سجاول کا ساغر صدیقی اور بے حس معاشرہ ۔۔ حسنین رضوی

ہمارے بے حس معاشرے کی ایک زندہ تصویر ٹھٹہ سندھ کے قصبےسجاول سے تعلق رکھنے والا یہ فقیر نظر آنے والا شخص ۔۔ یہ کوئی عام فقیر نہیں بلکہ ایک بہترین مصنف، انگریزی،اردو، سندھی اور فارسی زبان پر عبور رکھنے والا کہانی نویس ادیب مشتاق کاملانی ہے جسے حالات کی ستم ظریفی نے اس نہج تک پہنچادیا ۔۔
” اگر خدا نے تمہارے منہ میں زبان رکھی ہے اور اسے سچ کہنے کے لیے اس کا استعمال نہیں کرتے، تو ایک احسان کرو، اسے کٹوالو ۔۔ اور ہاں!جہاں اتنی محنت ہوگی، وہاں ایک کام اور بھی کروا لینا، اپنی یہ ناک بھی کٹوا دینا، انسانیت کو تم پر کم از کم شرم تو نہ آسکے “
یہ ہیں وہ جملے جو پچھلی صدی کی 80ء کی دہائی میں سجاول ٹھٹھہ سندھ کے ایک افسانہ نویس اور ناول نگار محترم مشتاق احمد کاملانی نے اپنی کہانی میں لکھے تھے…!!
کاملانی صاحب سندھ یونیورسٹی جامشورو کے ذہین ترین طالبعلموں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنے افسانے “گونگی بارش” اور “چپٹا لہو” لکھ کر سندھی افسانے نگاری میں وہ نام پیدا کیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا نام کہانی اور افسانہ نگاروں کی صفحہ اول میں شمار ہونے لگا۔
کاملانی صاحب نے اپنا ناول ” رولو“ جیسے ہی لکھنا شروع کیا تب ان کے گریجویشن کے امتحانات بھی سر پر تھے، اب وہ امتحان بھی دے رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ اپنا ناول بھی تمام کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ان کے ایک عزیز دوست نے بتایا کہ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی اسے کہہ رہا ہو کہ جلدی کرو ناول مکمل کرو۔امتحان مکمل ہوئے تو ناول کا مسودہ بھی پریس میں چھپنے کے لیے پہنچ گیا کہ اچانک ملکی صورتحال پر مارشل لاء کا کالا بادل گہن بن گیا۔
ضیاءالحق نے بھٹو صاحب کو ایک فرمان کے تحت سیاسی شہادت دلائی اور ردعمل میں پورا سندھ سراپا احتجاج بن گیا!! ۔۔تب ایک چھپا ہوا، بہت دبا ہواحلقہ ضیائی مارشل لاء کے خلاف اندر ہی اندر لاوا بن کر ابھرنے لگا اور مشتاق کاملانی نے “گھٹی ہوئی فضا” کے عنوان سے ایک کہانی لکھی اور ایک رسالے کو بھیج دی
کہانی چھپ گئی
ان کا ناول ابھی پریس ہی میں تھا، جب انہیں اپنی کہانی کے لیے حیدرآباد میں ادبی دوستوں نے بلایا اور انہیں ایک ریڈیو انعام میں دیا
۔۔۔۔۔
ابھی کاملانی صاحب حیدرآباد سے لوٹ ہی رہے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔۔دوسرے دن اس پریس پر چھاپہ پڑا، جہاں سے ان کا نیم چھپا ہوا ناول ”رولو“ ضبط کیا گیا اور اس پریس کو بھی بند کروادیا گیا !!
آگے خدا جانے کیا ہوا، کہتے ہیں کہ ڈھائی ماہ بعد مشتاق احمد کاملانی ٹھٹھہ روڈ پر نیم بیہوشی کی حالت میں پڑے پائے گئے
وہ دن اور آج کا دن
مشتاق احمد کاملانی صاحب فرفر انگریزی بولتے ہیں، فارسی، پنجابی اور اردو تو جیسے جیب میں پڑی ہوں ۔۔ اگر آپ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو کسی پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں، مندرجہ ذیل اوقات کار پر ان سے مل سکتے ہیں ۔۔۔۔۔صبح سے شام پانچ بجے تک ٹھٹھہ کی گلیاں، شام چھ بجے سے رات دو بجے تک سجاول کے بس اسٹاپ پر ۔۔۔ آپ کاملانی صاحب کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھیں گے، وہ مانگتے صرف پانچ روپے ہیں، پھر اگر آپ چاہیں تو وہ آپ کو انسان کی تمام تر صفات اور غلاظتیں، پہلیوں میں بتایں گے ۔۔ سگریٹ کی پڑی ہوئی خالی ڈبی پر آپ کا نام خوشخطی میں لکھ کر دیں گے ۔۔ان کے سر کے بالوں نے اگر کبھی کبھار بارش دیکھی تو بھیگ گئے، نہیں تو آج کل دریائے سندھ کی مانند سوکھے ہی رہتے ہیں ۔۔ان کے چہرے پر آپ دو مخالف کیفیتیں ایک ہی وقت یکساں دیکھیں گے، یعنی آنکھوں میں آنسو، اور ہونٹوں پر تمام انسانیت پر طنزیہ مسکراہٹ…!!
ان کی حالت دیکھ کر آپ مت روئیے گا کیونکہ۔۔ہم نے اپنے ضمیر قتل کر دیئے ہیں، یہ ہماری پوری نسل کے ساتھ سانحہ ہے اور یہ سانحات ہوتے رہیں گے جب تک ہم اپنے بے حس معاشرے کو نہیں سدھارتے ، طبقاتی نظام کو ختم نہیں کرتے ، نام نہاد مذہبی منافرت کو دفن نہیں کرتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیقی تعلیم کی طرف پیش رفت نہیں کرتے ، معاشرے میں تحمل و برداشت کو فروغ نہیں دیتے ایسے سانحات ہوتے رہیں گے ، ہم اپنے روشن دماغوں کو فٹ پاتھوں پر پڑے دیکھتے رہیں گے ۔۔