ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

عجیب رنگ دکھلائے ہے: جدوجہد / ڈاکٹرلال خان

پاکستان مسلم لیگ (ن) میں طویل قیاس آرائیوں کے بعد اب ”مسلم لیگ‘‘ اور ”(ن)‘‘ میں علیحدگی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اس پارٹی کے حالیہ پارلیمانی اجلاس میں ”تاحیات قائد‘‘ پر ممبران کی تنقید پاکستان کی اس مروجہ سیاست میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے بھی اپنی حقیقت بیان کر دی۔ ”سٹیٹس کو‘‘ کے اس نمائندے نے اپنے بھائی جان کی جانب سے دیئے جانے والے بیانات سے پیدا ہونے والے اقتدار کے حوالے سے خطرے سے بچنے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی صدارت میں اس پارٹی کی فطرت پیش کر دی۔ چھوٹے میاں صاحب نے اپنے بیانات میں مسلم لیگ کی اصل اساس کو ہی بیان کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) بھی ماضی کی مسلم لیگوں کی طرح بنیادی طور پر اس اقتصادی اور ریاستی نظام کی پیداوار، نمائندہ اور سیاسی محافظ ہی ہے۔ ہمیشہ پھوٹ کے آغاز میں لیڈر کے خلاف پہلا وار اُس کے مشیروں کے نام پر کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی بالواسطہ یا براہِ راست پرویز رشید وغیرہ کو تنقید کا ہدف بنایا گیا۔ سِرل المیڈا کو خواہ مخواہ ایک ”متنازعہ صحافی‘‘ قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ سِرل اس ملک کے چند صحافیوں میں سے ہیں‘ جو بہت ہی گہرے اور مختصر تجزیوں میں بات کہہ جاتے ہیں۔ یہ خصوصیت موجودہ دور کی صحافت سے وابستہ افراد کو کم ہی حاصل ہے۔ اسی طرح قیادت کی سٹیج پر رانا ثنااللہ کی عدم موجودگی بھی اس پھوٹ کی صف بندی کی غمازی کرتی ہے۔ یہاں مفاد پرست، دوسرے درجے کے سیاسی لیڈروں اور کارکنان کا پارٹی قیادت پر براہ راست حملہ کرنے کی بجائے ان کے بیانات کو مشیروں سے منسوب کرنا اور قیادت سے اختلاف رائے کرنے کے لئے اُن پر ملبہ ڈالنے کی روایت پرانی ہو چکی ہے۔ نواز شریف، بینظیر یا دوسرے لیڈر جن مشیروں کو چنتے ہیں، ان پر اعتماد کرتے ہیں اور ان کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں‘ وہ مشیر ان کی مرضی اور منشا کی ترجمانی ہی کرتے ہیں۔ اس لئے یہ بزدلی اور مفاد پرستی کا کھیل اب بند ہونا چاہیے۔ جلد یا بدیر ایسی تنقید اپنے اصل روپ میں آتی ہے اور پھر پارٹی ممبران، پارلیمانی عہدیداران وغیرہ کھل کر پارٹی سے الگ ہو جاتے ہیں‘ دوسری پارٹیوں میں چلے جاتے ہیں یا پھر خود نئی پارٹیاں بنا لیتے ہیں۔
