عید کہانی : رمق بھر حیات ۔۔ الیاس دانش


ilyas danish
  • 20
    Shares

وہ کچھ بھی کھا لے ،کوئی ذائقہ محسو س نہیں ہوتا۔کھانے کی خواہش کبھی کی مرچکی ۔ کچھ بھی پہن لے، کوئی رنگ دکھائی نہیں دیتا اور یہ بے رنگی پوری دنیا کے منہ پر مل دی گئی ہے۔اس کی زندگی ایسا چہرہ بن چکی جو اس کا نہیں مگر بنانے والے نے سفاکی کی انتہا کی ہے ۔انیلہ! شوخی اور شرارت کا دوسرا نام، پورا محلہ جس کے باتوں ، قہقہوں اور کھیل کہانیوں سے گونجتا ، اب ایک زندہ لاش کی صورت جیتی ہے، کیا کبھی کوئی لاش بھی جی سکتی ہے ۔ جی ہاں اور انیلہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے جو چلتی ،پھرتی ، سب کے بیچ میں رہتی ہے مگر ہر احساس سے عاری ہوچکی ہے۔کانوں میں گونجتے الفاظ ، جو آخری سماعت ٹھہرے اور کسی انمٹ سیاہی سے ذہن کی سلیٹ پر ثبت کردیئے گئے ۔
ابا مت مارو،
ابا ہمیں مت مارو
ابا آئندہ کبھی پیسے نہیں مانگوں گا
ابا کبھی نئے کپڑوں کی ضد نہیں کروں گا
ابا ، ابا ،۔۔۔۔۔
مگر ابا نےنہ چھوڑااور ننھے بدن سے روح ساتھ چھوڑ گئی ۔
آٹھ سالہ بیٹے کو خوں میں لت پت دیکھ کر انیلہ اپنے زخم بھول گئی ۔ دم توڑتی جاں کو ممتا کی غیرت نے سنبھالا۔ اس نے لہو سے تر، زرد پڑتے بیٹے کو اٹھایااور دروازے کی طرف بھاگی۔ پیچھے سے کمر پر پڑتے ڈنڈے کے وار کم نہ ہوئے مگر اس کا جسم بے زباں ہوچکا تھا۔ انیلہ ہسپتال کیسے پہنچی ۔ پاؤ ں میں چپل نہ سر پر دوپٹہ مگر دل میں ممتا کا طوفان ، دماغ میں خوف، وسوسے اور درد، آنکھوں سے بہتی زندگی اور زباں پر صرف، میرا بچہ ، میرا لعل۔ میری جان ،
دیر ہوچکی تھی یا پھر لکھنے والے نے عجلت میں فیصلہ لکھ دیا تھا۔
انیلہ کا بیٹا نہیں رہا، وہ مرچکا تھا ، مگر انیلہ اس سے پہلے ہی دم توڑ چکی تھی
کاش کہانی بھی ختم ہوجاتی ۔
اس کے شوہر کو پولیس پکڑکر لے گئی ۔ ماں ، باپ ، بہن ، بھائی اور سسرال والے، سب نے دکھ بانٹنے کی کوشش کی۔
ننھے بیٹے کیلئے عید کے کپڑوں کے بدلے کافور و کفن
ایسے دکھ بھی بانٹے جاسکتے ہیں بھلا۔۔۔
ماں کا صبر جو افلاک کو چیر کر رکھ دے۔وقت کی ٹک ٹک کو کسی جہنم کے دہکتے گڑھے میں جھونک دے۔
مگر وہ چپ رہی ، گم صم اوربے حس
بدن کاٹ دو، سانس چھین لو، آگ لگادو، دم گھونٹ دو،
آہ نکلے گی نہ چہر ے پر کوئی شکن ابھرے گی
انیلہ کے ذہن میں کبھی کبھی اپنا بچپن کوندتا
آٹھ سا ل کی بچی جو باپ کے کاندھوں پر چڑھ کر بازار میں گھوم پھر رہی ہے
کھلونے ، گڑیا، ٹافیاں، نت نئی چیزیں ، جو دل کیا ، اٹھا لیا، کچھ ابا نے خود بھی دلوا دیا،
آٹھ سال کی بچی ،
رنگ برنگ فراک، پینٹ شرٹ، جوتے، ہر طرح کی چوڑیاں، قسم قسم کی چنریاں،
کبھی انکار نہ کسی فرمائش پر فہمائش
پھر میرے بیٹے کے ساتھ ایسا کیوں
اس کیلئے زمین کیوں تنگ پڑ گئی
دنیا اتنی بے رحم اور قابل نفرت کیوں ہوگئی
ابا مجھے مت مارو،
ابا ہمیں مت مارو
ابا آئندہ کبھی پیسے نہیں مانگوں گا
ابا کبھی نئے کپڑوں کی ضد نہیں کروں گا
ابا ، ابا ،۔۔۔۔۔
آگ لگے ایسی خدائی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی کبھی آنکھوں سے کوئی قطرہ ٹپکتا اور چہرے پر ہی کہیں گم ہوجاتاکہ ایسے آنسو سنبھالنے کا حوصلہ کسی خدا کو ہے نہ اس کی کوئی مخلوق اس کی تاب لاسکتی ہے
قیامت کی گھڑیاں چلتی رہیں ، سبھی نے مشورہ دیا ، اپنے شوہر کو معاف کردو۔ غصے اور نشے میں اپنا آپ بھول بیٹھا ، اب کیا ہوسکتا ہے۔ بیٹا جان سے گیا، اب اپنا گھر برباد مت کرو۔
جیسے کچھ باقی رہ گیا ہو۔
کب کسی نے کاغذات پر دستخط کرائے اور کب تھانے کچہری میں پیش کرکے معاملہ رفع دفع کرایا گیا۔
زندہ لاشیں ، یادداشت نہیں رکھتیں
اس کا شوہر پھر سے اسی گھر میں اس کے ساتھ آکر رہنے لگا۔
انیلہ کا دم گھٹتا ، وہ چیختی ،چلاتی ،خالی نظروں سے سب کو تکتی رہی ،
مگر کوئی دیکھتا ، نہ سنتا،
اب ایک لاش کے جذبات کون سمجھ سکتا ہے۔
اپنے شوہر کو چھوڑ دےیا پھر اس گھر سے ہی نکل جائے
نفرت اور بے بسی کے ملے جلے جذبات
اپنے بیٹے کے ساتھ گزری لمحہ بھر خوش کن زندگی بھی یہیں پر مہکتی ہیں
کسی قبر پر رکھے گلاب کی طرح
درودیوار، آنگن اور بھیگی یادیں
موت کے مجسمے میں رمق بھرحیات ۔۔۔۔۔۔۔۔

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*