ادبخادم علی ہاشمیلکھاری

حضرت فریدالدین عطار اور مثنوی منطق الطیر :ایک تعارف ۔۔ خادم علی ہاشمی

پیدائش:1145-1146ء ۔۔ وفات: 1221ءیا 1230ء

معروف فارسی شاعر اور صوفی تذکرہ نگار، فریدالدین عطّار بارہویں صدی عیسوی کے نصف آخر اور تیرہویں صدی عیسوی کی پہلی دو/تین دہائیوں میں بقیدِ حیات تھے۔عام خیال کیا جاتا ہے کہ اُن کا انتقال 1221 ءمیں نیشاپور پر مغلوں کے حملے کے دوران ہوا، تاہم اس امکان کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ وہ ممکن طور پر 1230 ءمیں فوت ہوئے ہوں۔ عطّار کے حالاتِ زندگی کے بارے میں قابلِ اعتماد ذرائع مفقود ہیں۔ بہت سے مفروضہ خود نوشت حالات جو اُن کی تصانیف سے اخذ کردہ بیان کیے گئے ہیں، جعلی ثابت ہوئے ہیں۔تاہم یہ تو طے ہے کہ وہ ایک ماہر عطّار اور دواساز تھے۔ اُن کے خوارزم کے معروف صوفی مجدالدین بغدادی (متوفی:1209 ءیا بعد)یا اس کے ایک پیروکار احمد خواری کے ساتھ نیشاپور میں گہرے تعلقات تھے۔
ابوحامد بن ابوبکرابراہم جو اپنے قلمی نام فریدالدین عطار کے نام سے معروف ہیں، کی پیدائش نیشاپور میں 1145ءمیں ہوئی۔ آپ کے والد ابوبکر ابراہیم ایک خوش حال عطّار تھے۔ وہ فارسی زبان کے ایک قادرالکلام شاعر، تصوف کے ماہر اور تذکرہ نگار تھے۔ اُن کا فارسی شاعری اور تصوف پر گہرا اثر ہے۔
عطّار ستر سال سے زیادہ عمر میں اپریل 1221 ءمیں مغلوں کے نیشاپور میں قتلِ عام کے دوران پر تشدد انداز میں ہلاک ہوئے۔ عطّار کی زندگی کے دوسرے پہلوؤ ں کی طرح اُن کی موت بھی کہانیوں اور خیال آفرینیوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُن کا انتقال 1230 ءمیں ہوا۔اُن کا مقبرہ نیشاپور میں سولہویں صدی عیسوی میں علی شیر نوائی نے تعمیر کرایا۔
تصانیف:
ہمعصر مآخذ صرف ”دیوان“ اور ”منطق الطیر“(”مقاماتِ الطیور“کے عنوان سے بھی معروف ہے)،کو عطار کی تصانیف میں شمار کرتے ہیں، تاہم ”مختار نامہ“ اور ”خسرو نامہ“ اور ان کے دیباچوں پر شک کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں دیتی۔ ان فہرستوں میں ایک تصنیف، ”تذکرة الاولیاء “ موجود نہیں ، جسے غالباً نثری تصنیف ہونے کے باعث شعری تخلیقات میں شامل نہ کیا گیا، اس کتاب کی عطّار کی تصنیف ہونے پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کتاب کے دیباچے میں عطّار نے اپنی تین مزید تصانیف ، بشمول ”شرح القلب“کا ذکر کیا ہے، جو غالباً وہی تصنیف ہے جسے اُس نے ضائع کر دیا تھا۔باقی ماندہ دو تصانیف :”کشف الاسرار“، اور ”معرفت النفس“ کی نوعیت نامعلوم ہے۔
مثنویوں میں معروف ترین ”منطق الطیر“ ہے۔ یہ پرندوں کے سات وادیوں میں ایک تصوفانہ سفر کی کہانی ہے جو اُن کے افسانوی شاہ سیمُرغ کی تلاش میں کیا گیا۔ سیمُرغ ایرانی لوک کہانیوں کا ایک آفاقی پرندہ ہے، جو آخرکار ان پرندوں کی اصل ذات کے طورپر سامنے آتا ہے۔ پرندوں کے سفر کا استعمال عطارؒ سے پہلے بھی روح کے خالق تک پہنچنے کا ذریعہ ابن سینا نے فلسفے میں، اور الغزالی نے صوفی لٹریچر میں استعمال کیا۔ تاہم عطار کی مثنوی میں اس استعارے کا استعمال انتہائی شاعرانہ اور تصوفانہ ہے۔
منطق الطیر: (یا مقاماتِ طیور)عطّار کی اہم ترین مثنوی ہے۔ اس تصنیف میں اُس نے امام غزالی یا اُن کے بھائی محمدغزالی کے پرندوں پر رسالے اور اسی موضوع پر ”اخوان الصفا“ کے رسالے سے بھر پور استفادہ کیا۔ اس میں دو معروف موضوعات کو باہم ملایا گیا ہے، اول ، پرندوں کا اپنے میں بہترین کا بطور لیڈر انتخاب کرنا اور دوم شاہ مُرغ کے مستقر کی جانب سفر کرکے پہنچنا۔ فروزانفر نے موضوعِ ثانی کو ابن سینا کے ”رسالة طیر“ سے مشتق قرار دیا ہے۔
عطّار نے غزالی کی تمثیل کو بنا سنوار کر پُر کشش بناتے ہوئے اسے گہرے مطالب سے آراستہ کیا، تاہم اس کا بنیادی خاکہ بحال رکھا۔ اس دنیا کے پرندے ہُدہُدکی سرکردگی میں اپنے شاہ، ”سیمُرغ“ کی تلاش میں ایک طویل سفر شروع کرتے ہیں، اس سفر کے دوران وہ ”ہفت وادیوں“ میں سے گزرتے ہیں۔یہ وادیاں:وادیء تلاش، وادیء الفت، وادیء تفہیم، وادیء آزادی اورترکِ دنیا ، وادیء یک جہتی، وادیء حیرت و سراسیمگی، اور وادیء محرومی و سراسیمگی ہیں۔
پہلی وادی میں انہیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں اپنی دانست میں عزیز ترین اشیاءسے دستبردار ہونے اور اپنی کیفیت کو تبدیل کرنے میں بے پناہ مشقت کرنا پڑی۔اپنی کاوش میں کامیابی پر امید کی کرن کو سامنے پاتے ہوئے اپنی زندگی پر اپنے عقیدے، اعتقاد، عدم اعتقاد کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے انہوں نے شراب کی طلب کی۔
دوسری وادی میں پرندوں نے بصد مشکل الفت کو ترک کیا،خصوصاً اُس مرحلے پر جب انہیں محسوس ہوا کہ اُن کی دنیاوی معلومات دو متضاد احساسات میں گھر گئی ہیں۔انہیں اس امر کی سمجھ نہیں آتی کہ محراد اور صنم دونوں تفہیم میں کس طرح ایک ساتھ معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔اپنی ارضی صلاحیتوں سے عاری ہونے کے باعث وہ اچھے اور بُرے کی تمیز کھو دیتے ہیں،مگر سی مُرغ کی تلاش میں سفر جاری رکھا۔
چوتھی وادی انہیں ”ترکِ دنیا“ میں لے آتی ہے، جس میں خواہشات سے آزادی اور تلاش کی فکر سے دوری میسر آتی ہے۔ پرندے محسوس کرنے لگتے ہیں کہ وہ ایسی کائنات کا حصہ بن چکے ہیں، جو اُن کی طبیعی طور پر قابلِ شناخت دنیا سے ماوراءہے۔اس نئی دنیا میں پودے مٹی کے باریک ذروں جیسے ہو گئے ہیں اور ہاتھی چیونٹیوں سے بمشکل علیحدہ شناخت کیے جا سکتے ہیں۔
