ایک بُھولا بسرا کردار، سردار کوڑے خان جتوئی۔۔خالد مسعود خان


  • 29
    Shares

ایمانداری کی بات ہے کہ مرحوم خان بہادر سردار کوڑے خان جتوئی جنوبی پنجاب اور پھر جنوبی پنجاب کی بھی پسماندہ تحصیل علی پور کے قصبہ جتوئی کے بجائے اگر بالائی پنجاب کے کسی علاقے سے تعلق رکھتا تو اس کا مرتبہ سرسیداحمد خاں سے بڑھ کر ہوتا۔ مگر ہوا یہ کہ مرحوم سردار کوڑے خان کا نام اور کام عام آدمی تک تو نہ پہنچ سکا مگر اس کے وقف سے کھلواڑ کرنے والوں نے مرحوم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد آج تک یعنی پورے ایک سو بائیس سالوں میں اس کی جائیداد سے کروڑوں روپے ڈکار لیے۔ مرحوم کی روح کی بے چینی کا اندازہ ناممکن ہے۔
سردار کوڑے خان جتوئی 1800ء میں مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور کے قصبہ جتوئی میں سردار سعد خان جتوئی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آج سے دو سو اٹھارہ سال قبل جتوئی کا کیا حال ہوگا؟ پسماندگی کا کیا عالم ہوگا؟ تعلیم کی کیا صورتحال ہوگی؟ ایک ایسا سردار جو علاقے کے پورے جتوئی قبیلے کا سربراہ ہو۔ اس کی زمین تین اضلاع میں پھیلی ہو اور زمین بھی ایسی جو پانچ دریاؤں کے سنگم پر واقع ہو اور زرخیزی میں اپنا جواب نہ رکھتی ہو۔ اس کی آمدنی تب بھی کتنی ہوگی۔ اور زمین بھی تھوڑی نہیں۔ دو لاکھ اڑتالیس ہزار دو سو ساٹھ کنال یعنی اکتیس ہزار بتیس ایکڑ۔ اگر اسے مربعوں میں بتایا جائے تو یہ زمین ایک ہزار دو سو اکتالیس مربعے بنتی ہے۔ یہ سردار کوڑے خان جتوئی کی ملکیت تھی اور صرف ملکیت ہی نہیں باقاعدہ زیر قبضہ تھی اور زیر تصرف بھی۔
اب اس زمین کے مالک انیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں انگریز سے ”خان بہادر‘‘ کا لقب اور اعزازی مجسٹریٹ کا عہدہ رکھنے والے ایسے سردار کا اندازہ لگائیں جو اپنی عدالت لگاتا ہو اور اس کی ذاتی جیل ہو۔ برصغیر کے پسماندہ ترین علاقے میں ہر قسم کا اختیار رکھتا ہو۔ اس کی تعلیم واجبی چھوڑ بالکل ہی نہ ہو، یعنی وہ مکمل ان پڑھ بھی ہو (یہاں ان پڑھ سے مراد جاہل ہرگز نہیں) مطلب یہ کہ بے رحم سردار بننے کے سارے لوازمات موجود ہوں اور وہ شخص 1894ء میں ایک ایسا وصیت نامہ لکھے جو پورے برصغیر پاک و ہند میں تعلیم کے فروغ کیلئے پہلا اور اس سلسلے میں برصغیر کے سب سے زیادہ اراضی کے حامل وقف کا درجہ رکھتا ہو تو اس شخص کی تعلیم اور انسانیت سے محبت کا اندازہ لگانا کم از کم آج تو ممکن ہی نہیں۔
سردار کوڑے خان کی انسان دوستی، تعلیم پروری اور خاص طور پر اپنے علاقے کے غریب اور نادار لوگوں کے لیے کی جانے والی اس کی کاوشیں کبھی ہم لوگوں تک پہنچ ہی نہیں پائیں۔ سردار کوڑے خان جتوئی نے 1884ء میں اپنے علاقے میں پرائمری سکول قائم کیا۔ اب آپ یہ کہیں کہ پرائمری سکول ہی کیوں؟ ہائی سکول یا کالج کیوں نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تب انگریز بہادر کی حکومت تھی اور اس کی تعلیم دوستی کی شہرت کے باوجود بہت سے علاقوں کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنا باقاعدہ منصوبے کا حصہ تھا اور وہاں ایک خاص حد سے بڑھ کر تعلیم کی روشنی پھیلانے کی اجازت عام نہیں تھی۔ ویسے بھی جتوئی میں آج سے ایک سو چونتیس سال قبل پرائمری سکول کا قیام بھی کسی یونیورسٹی سے کم نہ تھا اور سکول بھی ایسا جس میں فیس کا کوئی تصور نہ تھا۔ اس سکول کے قیام سے نو برس قبل یعنی 1875ء میں سردار کوڑے خان اپنے قصبہ جتوئی میں ایک ہسپتال بھی بنوا چکے تھے۔
