوکر مہلک تو ہو جائے گی نا اورایک دن “حضرات ایک ضروری اعلان سنئیے”کی صور اسرافیل جیسی دل دہلا دینے والی آواز بتا دے گی کہ آخر “کام تمام “ہوا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker