خالد مسعود خانکالملکھاری

ہم خود اپنے ساتھ نہیں ہیں۔۔خالد مسعود خان

مغرب کی منافقت پر کیا لکھیں؟ یہ ایک طویل داستان ہے اور کالم چھوڑ‘ کتاب میں بھی اس طویل کہانی کو بیان کرنا ممکن نہیں۔ فلسطین سے کشمیر تک اور مشرقی تیمور سے جنوبی سوڈان تک۔ مغرب کے الگ الگ معیار ہیں اور الگ الگ فیصلے۔ پیرس میں سترہ لوگ قتل ہو جائیں تو بارہ مغربی ممالک کے سربراہان بذات خود پیدل احتجاجی مارچ کا نہ صرف حصہ بنیں بلکہ اس کی قیادت کریں۔ غزہ میں فلسطینی بچے، عورتیں اور بالکل نہتے بوڑھے پرامن احتجاج کریں تو گولیوں کے حقدار ٹھہریں اور مجرم بھی۔ وادیٔ کشمیر میں روزانہ بے گناہ کشمیری بھارتی تسلط کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے شہید کر دیئے جائیں تو کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگے‘ مشرقی تیمور میں ایک بندہ بھی اپنے خون کا نذرانہ نہ دے اور اقوام متحدہ اسے انڈونیشیا سے علیحدگی کے لیے حق خود ارادیت کا پروانہ تھما دے‘ اور ایک لاکھ سے زائد کشمیری اپنی جان کا نذرانہ دینے کے بعد بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے سراسر محروم رہیں۔ لیکن ایمانداری کی بات ہے مجھے ہر ایسے واقعے پر دکھ تو ہوتا ہے مگر حیرانی نہیں ہوتی۔ ملال تو ہوتا ہے لیکن اچنبھا نہیں ہوتا۔ میں اب شاید ان دوہری پالیسیوں اور ڈبل سٹینڈرڈ کا عادی ہو گیا ہوں۔ لیکن مجھے اپنے لوگوں پر حیرت بھی ہوتی ہے اور ملال بھی۔ ہمارے لبرلز اور انسانی حقوق کے لیے ہمہ وقت مرے جانے والوں کو بھی وہی کچھ اچھا لگتا ہے جو مغرب کو۔ ہمارے این جی اوز کے راتب پر پلنے والوں کو بھی اسی چیز پر آواز اٹھانا بھلا لگتا ہے جس پر مغرب آواز اٹھائے۔ انسانیت کا درد تبھی اٹھتا ہے جب مغرب کے پیٹ میں مروڑ اٹھے۔ باقی تو سب خس و خاشاک کی مانند ہیں۔
میں تب فیس بک کبھی کبھار دیکھ لیتا تھا۔ پیرس میں سترہ لوگ مارے گئے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ ان مقتولین کا مجھے بھی دکھ ہوا۔ انسانی جان کی حرمت کی گواہی تو قرآن مجید دیتا ہے۔ سورہ مائدہ میں اللہ رب العزت ”بے گناہ انسان‘‘ کی بات کرتا ہے۔ مذہب سے بالا تر ہو کر۔ عقیدے کا ذکر کیے بغیر۔ مسلمان کے لیے نہیں، بلکہ بنی نوع انسان کے لیے۔ ابن آدم کے لیے ”کہ جس نے کسی بے گناہ انسان کو قتل کیا اس نے گویا پوری خدائی کو قتل کر دیا‘‘۔ ایسی مثال تو اللہ اور کسی جرم کے لیے نہیں دیتا کہ اس جرم پر اسے پوری انسانیت اور پوری خدائی کا مجرم قرار دے دے‘ لیکن قتل تو قتل ہے۔ خواہ گورے کا ہو یا کالے کا۔ فلسطینی کا ہو یا یہودی کا۔ عیسائی کا ہو یا مسلمان کا۔ کشمیری کا ہو یا امریکی کا۔ نیوزی لینڈ کی مسجد کے اندر ہو یا ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں۔ ہلمند میں ہو یا لندن کی انڈر گراؤنڈ میں۔
میں کہہ رہا تھا کہ تب میں کبھی کبھار فیس بک دیکھ لیا کرتا تھا جب پیرس میں سترہ لوگ قتل ہوئے تھے۔ پوری دنیا نے اس دکھ کو اپنا دکھ جانا۔ فرانس سے اظہار یکجہتی کے طور پر فیس بک پر ہر شخص نے انسانیت پر ایسے ایسے لیکچر دیئے اور فلسفہ بگھارا کہ لگا شاید یہ دنیا میں پہلا قتل عام ہوا ہے اور سارے مغربی میڈیا نے ایسے اسلامی دہشت گردی قرار دیا کہ جیسے یہ کسی فرد واحد کا نہیں پوری مسلم امّہ کا مشترکہ جرم تھا۔ کسی نے یہ نہ کہا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ کسی نے اس واقعے کے ذمے دار کو پاگل یا نفسیاتی مریض قرار نہ دیا۔ کسی نے اسے سادہ قتل عام قرار نہ دیا۔ کسی نے اسے فرد واحد انتہا پسند کا کام قرار نہ دیا۔ ہر چوتھے شخص نے اپنی ”ڈی پی‘‘ یعنی ڈسپلے پکچر کی جگہ پر فرانس کا جھنڈا لگایا ہوا تھا۔ جن لوگوں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی فرانس کے جھنڈے کی شکل تک نہیں دیکھی تھی وہ فیس بک پر اپنی تصویر کی جگہ ”پروفائل پکچر‘‘ کے طور پر فرانس کا جھنڈا لگائے ہوئے تھے۔ ان کی اکثریت وہی لبرل، ترقی پسند اور این جی اوز کے راتب خوروں پر مبنی تھی۔ آج میں نے ایک عرصے کے بعد اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا اور یادداشت پر زور دے کر ان تمام لوگوں کی پروفائل پکچر چیک کی کہ شاید ان میں سے کسی نے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں پچاس نمازیوں کی شہادت پر ان سے اظہار یکجہتی کے لئے نیوزی لینڈ کا نیلے رنگ کا جھنڈا‘ جس کے اوپر والے بائیں کونے میں برطانوی یونین جیک اور دائیں طرف چار ستارے ہیں‘ لگایا ہو۔ مگر کسی کو بھی اس بار مذمت اور محبت کے جذبے کے تحت اپنی پروفائل فوٹو کی جگہ جھنڈا لگانے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔
برسوں گزرے ملتان کے ایک سیاسی رہنما کا انتقال ہو گیا۔ تب وہ اقتدار والی پارٹی میں تھے اور ان کے خاندان کے دیگر لوگ بھی سیاست میں تھے۔ ان کا جنازہ جا رہا تھا اور سینکڑوں لوگ جنازے میں تھے۔ ان کے رشتہ داروں اور لواحقین کی بڑی تعداد جنازے کے ساتھ تھی۔ ملتان کے سیاستدانوں، معززین اور سرکاری افسران کے علاوہ علاقے کے عام لوگ بھی ہمراہ تھے۔ ملتان کی ایک بڑی مشہور شخصیت مرحوم علی بچہ بھی جنازے میں شریک تھے۔ مرحوم علی بچہ اپنی منہ پھٹ طبیعت کے باعث بڑی شہرت رکھتے تھے اور لوگ عام طور پر ان سے تھوڑے سے بچ بچا کر چلا کرتے تھے کہ کیا خبر علی بچہ کب ان کی ”خبر‘‘ لے لیں۔ جنازے کے آگے آگے ملتان کا ایک بڑا انتظامی افسر بھی چل رہا تھا اور بڑا غمگین نظر آ رہا تھا۔ منہ لٹکا ہوا تھا اور افسردگی چہرے سے ٹپک رہی تھی۔ علی بچہ نہ صرف منہ پھٹ تھے بلکہ عوامی حوالے سے بڑے ملنسار اور غمی خوشی میں بڑے اہتمام سے شرکت کرتے تھے۔ علی بچہ نہ صرف اس مرحوم سیاستدان کے علاقے ہی سے تھے بلکہ ان کے ذاتی دوست اور تعلق دار بھی تھے۔ انہیں اچھی طرح علم تھا کہ کون کون شخص مرحوم سیاستدان کا دوست ہے۔ انہوں نے اس سرکاری افسر کو اتنا غمگین اور افسردہ دیکھا تو ان کی رگ پھڑک اٹھی۔ وہ اس سرکاری افسر کے پاس گئے اور سوالیہ انداز میں سرائیکی میں پوچھنے لگے: کیوں سئیں! مرحوم تہاڈا بھنویّا ہئی جو ایڈے دکھی تھئے ودے او (کیوں جناب! مرحوم آپ کا بہنوئی تھا جو آپ اتنے دکھی ہو رہے ہیں)۔
اس بار کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی کہ اس بار شہید ہونے والے کسی کلب، کسی سٹیشن، کسی شراب خانے یا سڑک پر جان بحق ہونے کے بجائے مسجد میں شہید ہوئے تھے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ساہیوال کے سانحے میں جاں بحق ہونے والے چار افراد میں سے ایک داڑھی والا تھا اور قاتلوں کے بقول ”دہشت گرد‘‘ تھا‘ لہٰذا صرف اس ایک داڑھی والے کے طفیل موم بتی مافیا نے ایسی چپ سادھی کہ حیرانی ہوئی کہ بے گناہوں کے خون کا ایک جیسا ہونے کے باوجود جب پسند نا پسند کے لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے تو پھر انسانیت کے بجائے اس کی پہچان مذہبی اور لبرل کے ساتھ ساتھ اس بات پر ان ٹھہرتی ہے کہ مغرب کا رویہ کیا ہے اور ان کی این جی اوز کے آقائے ولی نعمت اس سلسلے میں کیا گائیڈ لائن دے رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا رویہ ویسا ہی تھا جیسا کہ ایک حقیقی لیڈر کا ہونا چاہئے تھا۔ ایسا لیڈر جو مذہب سے بالا تر ہو کر اپنے شہریوں کے بارے میں فکر مند ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سانحہ مغرب کی اجتماعی منافقت اور دوہرے معیار کے خاتمے کے لیے کوئی نقطۂ آغاز فراہم کر سکے گا؟ تو اس بارے اس عاجز کو کوئی خوش فہمی نہیں کہ دنیا کبھی ان کے ساتھ نہیں ہوتی‘ جو خود اپنے ساتھ نہ ہوں اور سچ یہی ہے کہ ہم تو خود اپنے ساتھ نہیں‘ بھلا دوسروں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا رویہ ویسا ہی تھا جیسا کہ ایک حقیقی لیڈر کا ہونا چاہئے تھا ایسا لیڈر جو مذہب سے بالاتر ہو کر اپنے شہریوں کے بارے میں فکرمند ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سانحہ مغرب کی اجتماعی منافقت اور دوہرے معیار کے خاتمے کے لیے کوئی نقطہ آغاز فراہم کر سکے گا؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker