ادبڈاکٹر فرزانہ کوکبسرائیکی وسیبلکھاری

خان رضوانی صاحب اور میری” الکھ نگری“( وفات چھ اپریل 1994 ء) ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب

خان رضوانی صاحب سے ان کی زندگی میں میری دو ملاقاتیں ہوئیں۔پہلی بار جب میں ایم-اے اردو کی طالبہ کی حیثیت سے ممتاز مفتی (مرحوم) کی آپ بیتی “الکھ نگری”پر مقالہ لکھ رہی تھی،تو کچھ مواد کے حصول اور کمپوزنگ کے معاملات کے حوالے سے میں اپنی دوست کے ہمراہ جمشید رضوانی(جو اس وقت میرے کلاس فیلو تھے) کے گھر گئی۔خان رضوانی صاحب کے دفتر کا ایک دروازہ گھر کے ڈرائینگ روم میں کھلتا تھا۔
ہمیں وہاں بیٹھے تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ ایک طویل قامت،سڈول جسامت کی حامل ایک باوقار،پراعتماد اور متانت کی حامل شخصیت دروازہ سے اندر داخل ہوئی۔ان کی سحر انگیز شخصیت نے ایسا اثر دکھایا کہ میری دوست اور میں فوراً ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ہماری نگاہیں ان کی آنکھوں سے جھلکتی شرافت اور ان کے وجود سے عیاں ہوتی ان کی خاندانی نجابت کی تعظیم میں جھک گئیں۔نرم لہجے ،دھیمی آواز اور نپے تلے الفاظ میں کچھ دیر ہمارے مقالہ جات کے حوالے سے نہایت عالمانہ گفتگو کرنے کے بعد دوبارہ اپنے دفتر چلے گئے۔لیکن میرے دل میں ہمیشہ کے لئے ایک محترم ہستی کے طور پر براجمان ہوگئے۔
خان صاحب سے دوسری ملاقات بھی ان ہی کے گھر دوپہر کے کھانے پر ہوئی۔اس ملاقات میں ان کی شخصیت کا ایک اور خوبصورت پہلو میرے سامنے آیا۔ان کے ہلکے پھلکے،شگفتہ اور پرمزاح جملوں نے پورے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھا۔تہذیب اور شائستگی کی پاسداری میں ایسا کمال میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں شاذونادر ہی دیکھا ہے۔
بلا کی چمک اس کے چہرے پہ تھی
مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا
لیکن اس کے بعد سے اب تک صورت احوال کچھ یوں ہے کہ
مرنے والوں کو کہاں دفن کیا
ہم انہیں ساتھ لئے پھرتے ہیں
اور کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ لوگ اپنے پیاروں، جن کو موت ہم سے جدا کردیتی ہے، سے کسی نہ کسی طرح اپنے دل کی باتیں کرنے،رابطہ اور تعلق بحال رکھنے کی مختلف کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔کبھی عالم بالا سے خط آتے جاتے ہیں،کبھی روحوں کو عاملوں کے ذریعے بلایا جاتا ہے اور کبھی روحوں سے باتیں کی جاتی ہیں۔اس فانی نگری کے علاوہ، جو ہمارے اور آپکے سامنے ہے، الله جانے کتنی” الکھ نگریاں “ہیں جو ہماری بصارت و بصیرت اور فہم و ادراک سے ماورا ہیں۔
اور ایسی ہی ایک الکھ نگری خواب نگری میں خان رضوانی صاحب سے اکثر وبیشترمیری ملاقات کا سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے ۔اس سلسلہ کو کوئی بھی نام دیا جا سکتا ہےیااس ساری واردات کو علم نفسیات کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔نفسیات دانوں کے مطابق وہ سب کچھ جو ہم اپنے خوابوں میں دیکھتے ہیں درحقیقت ہمارے لاشعور میں دبی ہوئی ہماری ناآسودہ خواہشات کی تکمیل یا محرومیوں کا وہ مداوا ہے جو ہم زندگی میں حاصل نہیں کرسکتے۔
جمشید رضوانی سے شادی سے قبل ہی خان صاحب کی وفات کی وجہ سے میں سسر جیسے ایک شفیق رشتے سے محروم ہوچکی تھی۔زندگی میں بارہا اس کمی اور محرومی کا احساس ہوا۔لیکن یہ بھی بالکل سچ ہے کہ زندگی کے ہر اہم موقع پر ہمیں یہ احساس بھی ہوتا رہا کہ وہ کسی نہ کسی طرح ہمارے احوال سے واقف ہیں اور ہم سے رابطہ میں ہیں۔اور ایک الکھ نگری وجود میں آچکی ہے
اس حوالے سے میں دو بہت اہم واقعات کا ضرور ذکر کروں گی۔ایک تو یہ کہ انکل کی وفات کے بعد جب جمشید رضوانی سے میری شادی کی بات چل رہی تھی۔اس دوران جمشید کے ایکسیڈنٹ کے نتیجہ میں ایک بازو فریکچر ہو گیا۔اس وجہ سے ان کے گھر والوں کا ہمارے ہاں آنا ملتوی ہوگیا تو انکل میرے خواب میں آئے کہ پریشانی میں دونوں ہاتھ ملتے ہوئے ٹہل رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ دیر کیوں ہوئی جا رہی ہے۔مجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا۔
اور دوسرا بہت اہم واقعہ میری تیسری بیٹی کی ولادت کا ہے۔الله تعالی نےہمیں تین رحمتوں سے نوازا ہے ،الحمد لله۔تو تیسری بیٹی کی دفعہ مجھ سمیت شاید سب کی ہی خواہش تھی کہ الله تعالی اب کی بار بیٹے کی نعمت سے نواز دے۔جب بیٹی کی ولادت کے دن قریب آئے تو ایک صبح میری بڑی بیٹی (جو اس وقت آٹھ برس کی تھی) نے ہم سب کو بتایا کہ رات دادا ابو میرے خواب میں آئے تھے اور مجھے کہا کہ میں تمہیں بہت سی چاکلیٹس اور تمہاری پسند کی باربی ڈول دے کر جا رہا ہوں۔اس کا بہت خیال رکھنا اور اس سے بہت کھیلنا۔جب میری بیٹی کی پیدائش ہوئی تو وہ ہم سب کو سب سے زیادہ پیاری ہوگئی کہ سب کا کہنا تھا”اس کو تو اس کے دادا خود آکے دے گئے ہیں”
خان رضوانی صاحب کی پچیسویں برسی کی تقریب جو ملتان کی معروف ترین ادبی تنظیم سخنور فورم نے منعقد کروائی میں شرکت۔ میرے لئے بہت بڑی سعادت تھی اور اپنی خوش بختی کے احساس کی خوشی دل میں لئے میں رات کوسوگئ تو اسی خواب نگری میں وہ آنٹی(ساس مرحومہ) صاحبہ کے ہمراہ آئے اور کہنے لگے کہ بہت دن ہوئے تھے تم سے ملے ہوئے اس لئے آگئے۔
بےشک یہ دنیا،یہ نگری تو فانی ہے۔لیکن خدا کرے کہ یہ الکھ نگریاں اور خواب نگریاں سدا قائم رہیں آباد رہیں جہاں ہمارے پیاروں اور ہمارے بزرگوں سے ہماری ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں،ان سے باتیں بھی ہوتی ہیں اور ان سے دعائیں بھی ملتی ہیں

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker