دہشت گردی کا خمیر: جدوجہد / ڈاکٹر لال خان


  • 5
    Shares

پچھلے ہفتے وفاقی کابینہ نے لگ بھگ 120 ماہرین اور افسران کی مرتب کردہ سال 2018-2023ء کے لیے نیشنل انٹرنل سکیورٹی پالیسی رپورٹ کی منظوری دی۔ رپورٹ میں چند حیرت انگیز انکشافات کیے گئے کہ ”بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات پھر سر اٹھا رہے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغانستان منتقل ہو گئے ہیں۔ داعش افغانستان میں پاکستانی سرحد کے قریب اپنی جڑیں بنا رہی ہے‘ جس کے پاکستان کے بعض حصوں میں پھیلنے کے حقیقی اندیشے موجود ہیں۔ اس کیفیت کو شام اور عراق سے واپس آنے والے تربیت یافتہ جنگجوؤں نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ نسبتاً خوشحال اور مڈل کلاس پس منظر سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان، جو بڑی اور نامور درس گاہوں سے فارغ التحصیل ہیں، شدت پسندانہ نظریات کی طرف رجحانات رکھتے ہیں۔ دہشت گردی شہری اور دیہی‘ دونوں علاقوں میں پائی جاتی ہے جسے قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا شدت پسند نظریات کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ ہے‘‘۔ یہ حقائق مختلف حکومتوں کے ان دعووں کی نفی کرتے ہیں کہ کامیاب آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔
فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے آئینی اقدام اور حکمران طبقات کے ان قبائلی علاقوں میں استحکام اور امن لانے کے لا متناہی دعووں کے باوجود ان علاقوں میںحالات اب بھی دگرگوں ہیں۔ خطے کے باسیوں کے لیے استحکام، ترقی اور خوشحالی ایک سراب بن چکا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں حالیہ انتشار اور وانا میں ہونے والے واقعات ان دعووں کی قلعی کھول رہے ہیں۔ دہائیوں تک نام نہاد ‘امن کمیٹیوں‘ یا مقامی لوگوں کی زبان میں ‘اچھے طالبان‘ کے ذریعے حکومتی معاملات چلانے کی پالیسی نے صرف تشدد کو بڑھاوا ہی دیا ہے۔
چار دہائیوں سے زیادہ عرصے کی سامراجی جنگوں، رجعتی سرکشی اور دہشت گردی نے ان سنگلاخ چٹانوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ افغانستان سے متصل یہ علاقے شاید روئے زمین کے سب سے غریب اور پسماندہ علاقے ہیں۔ اپریل 1978ء میں افغانستان کے ثور انقلاب کے بعد امریکی سامراجیوں نے کابل کی بائیں بازو کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی سماجی معاشی اصلاحات کو کچلنے کے لیے ایک وحشیانہ مہم کا آغاز کیا۔ جن کرائے کے لوگوں کے ذریعے مذہبی جذبات کو ابھار کر جہاد کا آغاز کیا گیا وہ راتوں رات امیر بن گئے اور ایس یو وی (SUV) گاڑیاں چلانے لگے۔ مغربی سامراجی اور علاقائی جابر ریاستیں ان پر ڈالر نچھاور کر رہی تھیں۔1988ء میں سوویت فوجوں کی انخلا کے بعد ان کی فنڈنگ اچانک بند ہو گئی‘ جس کی جگہ سامراجی پالیسی سازوں کی تشکیل کردہ منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور جرائم کے دیگر ذرائع نے لے لی۔ سامراجی آقائوں کی اس بے وفائی سے بہت سے گروہ امریکہ کے ہی خلاف ہو گئے۔ یہ پراکسی ٹولے مذہب کے نام پر ہونے والی خونریزی اور دہشت سے حاصل ہونے والے کالے دھن پر آپس میں ہی لڑ پڑے اور مختلف دھڑے بن گئے۔ منشیات، کلاشنکوف اور جرائم سے بھرپور یہ معیشت اور ثقافت پاکستانی سماج میں بھی سرایت کر گئی۔ ضیاالحق آمریت نے امریکی سامراج کی ایما پر اپنی حاکمیت کی طوالت کے لیے وحشیانہ انداز میں جنونیت اور فرقہ وارانہ تشدد کو پروان چڑھایا۔
موجودہ حالات میں سامراجیت اور انتہا پسندوں کی منافقت دو طرفہ ہے۔ مخصوص قیادت عوام کے سامراج مخالف جذبات کو استعمال کر کے اپنی سماجی، سیاسی اور معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی واردات کرتی ہے۔ وسیع بے روزگاری اور محرومی سماج میں بڑے پیمانے کی لُمپنائزیشن کو جنم دیتی ہے۔ مخصوص گروہ ان لمپن نوجوانوں کے ٹولوں کو نہ صرف اسلحے اور پیسے دیتے ہیں‘ بلکہ انہیں جرائم کی سزا سے بچاتے بھی ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد ، بالخصوص وہ جو دیہاتوں سے شہروں میں آتے ہیں یا وہ جو محرومی اور گندگی کے حامل نواحی علاقوں میں رہتے ہیں، اپنے تعلیمی اداروں اور شہروں میں موجود سماجی اور ثقافتی حالات سے دہشت زدہ ہو جاتے ہیں۔ ان میں پیدا ہونے والا احساس کمتری اور خوش حال گھرانوں کے بچوں میں دولت کی ریل پیل کی طرف ان کی حقارت انہیں سیاہ رجعت کی بھٹی میں جھونک دیتی ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں ترقی پسند اور بائیں بازو کی قوتوں کے نسبتی زوال کی وجہ سے ان کے پاس اپنی محرومیوں کے ازالے کے لیے کوئی مثبت سماجی اور سیاسی راستہ نہیں بچا۔ در حقیقت وہ ان مافیاز کے ہاتھوں یرغمال بن جاتے ہیں‘ حتیٰ کہ جب ان کے سامنے اُن کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوتا ہے تب تک شاید بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس مایوسی کے عالم میں وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے لیے خام مال بن جاتے ہیں۔ جو ترقی کرکے بچ جاتے ہیں وہ آقاؤں کی سوچ کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ کالے دھن کے وسیع ذرائع کے ساتھ یہ سیاست اور ریاستی اداروں میں بھی جگہ بنا لیتے ہیں اور سماجی زندگی کو مزید گھٹن زدہ اور سماج میں ترقی پسند رجحانات کا گلا گھونٹتے ہیں۔
یہ دہشت گردی مشرق وسطیٰ سمیت پورے خطے میں پھیل کر قدیم تہذیبوں کو تاراج کر رہی ہے۔ مقامی رجعتی حکمران اور مغربی سامراجی اس ناسور کو اپنے مادی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں امریکہ نے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں القاعدہ اور بعد میں داعش کے وحشیانہ حملوں کے خلاف عوامی غم و غصے کو استعمال کر کے مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر اپنے کنٹرول کو جواز فراہم کیا اور ترقی یافتہ ممالک میں طبقاتی جدوجہد کو کچلا۔ عوامی توجہ ہٹانے کے لیے سرمایہ دارانہ سیاست دانوں کے ہاتھوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی ایک کارآمد اوزار ہے۔ یہ سوچ کہ یہ ‘جمہوریت‘ اور ‘مغربی اقدار‘ کے لیے خطرہ ہے سامراجی سیاستدانوں کی مبالغہ آرائی ہے۔ یہ مظہر حکمران طبقات کے لیے مکمل طور پر مفید ہے۔ اس سے وہ اپنے لیے حمایت پیدا کرتے ہیں، نسل پرستی کو ہوا دیتے ہیں اور سماجی بحران کی حقیقی وجوہات سے توجہ ہٹاتے ہیں۔
بہرحال انتہا پسندی امریکہ سے لے کر ہندوستان تک نوجوانوں اور محنت کشوں کو تقسیم کر کے ان کے دماغوں میں زہر گھولنے کی خطرناک واردات کرتی ہے۔ اپنی انتہائی زہریلی شکل میں یہ فاشزم کی ایک شکل ہے۔ فاشزم ہمیشہ قومی دیو مالائی قصوں کا لبادہ اوڑھتی ہے۔ مسولینی کے فاشسٹ گروہ قیصریت اور سلطنت روم، ہٹلر کے نازی ٹولے آریائی نورڈک کہانیوں، سپین میں فرانکو کے مذہبی فاشسٹ کیتھولک چرچ اور سزا و جزا، بھارت کی شیو سینا ہندو دیوتائوں اور دیویوں جبکہ بعض فسطائی گروہ (داعش، القاعدہ، طالبان وغیرہ) قرون وسطیٰ سے قبل کے زمانے پر فخر کرتے ہیں۔ تمام فاشسٹ گروہوں میں ایک مشترکہ چیز یہ ہے کہ سب کمزور اقلیتوں کے خلاف اپنے پُرتشدد نظریات کے ذریعے اپنے لمپن حمایتیوں کو استعمال کرتے ہیں اور طبقاتی جدوجہد میں دراڑ ڈالتے ہیں۔
پاکستان میں این آئی ایس پی کی جانب سے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز بارہا آزمائی گئی فرسودہ حکمت عملیاں ہیں۔ ان میں لکھا ہے کہ ”ایک طریقہ کار وضع کیا جائے گا‘ جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار جنگجوؤں کے کیسوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ ڈی ریڈیکلائزیشن اور دوبارہ آباد کاری کے پروگراموں کے ذریعے سابقہ جنگجوؤں کو معاشرے کا عام شہری بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ ماہرین اور معتدل علما کی خدمات حاصل کی جائیں گی‘‘۔ ان تجاویز کے لیے بنائی گئی ‘عمل درآمد کمیٹی‘ میں ڈائریکٹر جنرل آئی بی، ڈی جی آئی ایس آئی، صوبائی چیف سیکرٹریز اور تمام آئی جی پیز شامل ہیں۔
تاہم رجعتی ذہنیت اور پرتشدد سماجی نفسیات کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے انتظامی اقدامات کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ یہ ایک سماجی معاشی مسئلہ ہے جو ایک بوسیدہ سماجی معاشی نظام کی پیداوار ہے۔ یہ رجعتی رجحانات زیادہ تر پیٹی بورژوازی اور ثقافتی اور معاشی بحران اور زوال کی زد میں آئے سماج کی پسماندہ پرتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ محرومی اور ثقافتی زوال میں غرق سماج ہے۔ بنیاد پرستانہ تشدد اس بوسیدہ سماج کا عرق ہے۔ یہ ایک ایسا کینسر جو غالب سماجی و معاشی نظام، اس کی ثقافت اور ریاست میں سرایت کر چکا ہے۔ صرف ایک انقلابی تبدیلی کے ذریعے ہی اس سماج کو محرومیوں اور دہشت گردی کی وحشتوں سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

Views All Time
Views All Time
53
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*