پانچویں وادی میں داخل ہوتے ہی انہیں وحدت و کثرت کی اکائی کا ادراک ہوتا ہے، اور وہ خلائی مخلوق کی شکل دھار لیتے ہیں، جو ابدیت کے تصور سے خالی ہے، نیز انہیں یہ اہم احساس ہوتا ہے کہ خالق وحدت، کثرت اور ابدیت سے ماوراءہے۔
وادیء ششم میں داخل ہوتے ہی وہ محبوب کی خوبصورتی میں کھو جاتے ۔ وہ حیرت و سراسیمگی کا شکار ہو کر محسوس کرتے ہیں کہ وہ تو کچھ بھی نہیں جانتے، انہیں تو اپنی پہچان بھی باقی نہیں رہی۔
صرف تیس پرندے ساتویں وادی تک پہنچ پاتے ہیں،لیکن انہیں ”سیمُرغ“ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ سیمُرغ کی چیمبرلین انہیں کافی دیر تک منتظر رکھتی ہے تآنکہ انہیں یہ احساس ہو جائے کہ وہ تو خود سی (تیس) مُرغ (پرندے) ہیں! یہ ساتویں وادی محرومی، خود فراموشی، بے زبانی، بہرے پن اور موت کی وادی ہے۔تیس کامیاب پرندے سائے بن جاتے ہیں، جن کا تعاقب سماوی شمس کرتا ہے، اور وہ خود ”سیمُرغ“ کی حیثیت سے اُس کے وجود کے بحرِ بیکراں میں گُم ہو جاتے ہیں۔
اپنے انحصار اور ”سیمُرغ“تک اپنی نارسائی کے ادراک سے اُن کی فکر کا انداز ہی بدل دیا۔اس موقع پر عطّار اپنے محبوب یقین کی تائید میں کہ انسان اپنے supreme being کی تلاش کے محبوب مشغلے میں ضرور باطنی کامیابی حاصل کرے گا، وہ اپنے معنیٰ کو ایک نئی جہت عطا کرتے ہوئے تحیّر سے یہ معلوم کرتا ہے کہ ”سیمُرغ“ کوئی خارجی عنصر نہیں بلکہ خود اُن کی اپنی ذات ہے! غزالی کے پرندوں کے برخلاف عطّار کے پرندے نامعلوم جھنڈ نہیں بلکہ اکثر مہم کے مسئلوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔اُن کا لیڈر ہُدہُدہر مہم میں پیش پیش ہے۔عطّار متعدد روایتوں، تماثیل اور واقعات کو بھی اپنی دوسری متصوفانہ تخلیقات کی مانند مثنوی میں گوندھ دیتا ہے۔ بعض اوقات وہ پلاٹ کو جاری رکھنے کے لیے راوی کا کام مثنوی کے مرکزی کردار کو سونپ دیتا ہے، مثال کے طور پر ہُدہُد سے شیخ صنعان کی عشق کی داستان سُن کر پرندے ”سیمُرغ“ کی تلاش میں نکلتے ہیں۔
کتابیات:
پند نامہ (مترجم مفتی کفیل الرحمٰن نشاط عثمانی) لاہور: مکتبہ رحمانیہ (سن اشاعت ندارد)
Bashiri, Iraj, “Farid al-Din `Attar” from the net.
Lewisohn, L., and C. Shackle, eds. Farid al-Din ‘Attar and the Persian Sufi Tradition. London: I.B. Tauris and The In­stitute of Ismaili Studies, 2006.
Reinert, B., “ATTAR, FARID-AL-DIN,” Encyclopaedia Iranica, III/1, pp. 20-25, available online at http://www.iranicaonline.org/articles/attar-farid-al-din-poet (accessed on 30 December 2012).

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker