تجزیےکاشف رفیقلکھاری

شکریہ راحیل شریف اور شکریہ قمرباجوہ ۔۔ کاشف رفیق

2013 کے انتخابات کے بعدسے ہی ن لیگ کی حکومت مشکلات کا شکار ہوچکی تھی۔۔۔دھاندلی کے الزامات نے ایسے دبوچا کہ سانس لینا دشوار ہوچکا تھا۔۔۔۔ڈی چوک سے مظاہرین جانے کا نام نہیں
لیتے تھے اور ارکان اسمبلی متبادل راستوں سے ایوان میں پہنچتے تھے۔۔۔افواہ زدہ شہر میں ہر دوسراشخص حکومت کے ختم ہونے کی صدا بلند کیے ہوئے تھا۔۔۔کچھ چینلز کے نمائندوں نے اُس وقت کے آرمی
چیف راحیل شریف کی جانب سے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کا حکم نامہ بھی جاری کروادیا۔۔۔۔لیکن اُس وقت کےڈی جی آئی ایس پی آر نے تردید کی ۔۔میں لاہور سےشہرِ سازشاں تک دھرنے کو کور
کرنےوالے عینی شاہدین میں سے ایک ہوں!دھرنے کے پیچھے سازش کی ایک دلیل ہی کافی ہے اس وقت دھرنے کو سپورٹ کرنیوالے پنجاب کے گورنر چوہدری سرور اب تحریک انصاف کے گورنر ہیں
خیر بات کسی اورطرف نکل گئی ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ 126دن کے دھرنے میں ہر روز حکومت کاسورج غروب کرکے سوتے تھے۔۔لیکن اُس وقت کے آرمی چیف راحیل شریف نے جمہوری حکومت
کو ختم نہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔۔۔اور رو دھو کر ن لیگ نے حکومت کی مدت تو پوری کی لیکن نواز شریف کے بغیر۔۔



راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع لینے اور نہ لینے کی کشمکش میں ایک نعرہ بہت مقبول ہوا اور وہ تھا”شکریہ راحیل شریف“۔۔۔۔اب راحیل شریف اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ بن کر سعودی عرب میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔۔۔ہماری افواج کی کمان آرمی چیف
قمر جاوید باجوہ کو سونپی گئی۔۔۔جنہوں نے شفاف انداز میں مختلف طریقوں اورعمل سے بتادیا کہ وہ جمہوری عمل کے حق میں ہیں اور اداروں کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔۔2018 کے انتخابات
میں تحریک انصاف نےعددی برتری کی بنیاد پر حکومت بنا لی۔۔۔ملکی معیشت کی مخدوش حالت میں خاصی محنت کرکے مالی بحران پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔۔اس کاوش میں وزیراعظم کی
اس قدر محنت نہیں جتنی انتھک کوشش راحیل شریف کی ہے جنہوں نے سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی مالیات کا رخ پاکستان کی جانب کیا جبکہ دوسرا کلیدی کردارموجودہ سپاہ سالار قمر جاوید باجوہ
کا ہے جنہوں نے” پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی سرد مہری کو ختم کرنے میں کردارادا کیا اوریاد رہے یہ عمل 22 اگست 2018 کو وقوع پذیر ہوا جب قمر جاوید باجوہ نے سعودی ولی عہدسے
اہم ملاقات کی اور وہی ملاقات آج کے دورے اورسرمایہ کاری کا سنگ میل ثابت ہوئی ۔یقین نہ آئے تو اُس وقت کی تصاویر اور تفصیلات کا دوبارہ جائزہ لیں“ان حقائق کو یہاں بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا سا ہے کہ جو حکومتی وزراء آستینیں چڑھا کراپنی پاکبازی،دوراندیشی،درست پالیسی،حب الوطنی اور عوام کی دردمندی کا راگ الاپ رہے ہیں اُن کا اس کار خیر میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔۔وہ تو بظاہر دستخط کرنے کے لیے سامنے ہیں۔۔اصل وہ ہیں جنہوں نے دن رات ایک کیا۔جن کی گارنٹیوں پر سرمایہ کاری و امداد مل رہی ہےاس لیے حقِ دادبھی انہی کا ہے!پاکستان میں چین،سعودی عرب ، دبئی،قطر،ترکی سمیت جوبھی سرمایہ کاری کرے گا اس کے پیچھے کاوش راحیل شریف اورقمر جاوید باجوہ کی ہے اس لیے عمران خان کا نہیں بلکہ شکریہ ادا کریں راحیل شریف سے قمر جاوید باجوہ تک کا۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker