کچھ نئے تحقیقی زاویے۔۔قلم کمان/حامد میر




تحقیق ایک محنت طلب کام ہے۔ تحقیق کا حسن یہ ہوتا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کا تعصب نہیں بلکہ صرف حقائق نظر آئیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی شخصیت اور کردار پر بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن سینئر صحافی اور مصنف منیر احمد منیر نے مولانا مودودی پر اپنی نئی کتاب میں ان کی زندگی کے ایسے پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے جن پر پہلے بہت کم قلم اٹھایا گیا۔ منیر احمد منیر نے اپنی تحقیقی کتاب میں مولانا مودودی کی ان تقاریر کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں منعقد کئے گئے جلسوں میں کیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ جماعت اسلامی عورت کی حکمرانی کے خلاف ہے لیکن منیر احمد منیر نے مولانا مودودی کی وہ تقاریر ڈھونڈ نکالیں جو 1965کے صدارتی انتخاب میں جنرل ایوب خان کی مخالفت اور محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں کی گئیں۔ مولانا مودودی کے بارے میں تحقیق کرتے کرتے منیر احمد منیر سعود آباد کراچی میں محمد یوسف صاحب کے پاس جا پہنچے اور مولانا مودودی کی جوانی کی ایک تصویر حاصل کر لی۔ ان صاحب کے پاس مولانا مودودی کی شاعری بھی محفوظ تھی جسے مولانا کے بھائی ابوالخیر مودودی نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا اور ہدایت کی تھی کہ یہ شائع نہ ہو گی۔ منیر احمد منیر نے بہت اصرار کیا کہ مجھے ایک دو غزلیں دے دیں لیکن یوسف صاحب نے انکار کردیا۔ اس دوران وہ مغرب کی نماز پڑھنے گئے تو منیر صاحب نے دو نظمیں کاغذ پر لکھ کر جیب میں ڈال لیں اور کتاب میں شامل کر دیں۔ منیر صاحب لکھتے ہیں کہ یوسف صاحب نے مولانا مودودی کی یہ شاعری بعد ازاں جماعت اسلامی کی قیادت کے حوالے کردی اور یہ شاعری منصورہ لاہور میں محفوظ ہے۔ اس کتاب میں شامل مولانا کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیے
دوستی کا واں صلہ ملتا ہے غداری کے ساتھ
چاہیے جنس وفا ان کو جفا کاری کے ساتھ
پوچھتے ہو اس مریض زار کی قسمت کا حال
کھیلتا ہے خود مسیحا جس کی بیماری کے ساتھ
عبدالستار عاصم اور فاروق چوہان نے ’’وفیاتِ مشاہیرِ لاہور‘‘ کے نام سے ایک اور تحقیقی کتاب بھجوائی ہے جسے ڈاکٹر محمد منیر احمد سیلچ نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے لاہور میں دفن اہم شخصیات کے بارے میں لکھی گئی پانچ دیگر کتابوں کا بھی جائزہ لیا ہے اور ان کتابوں میں موجود بہت سی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ کچھ غلطیاں اتنی سنگین ہیں کہ ان کا ذکر مناسب نہیں۔ مثلاً ایک ماہر اقبالیات ابھی زندہ ہیں لیکن ایک محقق نے انہیں مرحومین میں شامل کردیا۔ ڈاکٹر سلیچ نے دیگر محققین کی طرف سے ایسی شخصیات کے ذکر پر اعتراض کیا جو لاہور میں دفن نہیں لیکن اپنی کتاب میں انہوں نے بھی بہت سے ایسے مشاہیر کا ذکر کردیا جو لاہور میں دفن نہیں ہیں۔ مثلاً مجید لاہوری کے نام کے ساتھ لاہور لگا ہوا تھا لیکن وہ کراچی کے قبرستان میوہ شاہ میں دفن ہیں۔ انہیں’’وفیاتِ مشاہیرِ لاہور‘‘ میں شامل کر دیا گیا۔ علامہ احسان الہیٰ ظہیر 23مارچ 1987کو لاہور میں ایک بم دھماکے میں زخمی ہوئے تھے۔ انہیں علاج کے لئے سعودی عرب لے جایا گیا جہاں وہ 30مارچ 1987کو وفات پا گئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ وہ لاہور میں دفن نہیں۔ روزنامہ جنگ کے کالم نگار ارشاد احمد حقانی 24جنوری 2010ء کو لاہور میں وفات پا گئے تھے اور قصور میں دفن ہوئے۔ کتا ب میں ان کے متعلق درست تفصیلات موجود ہیں لیکن یہ بھی طے ہے کہ حقانی صاحب لاہور میں دفن نہیں ہوئے۔ اسی طرح ملکہ ترنم نور جہاں، نیر سلطانہ اور نسرین انجم بھٹی کا تعلق لاہور سے تھا لیکن یہ خواتین کراچی میں دفن ہیں۔ ان خواتین کےنام ’’وفیاتِ مشاہیرِ لاہور‘‘ کے بجائے ’’وفیاتِ مشاہیرِ کراچی‘‘ میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال اس کتاب میں بہت اہم معلومات شامل ہیں۔ بعض محققین نے احسان دانش، حمید نظامی، ظہیر کاشمیری، عبدالمجید سالک اور اور ایم ڈی تاثیر جیسی نامور شخصیات کی غلط تاریخ وفات درج کی ہے لیکن ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ نے درست تاریخ وفات تلاش کر کے تحقیق کا حق ادا کردیا۔ انہوں نے 14اگست 1947ء سے 14اگست 2018ء تک وفات پانے والے مشاہیر کے متعلق تفصیلات کو اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ لاہور کے علاوہ کراچی، حیدرآباد، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی اسلام آباد اور دیگر اہم شہروں میں دفن مشاہیر کے متعلق مزید تحقیقی کتب کی ضرورت ہے لیکن تحقیق کے تمام تقاضوں کو سامنے رکھ کر کتب مرتب کی جائیں۔
تاریخ اور سیاست کے کئی طلبہ اور اساتذہ نے پوچھا ہے کہ آپ کی طرف سے متعدد بار ملّا شور بازار کا ذکر کیا گیا ہے ان کا کشمیر کی تحریک آزادی سے کیا تعلق ہے؟ ملّا شور بازار کابل کے رہنے والے تھے۔ ان کا ذکر پہلی دفعہ میں نے برٹش لائبریری لندن کے ساؤتھ ایشیا سیکشن میں موجود ریکارڈ میں دیکھا۔ ان کے متعلق کابل میں برطانوی سفارتخانے نے لندن کو گیارہ اکتوبر 1947ء کو بتایا کہ ملّا شور بازار کا صاحبزادہ افغانوں کو ہندوؤں اور سکھوں کے خلاف جہاد پر تیار کر رہا ہے کیونکہ سرہند شریف میں ایک درگاہ کی بے حرمتی ہوئی۔ انہی ملّا شور بازار سے علامہ اقبالؒ نے بھی ملاقات کی تھی اور پھر انہی کے حکم پر بہت سے قبائل نے کشمیر کی لڑائی میں حصہ بھی لیا تھا۔ اس لڑائی کے متعلق تمام تفصیلات جنرل اکبر خان کی کتاب ’’ریڈرز آف کشمیر‘‘ میں موجود ہیں لیکن جسٹس یوسف صراف کی کتاب ’’کشمیریز فائٹ فار فریڈم‘‘ کی جلد دوم میں زیادہ تفصیلات موجود ہیں۔ اس کتاب میں یوسف صراف اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے مابین ہونے والی خط و کتابت بھی محفوظ ہے۔ کشمیر کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کو محمدالدین فوق کی کتاب ’’تواریخِ اقوام کشمیر‘‘ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ فوق صاحب نے یہ کتاب علامہ اقبالؒ کی فرمائش پر لکھنا شروع کی تھی۔ یہ کتاب پہلی دفعہ 1914ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کے مطابق مغلوں کے زمانے میں کشمیریوں کا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں آنا جانا شروع ہوا اور اسی زمانے میں حیدر علی اور ٹیپو سلطان کے آباؤ اجداد کشمیر سے دکن گئے اور وہاں سے میسور پہنچے جہاں حیدر علی نے فوج میں ملازمت کی۔ فوق صاحب کی تحقیق کے مطابق حیدر علی کےآباؤاجداد ناٹک کشمیری تھے۔ یہ تو محمد الدین فوق کی تحقیق ہے لیکن ٹیپو سلطان کے حسب نسب پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ ایک محنت طلب کام ہے۔ اس کے لئے صرف کتابیں پڑھنا اور لائبریریوں کی خاک چھاننا کافی نہیں بلکہ لمبے لمبے سفر بھی کرنا پڑتے ہیں اور پھر تحقیق کا حسن کھل کر سامنے آتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

7 total views, 7 views today

فیس بک کمینٹ