اگر مسلم لیگ نواز کا جائزہ لیا جائے تو یہ تمام مسلم لیگوں میں سے اکیلی ہی ایسی ہے جس کو آمر صرف ایک سویلین شیروانی کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ لیکن پھر ایسی ہی پارٹیوں میں کچھ لیڈر نمایاں ہو جاتے ہیں اور خود وسیع مقبولیت کے حامل ہونے لگتے ہیں۔ ایسے میں جہاں ان کے تخلیق کار ان کو برداشت نہیں کر سکتے وہاں جب وہ اپنے پسند کرنے والے عوام کے پاس جاتے ہیں تو ایسا ہو نہیں سکتا کہ یہ جلسے اجتماع اور جلوس ان کی نفسیات پر اثر انداز نہ ہوتے ہوں۔ البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ اس وقت اور عہد میں عوام اور سماج کی نفسیات اور حوصلہ مندی کی کیفیت ان لیڈروں اور پارٹیوں کے مستقبل اور سیاسی کردار تشکیل دیتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ایوبی مسلم لیگ (کنونشن) کے جنرل سیکرٹری تھے۔ وہ ایوب خان کے وزیر خارجہ بھی تھے اور اس آمر کے کافی قریب بھی تھے۔ لیکن جب اختلافات ابھرے تو بھٹو نے جس بغاوت سے استعفیٰ دیا‘ وہ اتنا غیر معمولی واقعہ نہیں تھا‘ بلکہ جس عہد اور دور میں بھٹو نے یہ بغاوت کا پرچم بلند کیا تھا اس عہد میں سماجی نفسیات ایک ابھار‘ ایک رجائیت کی کیفیت میں تھی۔ انقلابات عموماً جنگوں کی کوکھ سے ابھرتے ہیں۔ جب 1965ء کی جنگ سے 1968ء کا انقلاب ابھرا تو بھٹو کی بغاوت صرف جمہوریت اور ووٹ کے تقدس تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے سوشلزم کا پروگرام دے کر ابھرتے عوام کے ارمانوں اور امنگوں کی ترجمانی کی تھی۔ اسی لئے بھٹو اور پیپلز پارٹی”راتوں رات‘‘ اس ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن گئی تھی۔ لیکن اس طاقت کا سرچشمہ 1968-69ء کا انقلاب ہی تھا۔ نواز شریف نے جو انحراف کیا‘ اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کی اپنی پارٹی ہے۔ بھٹو نے مسلم لیگ (کنونشن) کو دھتکار کر بغاوت کا علم بلند کیا تھا‘ لیکن نواز شریف اپنی پارٹی ہی میں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ نواز شریف بھٹو نہیں۔ کم از کم اب تک وہ اسی پارٹی کے آسرے پر ایسے بیانات دے رہے ہیں‘ جبکہ پارٹی خود اسی ”سٹیٹس کو‘‘ کا حصہ ہے۔ اس حاکمیت کے خلاف بیانات دینا (ن) لیگ میں گناہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب نواز شریف کے خلاف اپنے ہی نام کی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ بولنے لگے ہیں۔ مسلم لیگوں کے پارلیمنٹیرین اس ریاست کے زیر سایہ نظام زر کے بڑے بڑے سرمایہ دار، کاروباری حضرات، تاجر اور ٹھیکیدار ہیں۔ وہ بھلا اپنے مفادات کے تحفظ کرنے والے اداروں کا نقصان یا ان کی بدنامی کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟ انہی کے مرہون منت وہ مال بھی بناتے ہیں، سیاست بھی کرتے ہیں، حاوی بھی رہتے ہیں اور ریاستی اہلکاروں کی مٹھیاں بھر کر معاملات بھی چلاتے ہیں۔ چوہدری نثار اور شہباز شریف انہی کے ”نظریاتی‘‘ نمائندے اور لیڈر ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب بڑے میاں صاحب اور ان کی صاحب زادی یہاں سے کہاں جائیں گے؟ نواز شریف اور مریم جو سیاسی موقف (بیانیہ) پیش کر رہے ہیں وہ ”ووٹ کی عزت‘‘ انصاف اور عدل کی شفافیت، انسانی حقوق وغیرہ تک محدود ہے۔ ایسے موقف سے درمیانے طبقے کی سول سوسائٹی اور لبرل عناصر تو محظوظ ہو سکتے ہیں لیکن محنت کشوں کے وسیع تر سلگتے ہوئے مسائل ان اقدامات سے حل نہیں ہو سکتے۔ برطرفی کے بعد جی ٹی روڈ کے کارواں کے اختتام پر نواز شریف نے داتا دربار کے سامنے جلسے میں جو ”بلوچستان کو تاراج‘‘ کرنے کا الزام لگایا تھا اور دہشت گردی کے بارے میں جو سِرل المیڈا کو انٹرویو دیا‘ یہ ایسی دکھتی رگ ہے جس کو مسلم لیگیے اور حاکمیت‘دونوں برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن پھر یہ اقتصادی اور سماجی ایشوز کو نہیں چھوتے۔ غربت مہنگائی بیروزگاری تعلیم علاج اور انصاف کی مفت فراہمی جیسے بنیادی ایشوز اور مطالبات پر نواز شریف کا موقف نہ ہونے کی وجہ سے عوام کی باشعور اور ہراول پرتوں کی دل سے حمایت نہیں ابھری۔ لیکن نواز شریف کے جلسوں میں عوام شرکت اس لیے زیادہ بڑی تعداد میں کر رہے ہیں کہ تمام پارٹیاں اس نظام زر کے زور کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہیں۔ یہ ایسا خلا ہے جس کو نواز شریف اور مریم استعمال کر رہے ہیں لیکن یہ ایک مقام پر آکر رک گئے ہیں۔ اب یہی باتیں دھرانے اور مظلومیت کا واویلا کرنے سے تو مزید راستے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ لیکن اب پارٹی میں پھوٹ کن خطوط پر ہوتی ہے یہ کافی اہمیت کا حامل سلسلہ ہو گا۔
اگر نواز شریف‘ بھائی، خاندان اور پارٹی سے سمجھوتے کر لیتا ہے تو پھر وہ واقعی ختم ہے۔ اگر لڑتا ہے تو پھر کس بنیاد پر اور کہاں تک؟ وہ جس انقلاب کی بات کرتے ہیں وہ کون سا ہے اور کیسے آئے گا؟ پرویز رشید اور مریم نواز کو کم از کم اس کی وضاحت تو کرنی چاہیے۔ کیا نواز شریف نے جو یہ لفظوں کی بغاوت کی ہوئی ہے‘ اس میں اتنی جرأت ہے کہ وہ اپنے خاندان، اپنے طبقے اور اپنے ماضی سے بھی بغاوت کر سکے؟ یہ اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ بھٹو نے اعلانیہ کہا تھا کہ ”میں اپنے طبقے سے بغاوت کرکے عوام میں آیا ہوں‘‘ یہ تاریخی المیہ ہے کہ آج بھٹو کی پارٹی پر اسی طبقے کے بد ترین سرمایہ دار اور کالے دھن کے بیوپاری براجمان ہیں۔ نواز شریف کے لئے وقت مشکل ہوتا جا رہا ہے‘ لیکن ابھی تک مریم کی تربیت اور نواز شریف کا نظریاتی ہونا واضح نہیں ہے کہ وہ کون سا نظریہ ہو گا۔ لیکن عوام اب تک حکمران سیاست دانوں کے اس کھلواڑ میں بیزار سامعین بنے بیٹھے ہیں۔ ان کے اندر بغاوت کا لاوا بھی اگل رہا ہے اور ابھرنے کی تڑپ بھی روز بروز ابھر رہی ہے۔ وہ اس سیاسی تھیٹر کو زیادہ طویل عرصہ برداشت نہیں کریں گے۔ وہ وقت شاید زیادہ دور نہیں جب وہ خود اسی سیاسی میدان میں اتر کر ایک انقلابی تحریک کو جنم دے سکتے ہیں۔ ایسی تحریک موجودہ سیاسی ایکٹروں کو تنکوں کی طرح بہا کر غائب کر دے گی۔ ان تحریکوں میں ہی انقلابی تنظیمیں پارٹیاں بن جاتی ہیں اور تحریک اپنی قیادت خود تراش لاتی ہے۔ یہی کارواں طبقاتی جدوجہد کے سفر کو کامیابی کی منزل سے ہمکنار کر دیتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker