عمران کا نظریہ صرف و زارت عظمیٰ کے لیے ؟ چنگی گل / کاشف رفیق


kashif rafiq
  • 8
    Shares

تحریک انصاف کی بنیاد ایک کرپٹ طرز حکومت، ناانصافی، بدمعاشی، بدیانتی،بدعہدی
کےخلاف رکھی گئی اس تحریک کی پیدائش سے جوبن تک یہی نعرےلگائے گئے کہ “کرپٹ نظام نامنظور’’جبکہ ‘‘نیا پاکستان منظور’’مطلب کرپٹ نظام کےحامی اور آلہ کاروں کےخلاف جدوجہدکا عَلم اُٹھاناہے جو کہ پاکستان جیسے ملک میں آسان نہیں تھااس تحریک نے ایک نسل کواس لڑائی میں جھونکا گھروں،گلی محلوں،رشتہ داروں
بچوں اور والدین کو آپس میں اختلافات کا شکار کردیا۔۔ایسا شعور اُبھارا کہ تحریک
انصاف سے اختلاف کرنیوالوں کوطعنے،بہتان اور لعن طعن برداشت کرنا پڑتی تھی۔
2013 کے انتخابات میں بیساکھیوں کے سہارے،ویل چئیر دوڑاتے ہوئے لوگ بلے کے نشان پر مہر لگانے کے لیے خودبخود نکلے۔۔ووٹ ڈالنے کے بعد نتائج میں صرف عمران خان کو وزیراعظم سننا چاہتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا۔۔۔اور دھاندلی کا
ڈھنڈورا پیٹا گیا اس کے بعد دھرنے اور مسائل ہی مسائل تھے۔۔۔لیکن 2013کے انتخابات میں ایک جوش اور ولولہ تھاجس کو مہا خوبصورتی سے کپتان نے اپنےساتھ لگائے رکھا اور 2018 کے انتخابات میں ٹکٹوں کی لالچ میں لوگوں کو استعمال کیے رکھا، اس وقت ملک میں ایسی سیاسی ہوا بنا دی گئی ہے کہ تحریک انصاف کو اگلی حکومتی پارٹی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے لیکن انتخابی مہم میں وہ 2013 کا جوش اور
جذبہ نہیں،اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ جس نسل نے بائیس سال کرپٹ نظام اور اُن کے حامی ،آلہ کاروں کےخلاف جدوجہد کی آج وہی سب کپتان سے دورہیں الیکٹیبلز کے سہاروں پر وزارت عظمیٰ تک پہنچنے والے عمران خان نے بےرحمی سے
اپنے مخلص لوگوں کو نظر انداز کیاجس کی دلیل صرف یہ ہے کہ ‘‘پاور میں آکر نظام بدلا جاسکتا ہے’جس لیے الیکشن لڑنے کے گروؤں کو ساتھ ملاکر ٹکٹ دئیے ۔۔اس ایک دلیل نے عمران خان کی نااہلی کو برے طریقے سے بے نقاب کردیا۔۔۔اگر پاور میں آنے کے لیے کرپٹ نظام کے حامیوں ،آلہ کاروں کی ضرورت تھی تو22سال کرپشن کے خلاف جہاد کا نعرہ کیوں لگایا گیا؟اگر نظام حکومت میں آکر ہی
تبدیل کرنا تھا تو اس کا ادراک 22 سال بعد ہی کیوں ہوا؟کیوں 22 سال لوگوں کو نیا پاکستان بنانے کا جھانسہ دیا؟جن کرپٹ لوگوں کے خلاف تحریکی لوگ تن،من
دھن سے لڑتے رہے وہ کس منہ سے بلے کے لیے ن لیگ،پیپلزپارٹی سے آئےہوئے دودھ کے دُھلے امیدواروں کے لیے ووٹ مانگیں؟عمران خان صاحب تسلیم کریں کہ نئے پاکستان کا نظریہ،جدوجہد،درباروں کی حاضریاں اور سیاسی کہانیوں کا
مقصد صرف وزارتِ عظمیٰ کی کُرسی ہے!حضور جس کرسی کے لیے آپ بیتاب ہیں وہ دراصل کسی اور کے کنٹرول میں ہے منہ،ہاتھ اور زبان آپکی ہوگی مگر احکامات کسی اور کے ہونگے۔۔پھر آپ نظریے کی طرف پلٹیں گے مگر دیر ہوچکی ہوگی!!

Views All Time
Views All Time
60
Views Today
Views Today
2
فیس بک کمینٹ




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*