ڈاکٹر فرزانہ کوکبلکھاریمزاح

میں شاعر تو نہیں ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب

بہت تونہیں لیکن کچھ پرانے وقتوں کی بات ہے جب یہ گیت بڑے شوق سے آنکھوں میں عشق کا نشہ بھر کر اکثر منچلے لڑکیوں کو دیکھ کر گنگناتے تھے بلکہ موقع ملنے پر گاتے بھی تھے
“میں شاعر تو نہیں،مگر اے حسیں
جب سے دیکھا میں نے تجھ کو
مجھ کو ۔۔۔۔شاعری آگئی”
اور یار لوگوں کو کہتے بھی سنا ہے کہ شاعر ہونے کے لئے عاشق ہونا ضروری ہے۔اور عاشقی بھی وہ جو بقول غالب نکما کر دے تاکہ “بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے”
تو معلوم پڑا کہ ایک شاعر ہونے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔محبت کو کھیل سمجھ کر کھیلا جاسکتا ہے،عشق کی راس لیلا رچائی جاسکتی ہوگی مگر شاعر ی کے لئے جگر کا خوں کئے بنا چارا نہیں۔اب” جیسی روح ویسے فرشتے”جیسا عشق ہوگا ویسی ہی شاعری ہوگی۔یعنی عشق سچا تو شاعری سچی ورنہ جھوٹے نگوں کی رہزہ کاری۔
تبھی بچارے شاعر حضرات دہائی دیتے پھرتے ہیں”بس اک صنم چاہئیے،عاشقی کے لئے”
اور غیب سے مضامین کاخیال میں تسلسل سے آنے کے لئے شرط ہے کہ زندگی میں ایک اصول کو ایمان بنا لیا جائے کہ
“نکل ہی آتی ہے کوئی نہ کوئی گنجائش
کسی کا پیار کبھی آخری نہیں ہوتا “



دوستو !خیال رہے کہ شاعری کے لئے پے در پے عشق کرکے محبوباؤ ں کی لمبی چوڑی فہرست بنانا الگ بات ہے اور نازنینوں اور دوشیزاؤ ں سےحرم بھرناایک الگ بات۔
بیشتر حضرات میں حرم بنانے کی خواہش تو موجود ہوتی ہے اور “حسب استطاعت” کوشش بھی جاری رہتی ہے۔مگر شاعری کی توفیق ہر کسی کو کہاں۔
ویسے یہ فارمولا بھی کہیں لکھے دیکھا تھا کہ جو جتنا ناکام عاشق ہوتا ہے اتنا کامیاب شاعر ہوتا ہے۔غالبا”بعض شعرا کرام اسی لئے عشق پے عشق کئے جاتے ہیں اس امید پر کہ یا تو وہ کسی نہ کسی عشق میں کامیاب ہو جائیں گے یا پھر کامیاب شاعر بن جائیں گے۔
اس پر یاد آیا کہ ایک جگہ پڑھا کہ جون ایلیا نے ایک مرتبہ لکھا کہ میں ناکام شاعر ہوں اس پر مشفق خواجہ صاحب نے انہیں مشورہ دیا ۔جون صاحب، ایسے معاملات میں احتیاط سے کام لینا چاہئیے، اہل نظر آپ کی دس باتوں سے اختلاف کرنے کے باوجود ایک آدھ بات سے اتفاق بھی کر سکتے ہیں۔
ویسےکامیاب شاعروں سے بھی لوگ کونسا اچھا سلوک کرتے ہیں ۔بالخصوص جو راہی عدم ہوچکے ہوں۔ایسے ایسے بےتکے اور من گھڑت اشعار ان کے نام سے منسوب کردیتے ہیں بلکہ آجکل تو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے ہیں کہ اگر ان شعرا کرام کو پتا چلتا ہوتااور ان کا بس چلتاتو وہ ایک بار اس عالم فانی میں کچھ دیر کے لئے ہی سہی لوٹ آتے اور ہاتھ جوڑ کرخود کو ناکام شاعر قرار دے دیتے بلکہ شاعر ہونے سے ہی انکار کردیتے۔ویسے بھی کچھ شعرا کے لئے شعر کہنے کا ایک مقصد یہ بھی تو ہوسکتا ہے
ہم تو لکھتے ہیں، تم پڑھو شاید
داد پانے کو کون لکھتا ہے۔۔۔ ۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ شعرا حضرات صرف اپنی ہی نہیں دوسروں کی محبت کے قصوں سے بھی اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ ان قصوں کو شاعری میں سمو کر اپنے ساتھ ساتھ عشق کی ان کہانیوں اور ان سے وابستہ ہستیوں کو بھی امر کر دیتےہیں۔لیکن کچھ کم عقل ،کج فہم اور بد اندیش لوگ ان کا شکر گزار ہونے کی بجائے برا بھی منا جاتے ہیں۔
جھنگ کے ایک بابا جی سے کسی نے پوچھا کہ ہیر کا قصہ واقعی سچا ہے تو بابا جی نے کچھ شرمندگی اور کچھ کچھ خفگی سے جواب دیا’اتناں تاں اساڈی دھی دا قصور نہ ہائ جتناں وارث شاہ اساکوں ذلیل کیتئ۔(اتنا تو ہماری بیٹی کا قصور نہیں تھا جتنا وارث شاہ نے ہمیں ذلیل کیا)۔



ویسے بھی زندگی کے ساتھ ساتھ شاعری اور عاشقی کے لئے بھی ایک عدد دھڑکتےدل کا ہونا بلکہ “کارآمد” ہوناشرط اولین ہے۔کیونکہ کسی شاعر کے ہی بقول
شاعری کیا ہے دلی جذبات کا اظہار ہے
دل اگر بے کار ہے تو شاعری بےکار ہے اور یہ بھی شاعری کی دنیا کا قانون ہے کہ کسی شاعر اور اس کی شاعری کو حیاث جاودانی تبھی مل سکتی ہےجب اس کادل اس اہلیت اور قوت استعداد کا مالک ہوکہ اس کے ہزار ٹکڑے ہو سکیں کوئی یہاں گرے کوئی وہاں گرے۔یعنی “جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے”.اور پھر انجام کار بچارے بھولےشعرا کرام روتے پھرتے ہیں
“نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا”

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker