تجزیےحسنین رضویلکھاری

بھارتی طیاروں کی لنگوٹی میں کیا تھا ؟ ۔۔ حسنین رضوی

جب پوری قوم پرسکون نیند کے مزے لے رہی تھی تو اس ملک کی مسلح افواج پوری طرع چوکنا اور تیار تھیں .26 فروری کی انتہائی سرد رات تھی بادل چھائے ہوئے تھے اور دریائے کنہار سے لیکر بالاکوٹ کے بلند پہاڑوں کی چوٹیوں تک کسی بھی وقت بارش اور برف باری شروع ہوسکتی تھی ….ایسے سرد موسم میں پاکستان کا ازلی دشمن بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہوکر اس ملک کو نقصان پہنچانے کیلئے لائن آف کنٹرول سے پاکستان کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا ۔پچاس سے زاٸد انڈین طیارے ٹارگٹ کی تلاش میں پاکستان کی فضائی حدود میں گھسنا چاہ رہے تھے لیکن ہر جگہ پاک فضائیہ چوکنی اور چوکس ملی یہ بارہ بارہ کی تعداد میں گروپ بناکر پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ پرواز کر رہے تھے ………
آزاد کشمیر کی فضا میں ان میں سے ایک گروپ کو ایک گیپ ملا تو یہ حملہ کرنے کی نیت سے پاکستان کی حدود میں گھس آئے۔ یہ بارہ طیارے سب کے سب میراج 2000 تھے ۔ ان طیاروں پر صرف فضا سے زمین پر مار کرنے والےاسرائیلی ساختہ گائیڈڈ میزائیل Spice 2000 PMG نصب تھے ۔ یہ اس قدر مہلک میزائیل ہیں جو اپنے ہدف کو 100 فیصد نشانہ بناتے ہوۓ تین سے پانچ کلو میٹر کے دائرے میں تمام پختہ تعمیرات کو بھی تباہ کردیتے ہیں … یہ ایک طرح کے چھوٹے ایٹم بم ہوتے ہیں جن سے تابکاری نہیں پھیلتی .
غالباً انڈین فضائیہ کو اتنی رات گئے کسی مزاحمت کی کوئی توقع ہی نہ تھی۔ اس لئے ان کے پاس ڈاگ فائٹ کے لئے کوئی سامان بھی نہیں تھا۔ انڈین فضائیہ نے اس مشن پر انتہائی قدیم میراج 2000 طیارے بھیجے تھے۔ میراج طیارے تیزی سے دائیں یا بائیں حرکت نہیں کرسکتے نہ ہی وہ عمودی انداز میں اوپر اٹھ سکتے ہیں۔ اس وجہ سے یہ ڈاگ فائیٹ کے لئے بالکل ہی ناکارہ ہیں ۔ اب تو یہ طیارے پاک فضائیہ صرف اپنے نئے پائلٹس کی ٹریننگ کے لئے استعمال کرتی ہے۔
ابھی انڈین میراج طیارے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوۓ ہی تھے کہ پاک فضائیہ کے JF – 17 طیارے غیر متوقع طور پر ان کے اوپر آن پہنچے جس کی وجہ سے انڈین طیاروں کو انتہائی عجلت میں راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔
اوور لوڈڈ پرانے جہاز تیزی سے حرکت نہیں کر رہے تھے ۔ ان کی رفتار 800 سے 1000 کلومیٹر تک رہ پارہی تھی۔ جبکہ ان کو انڈین کنٹرول روم بتا رہا تھا کہ اگلے چند سیکنڈ میں وہ پاکستانی شاہینوں کی رینج میں آچکے ہوں گے جن کی رفتار 2000 کلومیٹر ظاہر ہو رہی ہے اور پھر واپسی کے امکانات بالکل ختم ہو جائیں گے کیوں کہ انڈین طیاروں پر صرف فضا سے زمین پر مار کرنے والے سپائس 2000 پی ایم جی گائیڈیڈ میزائیل اور ایکسٹرا فیول ٹینک تھے۔ فوری واپسی کے لئے انڈین پائلٹس نے تمام ایکسٹرا سامان گرا کر خود نکلنے میں ہی عافیت سمجھی۔ ان کو اتنا وقت ہی نہ مل سکا کہ کسی ٹارگٹ کو لاک کر کے میزائل فائر کے لئے ایکٹو کرسکتے۔ اس طرح سے یہ میزائل باقی سامان کے ساتھ جابہ بالاکوٹ کے جنگل کی گیلی نرم زمین پر آگرے۔ چونکہ ان کو فائر کی ایکٹیویشن کمانڈ ہی نہیں دی گئی تھی اس لئے ڈی فیوز بھی نہ کرنے پڑے۔ اس طرح سے یہ ایٹم بم نما ایک اور انتہائی مہلک ٹیکنالوجی بیٹھے بٹھاۓ پاکستان کو مل گئی جس کا عام حالات میں کسی بھی قیمت پر ملنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
یہ وہ میزائیل ھیں جو شام کے شہر حلب کو تباہ کرنے کے لئے اسرائیلی فضائیہ نے استعمال کئے. ان میزایلوں کی خوبی یہ ہے کہ عین حدف کے اوپر آ کر ان میزائیلوں کے پیچھے لگا ایک چھوٹا سا پیرا شوٹ کھل جاتا ہے جو ان کو اپنے ٹارگٹ کے اوپر ایک خاص اونچائی پر پھٹنے میں مدد دیتا ہے تاکہ ٹارگٹ کے ارد گرد تین سے پانچ کلومیٹر کے علاقے میں زبردست تباہی پھیل جاۓ ..
اسرائیل کی ریسرچ اور محنت پاکستان کے ہاتھ لگ گئی ہے اور اب تو اسرائیل بھی اس ٹیکنالوجی کے کاپی ہونے پر کوئی کلیم نہیں کرسکتا۔ ایک بات تو طے ہے کہ ہمیں اب اسرائیلی اور بھارتی اتحاد بھی توڑنا ھوگا . اسرایئلی اس سے پہلے بھی ضیاء الحق کے دور میں کہوٹہ پر حملے کی کوشش کرچکے ھیں جو کہ بروقت اطلاع ملنے پر ناکام بنا دیا گیا تھا.

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker