دریائے جہلم کے کنارے سے وادیٔ نیلم تک۔۔خالد مسعودخان




مجھے گمان ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ میرے بعض قارئین ان سفرنامہ نما کالموں سے یہ مطلب اخذ کرتے ہوں گے کہ میں اپنے سفر سے اور سیاحت نما آوارہ گردی سے ان کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہوں‘ لیکن اللہ جانتا ہے‘ میرا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا۔ میرا مقصد تو صرف اپنے مشاہدے اور تجربے میں اپنے قارئین کو شامل کرنا ہے‘ اور اپنے تئیں ملک میں سیاحت کا فروغ بھی ہے۔ کیسے کیسے خوبصورت علاقے ہیں‘ جو ”رب المشرقین و رب المغربین‘‘ نے ہمیں عطا کیے ہیں‘ لیکن اول تو حکومت کو توفیق نہیں ہوتی کہ وہ ان خوبصورت علاقوں کو سیاحتی معیار پر لائے اور دوسرے ہم لوگ خود بھی قدرتی خوبصورتی کو برباد کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔
ہمارے پاس ایک ہی ہل سٹیشن تھا جسے ہم نے مقدور بھر برباد کرنے کی کوشش کی۔ یہ مری تھا۔ گورے کا آباد کردہ ہل سٹیشن۔ درختوں میں گھرا ہوا۔ سرسبز و شاداب اور بیشتر تعمیر لکڑی سے کی گئی تھی۔ یہاں تعمیرات کا ایک ضابطہ تھا اور قواعد و قوانین تھے۔ کتنی منزلیں تعمیر ہو سکتی ہیں اور کون سے میٹریل سے۔ درخت نہیں کٹ سکتا کہ درخت پہاڑ پر لینڈ سلائیڈنگ روکنے کا سب سے موثر یا سستا اور قدرتی طریقہ ہے۔ درخت کاٹ دیں تو سمجھیں آپ نے اس جگہ پر مٹی کو روکے رکھنے کا قدرتی اور مفت میں ملا ہوا ذریعہ ختم کر دیا۔ آج مری گنجا ہے‘ کنکریٹ کا جنگل ہے۔ لوہے اور سیمنٹ کا پہاڑ ہے۔ ایک ماہر ارضیات کے بقول فالٹ لائن کے قریب واقع سیمنٹ اور بجری کا ڈھیر جسے آپ مری کہتے ہیں‘ ایک ٹائم بم ہے جو ایک جھٹکے کی مار ہے اور سب کچھ ملیامیٹ ہو سکتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم بھیڑ چال کے عادی ہیں۔ ایک طرف کوئی چل پڑے تو ہم اپنا منصوبہ چھوڑ کر وہی کچھ کرنا شروع کر دیتے ہیں جو باقی لوگ کر رہے ہوتے ہیں۔ سو سب نے مری کا رخ کر لیا۔ آج مری میں نہ کوئی پلاننگ ہے اور نہ کوئی قاعدہ اور ضابطہ۔ ہر زور آور نے اپنی مرضی کی ترامیم کرکے مری میں تعمیرات کے قوانین کی وہ دھجیاں بکھیریں کہ رہے نام اللہ کا۔ اوپر سے مری میں حد درجہ کمرشل ذہنیت نے سیاحت اور سیاح کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا۔ مری میں میونسپل کارپوریشن کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کریں تو پینتالیس روپے اور سرکاری سڑک کے کنارے قائم پرائیویٹ پارکنگ یا کسی ذاتی جگہ پر قائم پارکنگ میں گاڑی کھڑی کریں تو تین سو روپے سے پانچ سو روپے بٹورے جا رہے ہیں۔ آج ہوٹل کا نرخ تین ہزار روپے یومیہ فی کمرہ ہے اور رش پڑا تو اسی ہوٹل کا کرایہ اگلے روز چھ ہزار روپے کر دیا۔ نہ کسی کا کوئی کنٹرول ہے اور نہ کوئی چیکنگ۔ سب لیٹروں کے بس پڑے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ اس ساری لوٹ مار میں شریک کار ہے۔
