ملتان میں خواتین سیمینار اور مشاعرے کا احوال ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب

women mushaira

یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ کاروبار دنیا مرد و زن دونوں کے مساوی اور بھرپور کردار کا مرہون منت ہے۔اور یہ بھی ایک تسلیم شدہ امر ہےکہ کوئی بھی معاشرہ عورت کی اہمیت اور اس کے فعال کردار کو نظر انداز کرکے ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتا۔اور ہر نئے آنے والے دور کے لئے اس حقیقت سے آگاہی کی ضرورت مرد وزن ہر دو کے لئے شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے سیمینارز،ورکشاپس،کانفرنسس اور دیگر تقریبات کا زیادہ سے زیادہ انعقاد دور حاضر کی اہم ضرورت بن چکا ہے جہاں خواتین کی مناسب نمائیندگی ہو۔ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے اور ان کو ان کی گوناں گوں صلاحتیوں اور فعال کردار کی ضرورت سے آگاہی دی جائے
23 نومبر 2017 کو بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان،ریڈیو پاکستان ملتان،روٹری کلب اور ملتان ٹی ہاوس کے اشتراک سے” ادب ،فنون لطیفہ اور ثقافت کے فروغ میں خواتین کا کردار“کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد ملتان ٹی ہاؤ س میں کیا گیا۔جبکہ دوسرے سیشن میں خواتین کے مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔منتظمین میں رضوانہ تبسم ، راقم السطور اور مہرین ہاشمی شامل تھیں ۔سیمینار کی صدارت ڈاکٹر عقیلہ جاوید صدر شعبہ اردو زکریا یونیورسٹی ملتان نے کی۔جبکہ نقابت کے فرائض ہمیں سونپے گئے ۔سیمینار کی خاصیت اور انفرادیت یہ تھی کہ اس میں ملتان کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور خواتین کو مدعو کیا گیا تھا۔جنہوں نے نہ صرف اپنے اپنے متعلقہ شعبوں میں خاصی طویل جدوجہد اور خدمات کی داستان رقم کی تھی بلکہ ایک مثال بھی قائم کی کہ عورت اپنی ہمت،جراءت اور استقلال کو بروئے کار لا کرباوقار اور باعزت طریقہ سے کسی بھی معاشرہ میں زندگی کے ہر شعبہ میں گرانقدر خدمات سر انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے۔ملتان کی معروف فکشن رائٹرز اور شاعرات شگفتہ بھٹی اور شہناز نقوی نے ادب اور ثقافت کے باہمی تعلق کے حوالے سے گفتگو کی۔ادب کی جڑیں بلاشبہ اپنے معاشرہ میں ہی موجود ہوتی ہیں لہذا ادب خواہ نثر کی صورت میں ہو یا منظوم،اپنی معاشرت،تہذیب و تمدن اور ثقافت کا بھر پور عکاس ہوتا ہے۔اسی لیے ہمیشہ سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ کسی معاشرہ اور اس کی ثقافت کو پڑھنا ہو تو اس کے ادب کا مطالعہ کیجئے۔دونوں خواتین نے اردو ادب میں پاکستانی نیز خطہ ملتان کی ثقافت کی عکاسی اور اس میں عورت کی حیثیت اور کردار کے حوالے سے گفتگو کی
صحافت کا شعبہ کسی بھی معاشرہ میں اہم مقام رکھتا ہے صحافت، ادب اور ثقافت کا ہمیشہ سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔کم و بیش ایک صدی قبل خواتین کے رسائل تہذیب نسواں اور عصمت سے خواتین نے صحافت میں بھی اپنے کردار کا آغاز کیا۔عصر حاضر میں جدید رسل و رسائل،الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا وغیرہ نے زندگی کے ہر شعبہ کے ساتھ ساتھ ثقافت،ادب اور فنون لطیفہ پر گہرے اور دوررس اثرات مرتب کئے ہیں۔شعبہ صحافت سے ملتان کی دو نامور خواتین میمونہ سعید جو ایک نجی ٹی وی چینل سے گزشتہ کی سالوں سے وابستہ ہیں اور متعدد نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں۔جبکہ ماہ رخ حفیظ صاحبہ جو ریڈیو پاکستان،ملتان کی سینئیر صداکارہ ہونے کیساتھ کالم نگار اور شاعرہ بھی ہیں ، انہوں نے ملتان کی صحافی خواتین کی نمائیندگی کرتے ہوئے معاشرہ میں میڈیا کے کردار اور اثرات کے حوالے سے بہت متاثر کن گفتگو کی بالخصوص ہمارے معاشرہ میں میڈیا سے وابستہ خواتین کے جراءت مندانہ کردار اور انہیں درپیش مسائل کا تذکرہ کیا۔کسی بھی معاشرہ میں مختلف نوعیت کی فلاحی اور اصلاحی تنظیموں کے کردار،فعالیت،اہمیت اور ضرورت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔شہر ملتان کی مختلف فلاحی تنظیموں سے وابستہ خواتین جن میں محترمہ زہرہ سجاد زیدی،محترم شائشتہ بخاری اورمحترمہ زاہدہ خان مدعو تھیں نے اس خطہ کی ثقافت کے مختلف رنگوں کو اجاگر کرنے نیز جنوبی پنجاب کی ثقافت میں عورتوں کے حوالے سے رائج غیر انسانی اور غیر اسلامی رسومات اور نظریات اور ان سب کا شکار خواتین کے مسائل پر چشم کشا گفتگو کی۔اور ان کے خاتمے کے لئے فلاحی تنظیموں اور ان سے وابستہ خواتین کی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔آخر میں تقریب کی صدر ڈاکٹر عقیلہ صاحبہ نے سیمینار میں ہونے والی گفتگو کے مختلف پہلوؤ ں کا خوبصورتی سےاحاطہ کیا۔تقریب کے دوسرے سیشن میں خواتین کے مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس کی نقابت رضوانہ تبسم کے سپرد تھی جبکہ ملتان کی معروف شاعرہ محترمہ نوشابہ نرگس نے مشاعرہ کی صدارت کی۔مشاعرہ کا آغاز رضوانہ تبسم نے اپنے حمدیہ اور نعتیہ کلام سے منتخب چند خوبصورت اشعار سے کیا۔مشاعرہ میں جہاں ملتان کی نامور اور سینئیر شاعرات کو مدعو کیا گیا تھا۔جن میں شہناز نقوی،صائمہ نورین بخاری،شگفتہ بھٹی،ماہ رخ حفیظ اور تانیہ سلیم شامل تھیں وہیں نئی نسل کی نمائیندہ شاعرات سحر سیال،ڈاکٹر قرۃ العین ہاشمی،عمرانہ کومل اور نازیہ فیض بھی موجود تھیں۔شاعرات نے اردو کے علاوہ سرائیکی اور پنجابی زبان میں غزلیں اور نظمیں سنا کر شرکائے محفل سے خوب داد وصول کی ۔

Views All Time
Views All Time
263
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*