خان محمد افضل خان کا مجھ پر” احسان “ : کالج کی یادوں کا ایک باب ۔۔ غضنفر علی شاہی


ghazanfar ali shahi blogs at girdopesh

وقت کبھی نہیں ٹھہرتا۔وقت کے ساتھ ساتھ انسان بھی چلتاہے۔کچھ ساتھ چلنے والے اوجھل ہوجاتے ہیں اور کچھ ساتھ چلنے والے اتنی تیزرفتاری سے چلتے ہیں کہ عقب میں آنے والوں کی آواز بھی نہیں سنتے اور کچھ آواز سن کر پلٹتے ہیں لیکن پہچان نہیں پاتے یاپہچاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔لیکن اس بھاگ دوڑ میں بھی کئی شخصیات یادوں میں نقش ہوجاتی ہیں۔ایسی ایک شخصیت میرے طالب علمی کے زمانے میں گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان کے پرنسپل خان محمد افضل خان مرحوم ہیں۔علم کاخزانہ لیکن سادگی کی انتہا ۔ دل کے اتنے صاف شفاف تھے کہ میں آج تک سمجھ نہیں سکا کہ وہ مجھے ناپسند کرتے تھے یا مجھ سےشفقت کے ساتھ پیش آتے تھے ، کیونکہ بری شرارتوں پر ان کا ردعمل بہت شدید ہوتا تھا اورپھرگپ شپ بھی بہت تھی۔خان محمد افضل خان مرحوم (اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے)قدرے چھوٹے قد کے تھے۔گرمیوں میں پینٹ شرٹ اور شلوار قیمض زیب تن کرتے تھے جبکہ سردیوں میں گرم تھری پیس سوٹ میں ملبوس رہتے۔لیکن سرپر سردی ہو یا گرمی کلاہ ضرور پہنتے تھے ۔جب کہ سرمے سے تیر کمان مارکہ مونچھیں ان کی شخصیت کی انفرادی ادا تھیں ۔کیمسٹری کے پروفیسر تھے اورانہیں ڈاکٹر طاہر چودھری کی کیمسٹری کی ایف ایس سی کی کتا ب باقاعدہ حفظ تھی۔کالج کے دیگر اساتذہ میں پروفیسر طاہرالقادری مرحوم جو گورنمنٹ ایجوکیشن کالج سے بطور پرنسپل ریٹائرہوئے۔پروفیسر غلام مصطفیٰ چودھری مرحوم جوبہاء الدین زکریایونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے ۔معروف شاعر پروفیسر انور مسعود،پروفیسر سیف الرحمن جو ثانوی تعلیمی بورڈ ملتان میں کنٹرولر امتحانات اور ڈگری کالج بوسن روڈ میں شعبہ سیاسیات کے سربراہ رہے۔پروفیسر ممتازاحمد خان جوکئی انگلش کی تدریسی کتب کے مصنف تھے۔پروفیسر عبدالحمید تگہ مرحوم جوسوشیالوجی کی کئی کتب کے مصنف تھے۔اس کےعلاوہ دیگر نامی گرامی اساتذہ میں پروفیسر محسن حیات،پروفیسر شریف اشرف،قاضی محمد امیر ، پروفیسر عبداللہ،پروفیسر نقوی اور پروفیسر جے ڈبلیو انصاری بھی شامل تھے۔کالج سے ایف ایس سی کیا اورتعلیمی اوقات کے پیش نظر تھرڈ ایئر میں آرٹس میں داخلہ لینے کافیصلہ کیا توپرنسپل خان محمد افضل خان مرحوم کو میری تمام شرارتیں یادآگئیں اورانہوں نے مجھے داخلہ دینے سے صاف انکارکردیا۔کئی روز تک مختلف سیاسی و سماجی شخصیات سے سفارش کرائی لیکن مرحوم ٹس سے مس نہ ہوئے ۔بالآخر ضلع ڈیرہ غازی خان کی انتہائی قابل احترام شخصیت جماعت اسلامی کے رہنماءسابق ایم این اے ڈاکٹر نذیر شہید میرے ساتھ پرنسپل کے پاس گئے لیکن انہوں نے مجھے تو اپنے آفس میں داخل ہی نہ ہونے دیا ، جبکہ ڈاکٹر نذیر شہید کوبھی صاف انکارکردیاجس کے بعد میں داخلے سے مکمل ناامید ہوگیا۔چند روز بعد اپنے دوستوں خالد برلاس اور قزل ارسلان مرحوم کے ہمراہ فلم دیکھ کر جار ہا تھاکہ راستے میں ایک دوست ملک مرید حسین (ایس پی ریٹائرڈ)کے والد ملے۔حال چال پوچھنے لگے جس پر میں نے ان سے گلہ کیا کہ پرنسپل ناراض ہیں۔کالج میں داخلہ نہیں دے رہے۔بات چیت جاری تھی کہ قریب ہی افیون کے ٹھیکہ کے باہربنچ پر لیٹے شخص نے پوچھا پرنسپل کون ہے اور کہا کہ صبح میرے ساتھ چلو داخلہ ہوجائے گا۔ میں نے اس شخص کی حالت دیکھی تو سمجھا کہ نشہ کی حالت میں بول رہا ہے لیکن مرید حسین کے والد نے بتایا کہ یہ بڑا زمیندار ہے اور پرنسپل کا دوست ہے۔پرنسپل سے ملاقات کاوقت طے ہوگیا۔مذکورہ شخص وقت پر کالج پہنچ گیا کپڑے صاف ستھرے تھے لیکن ہاتھ میں سہارے کے لیے لاٹھی دیکھ کر میں پریشان ہوگیا۔انہیں کہاکہ لاٹھی تو باہر رکھ دیں جس پر ناراض ہوگئے۔میں نے انہیں کہاکہ آپ اکیلے پرنسپل آفس جائیں لیکن وہ مجھے ساتھ لے کر پرنسپل آفس داخل ہوئے۔خان محمد افضل خان مرحوم نے کھڑے ہو کران کااستقبال کیا۔لیکن میرے سفارشی نے مرحوم کی ڈانٹ ڈپٹ شروع کردی۔مرحوم نے بھی دوستی کی کیالاج رکھی ۔فوراً کہاکہ داخلہ ہوگیا اور کوئی حکم۔اورپرنسپل کالج سے باہر انہیں تانگہ پربٹھا کر واپس گئے۔مرحوم کے اس رویے نے میرے دل میں ان کا احترام مزید بڑھا دیا۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ میں آج تک انہیں بھول نہیں سکا جس شخص نے میرا داخلہ کرایا وہ ایسے حال میں میرے ساتھ پرنسپل کے پاس گئے کہ ان کی حالت دیکھ کر کوئی انہیں کالج میں داخل بھی نہ ہونے دیتا ۔لیکن مرحوم نے تمام سماجی سیاسی شخصیات کی سفارشیں ٹھکرادیں لیکن دوست سے دوستی نبھائی ۔وقت کی تیزرفتاری اور خودپرستی نے جہاں عزیز واقارب سے رشتے کمزور کردیئے ہیں وہاں دوستی کے رشتے ناپید ہوتے جارہے ہیں اوراگرکچھ قائم ہیں تو صرف بارٹر سسٹم کے تحت۔
مرحوم افضل خان انتہائی سادہ دل انسان تھے۔ایک روز کالج ٹائم ختم ہونے کے بعد کینٹین میں بیٹھے چوکیدارکا حلقہ منگوا کر ”سوٹے“لگاتے ہوئے میرے ساتھ گپ شپ میں مشغول تھے ، اچانک فرمایا کہ کالج کے سالانہ فنکشن میں گورنر جنرل موسیٰ آرہے ہیں ۔ان سے کیا مطالبہ کیا جائے۔مجھے شرارت سوجھی میں نے کہاکہ آپ اپنی تعلیمی خدمات کے پیش نظر کالج کی وسیع و عریض اراضی میں سے دومربع اراضی کامطالبہ کریں۔بہت خوش ہوئے اور کہاکہ اگر دو مربع اراضی مل گئی تو پانچ مرلہ مجھے عطیہ کردیں گے۔کالج کے فنکشن میں انہوں نے اپنے سپاسنامہ میں گورنر موسیٰ سے اراضی کامطالبہ کردیا جس پر گورنر موسیٰ ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہوگئے۔اس واقعہ کے بعد چند اساتذہ نے انہیں بھڑکایا۔توانہیں داخلہ کے وقت طے شدہ شرائط کی ایک شق یادآگئی کہ میں تین چارماہ کے اندر مائیگریشن کروالوں گا ۔اور وہ مجھے کالج چھوڑنے کی خوشی میں کھانا دیں گے۔مرحوم کے مطالبہ کے زور پکڑنے پر میں نے گورنمنٹ کالج لاہور مائیگریشن کروالی ۔سرجی نے بھی اپنا وعدہ نبھایا اور مجھے دودوستوں سمیت کھانے پر دعوت دی۔میں پرنسپل خان محمد افضل خان کابہت مشکورہوں کہ اگر وہ مجھ پر مائیگریشن کے لیے دباﺅ نہ ڈالتے تو شاید پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم حاصل نہ کرسکتا۔جبکہ اب مجھے راوین(RAVIAN)ہونے پر فخرہے۔لیکن جس طرح گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان کے چند اساتذہ یادوں میں پیوستہ ہیں اسی طرح چند کلاس فیلوز دوست خالد برلاس،قزل ارسلان (مرحوم)،نصیر ہمایوں غوری،عبدالحمید غوری،میاں سلیم،ملک سلیمان ،ملک خالد،رضیہ خان مرحوم،فلک ناز،خدیجہ،شمشاد ،عفت اورباجی جمیلہ بھی یادداشت کاحصہ ہیں۔کوشش ہو گی کہ گاہے گاہے ان کے حوالے سے بھی یادیں تازہ کرتا رہوں ۔

Views All Time
Views All Time
175
Views Today
Views Today
1
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*