ضرورت ہے کہ دیگر سیاحتی مقامات کو پروموٹ کیا جائے۔ یہ سرکاری اور عوامی مدد کے بغیر ممکن نہیں‘ لیکن سب سے ضروری کام یہ ہے کہ محکمہ سیاحت ہر سیاحتی مقام کا والی وارث بنے۔ سیاحتی مقام کو بھی باقاعدہ طور پر Protected Site کا درجہ دیا جائے۔ جیسے آرکیالوجیکل سائٹ کو ہرکس و ناکس کی دستبرد سے بچانے کیلئے باقاعدہ محفوظ علاقہ قرار دیا جاتا ہے‘ ویسے ہی سیاحتی مقامات کو کسی قاعدے قانون کے اندر لا کر تحفظ دیا جائے۔ ہوٹل کی تعمیر وغیرہ کسی لائسنس اور معیار کے تابع ہو۔ ریسٹورنٹ کی اجازت لی جائے اور ہمہ وقت دفعہ 144 کے تحت گندگی پھیلانے‘ کوڑا پھینکنے اور ماحول کو خراب کرنے پر باقاعدہ جرمانہ تجویز کیا جائے۔ اب یہ عالم ہے کہ جس کا جہاں جی چاہتا ہے ہوٹل بنا لیتا ہے اور جہاں چاہے کھوکھا لگا لیتا ہے۔ گندگی کا یہ عالم ہے کہ دنیا کی خوبصورت ترین جھیل سیف الملوک کا سارا حسن شاپروں‘ پانی والی پلاسٹک کی بوتلوں‘ جوس کے ڈبوں اور چپس کے خالی پیکٹوں نے برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ برسوں پہلے فیصل آباد سے یونیورسٹی کے طلبا نے آکر جھیل صاف کی تھی۔ دوچار مہینوں بعد میں وہاں گیا تو عالم وہی تھا۔ جھیل کے کنارے دوبارہ اسی طرح گندگی سے بھرے ہوئے تھے۔
بے شمار لوگوں کو علم ہی نہیں کہ آزاد کشمیر میں کیسے کیسے خوبصورت مقامات ہیں اور وہاں جیب پر قابل برداشت بوجھ والی رہائش بھی دستیاب ہے۔ اندازاً سات سو روپے فی یوم سے لے کر پندرہ سو روپے یومیہ تک کرایہ ہے۔ یہ کرایہ کمرے کے سائز اور بیڈز کی تعداد کے حساب سے کم‘ زیادہ ہوتا ہے۔ تقریباً ہر سیاحتی مقام پر آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ سیاحت کے اپنے ریسٹ ہاؤسز ہیں۔ عام سیاحتی مقامات کے ہوٹلوں کے سٹاف کے برعکس آزاد کشمیر کے ریسٹ ہائوسز کا عملہ نہایت بااخلاق‘ تمیزدار اور خوش خلق ہے۔ ان ریسٹ ہائوسوں میں اپنی مرضی کا کھانا بنوانے کی سہولت بھی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ جنگلات اور پی ڈبلیو ڈی کے ریسٹ ہائوس بھی ہیں۔ عموماً صاف ستھرے اور خوبصورت جگہ پر۔
میں ایک عرصے سے آزادکشمیر جا رہا ہوں۔ تاریخ اور مہینہ تو ایک طرف‘ مجھے تو سن اور سال بھی یاد نہیں رہتے؛ تاہم بچوں کی عمر کے حساب سے کہ وہ تب کتنے بڑے تھے‘ اندازہ لگا لیتا ہوں۔ بچوں کے ساتھ پہلی بار سال 1992 یا 1993 میں مظفرآباد گیا تھا۔ یادش بخیر‘ تب اسلام آباد سے مظفر آباد کیلئے انیس سواریوں والا Twin Otter جہاز چلا کرتا تھا۔ زمین کے قریب قریب اڑتا ہوا یہ جہاز بیک وقت جہاز بھی تھا اور ویگن بھی۔ جہاز میں کوئی ائیر ہوسٹس یا سٹیورڈ نہیں ہوتا تھا۔ سیلف سروس تھی۔ مسافروں اور پائلٹس کے درمیان کوئی دروازہ نہیں تھا۔ ایک خالی چوکھٹ نما راستہ تھا۔ مسافروں کو پائلٹ بیٹھا نظر آتا تھا۔ تب میری دو بیٹیاں تھیں۔ میری اہلیہ اور وہ دونوں اسلام آباد سے مظفرآباد چلی گئیں۔ مجھے اسلام آباد کام تھا اور میں نے دو دن بعد مظفرآباد جانا تھا۔ ائیرپورٹ سے انہیں ”وڈے باوے‘‘ نے وصول کر لیا۔ وڈا باوا میرے مرحوم بڑے بھائی کا دوست ہے بلکہ دوست کیا؟ بھائی سمجھیں۔ اس کا نام فاروق حسین کاشمیری ہے مگر میں اسے وڈا باوا کہتا ہوں۔ خوش مزاج‘ خلیق اور ہمہ وقت شور مچانے والا۔ گھر آ جائے تو بس اسی کی آواز گونجتی ہے۔ کومل غالباً ایک سال کی ہوگی‘ وڈے باوے نے اسے گود میں اٹھا کر زور سے ”ہاؤ‘‘ کیا۔ ساڑھے چھ فٹ سے نکلتے قد اور بڑی ساری داڑھی والے تایا کی زوردار ہاؤ سن کر کومل کا سانس بند ہو گیا۔ جلدی سے اسے زمین پر رکھ کر سینہ دبایا گیا۔ میری بیگم تو رونے لگ گئی۔ بمشکل کومل نے دوبارہ سانس لیا۔ اس کے بعد کافی عرصہ تک وڈے باوے نے گھر میں کوئی زوردار آواز نہ نکالی‘ تاوقتیکہ میرے بچے بڑے ہو گئے۔
ٹوئن اوٹر جہاز تب مظفرآباد اور راولاکوٹ کے لئے چلا کرتے تھے۔ تقریباً روزانہ فلائٹ ہوتی تھی جو موسم کی خرابی کے باعث ہر دوسرے چوتھے روز کینسل ہو جاتی تھی۔ پہلے ہمارا ارادہ چترال جانے کا تھا لیکن جب لگاتار تین دن فلائٹ کینسل ہوئی تو میں نے بچوں کو مظفرآباد کے جہاز پر بٹھایا اور وڈے باوے کو فون کر دیا۔ وڈے باوے نے خوشی سے اتنا زوردار نعرہ لگایا کہ اس کی آواز میرے خیال میں مظفرآباد سے کوہالہ تک تو سنی گئی ہوگی۔ میں نے کومل کو بتایا کہ جہاز میں داخل ہو کر دروازے کے بائیں طرف ایک کیبنٹ ہوگی۔ اس کے نچلے خانے میں پیسٹریاں ہوں گی جو آپ کو خود ہی نکال کر کھانا ہوں گی۔ دو دن بعد جب میں مظفرآباد پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ جہاز میں کسی کو ان پیسٹریوں کے بارے علم نہیں تھا۔ کومل سارا راستہ نہ صرف خود چپکی بیٹھی رہی بلکہ سارہ کے بار بار اصرار کے باوجود اسے بھی ڈانٹ کر خاموش کرتی رہی۔ مظفرآباد کے ائیرپورٹ پر جہاز اترنے کے بعد اس نے دیگر تین چار مسافروں کے اترنے کا انتظار کیا اور جہاز خالی ہونے کے بعد دراز کھول کر پیسٹریوں کا ڈبہ اٹھایا اور ساتھ لے کر چل پڑی۔ ماں نے ڈانٹا تو چھ سالہ کومل نے کہا کہ پی آئی اے نے یہ پیسٹریاں ہمارے لیے رکھی تھیں۔ اب یہ ہماری مرضی کہ اسے جہاز میں کھائیں یا پھر گھر لے جائیں۔
دو دن بعد میں مظفرآباد آ گیا۔ وڈے باوے نے ٹیکسی کرایہ پر لی اور دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ گڑھی دوپٹہ سے ہوتے ہوئے ہٹیاں بالا چکار اور سدھن گلی تک گئے۔ یہ میرا آزادکشمیر میں مظفرآباد کے علاوہ پہلا تعارف تھا۔ نیلم ویلی تو عرصہ بعد جانا شروع کیا۔ نیلم ویلی کا حسن تو ایسا ہے کہ خالص حسن اور منظرنامے میں یورپ کو مات کرے لیکن سہولیات کے معاملے میں مار کھا جاتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

7 total views, 7 views today

فیس بک کمینٹ