اپنے علاقے سے محبت اور اپنے علاقے کے لوگوں کو آسانیاں فراہم کرنے کے حوالے سے کوڑے خان جتوئی باقاعدہ افسانوی کردار لگتا ہے۔ علی پور تا جتوئی سڑک، جتوئی تا شاہجمال اور چوک قریشی تک کی سڑک بھی سردار کوڑے خان نے اپنے پلے سے تعمیر کروائی۔ ایک بڑا مزیدار واقعہ جو سینہ بہ سینہ روایات سے چلا آ رہا ہے، یہ ہے کہ سردار کوڑے خان مظفر گڑھ سے ملتان کی جانب عازم سفر تھے۔ جب پل چناب پر پہنچے تو دیکھا کہ وہاں موجود سرکاری اہلکار پل پر سے گزرنے والوں سے ٹال ٹیکس وصول کرنے پر مامور ہے۔ وہ ایک اونٹ والے کو روکے کھڑا تھا۔ سردار کوڑے خان نے اپنی سواری روک لی اور معاملہ دریافت کیا۔ پتا چلا کہ اونٹ والے کے پاس ٹال ٹیکس کی ادائیگی کے لیے پھوٹی کوڑی نہیں اور ٹال ٹیکس والا اہلکار بغیرٹیکس اسے گزرنے نہیں دے رہا۔ سردار کوڑے خان نے اپنی جیب سے اس کا ٹال ٹیکس ادا کیا اور اس کے بعد سیدھے لاہور جا پہنچے۔ وہاں ریلوے کی ملکیت اس پل پر سے گزرنے والوں پر عائد ٹال ٹیکس ختم کروانے کے لیے سردار کوڑے خان نے برٹش ریلوے والوں کو تب اس پل کی تعمیر پر آنے والی کی لاگت کا نصف اپنی جیب سے ادا کر دیا اور معاہدہ طے پایا کہ آئندہ اس پل سے گزرنے والوں سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ستر پچھتر سال چلتا رہا۔ پہلے 1896ء میں سردار کوڑے خان رخصت ہوئے اور اس کے اکاون سال بعد گورا واپس عازم ولایت ہوا۔ 1947ء میں پاکستان بن گیا۔ معاہدہ گورے اور سردار کوڑے کے درمیان تھا۔ دونوں چلے گئے‘ پل وہیں موجود رہا اور اس پر دوبارہ ٹال ٹیکس عائد ہو گیا۔ اللہ جانے یہ ٹال ٹیکس کب دوبارہ وصول ہونا شروع ہوا تاہم مجھے اتنا یاد ہے کہ جب تایا عزیز مرحوم تھل جیوٹ ملز مظفر گڑھ میں چیف انجینئر تھے، تب ہم ان کو ملنے دو تین مہینے بعد مظفر گڑھ جایا کرتے تھے اور پل پر ٹال ٹیکس ادا کرتے تھے۔ یہ غالباً 1972-73ء کا زمانہ تھا۔
ریلوے کا یہ پل عام ٹریفک کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔ لوہے کے جنگلے لگا یہ پل ٹرین کے گزرنے کے وقت ٹریفک کے لیے بند ہو جاتا تھا۔ ٹرین گزرنے کے بعد یکطرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا جاتا۔ آدھا گھنٹہ ایک طرف سے ٹریفک چلتی اور آدھا گھنٹہ دوسری طرف سے۔ پھر یوں ہوا کہ اس لوہے والے پل کی چھت پر گارڈر ڈال کر لینٹر ڈالا گیا اور اس پر سڑک بن گئی۔ دس بارہ سال بعد یہ حالت ہو گئی کہ پل باقاعدہ جھولنے لگ گیا۔ اگر کسی آج کل کے ٹھیکیدار کا کارنامہ ہوتا تو کب کا زمین بوس ہو چکا ہوتا، مگر انگریز کے زمانے کا پل تھا اس لیے کام چلتا رہا۔ ایک بار میں اس لرزتے ہوئے پل سے گزرا اور ٹال ٹیکس والے کو ازراہ مذاق کہا کہ آپ اس پل کے دونوں طرف وصولی کا بوتھ بنائیں اور پار اترنے کے بعد ٹال ٹیکس وصول کیا کریں‘ کیونکہ اگر اس دوران پل گر گیا اور کوئی دوسری طرف پہنچنے کے بجائے اوپر چلا گیا تو یہ وصولی ناجائز ٹھہرے گی۔ پھر 2005ء یا 2006ء کے لگ بھگ ایک نیا دو رویہ پل تعمیر ہو گیا۔ حسب معمول اس پربھی وصولی شروع ہو گئی۔ سردار کوڑے خان کی نصف ادائیگی والا پل عام ٹریفک کیلئے بند ہو گیا اور اس پر کی جانے والی ٹال وصولی بھی قریب پچاس ساٹھ سال بعد بند ہو گئی۔
سردار کوڑا خان جتوئی نے اپنی وفات سے قبل 1894ء میں ایک وصیت نامہ لکھا اور اس کے اندر اپنی ایک تہائی زمین جو دو اضلاع میں پھیلی ہوئی تھی ڈسٹرکٹ بورڈ مظفر گڑھ کے نام برائے رفاہ عامہ لگا دی۔ یہ 82753 کنال اراضی تھی۔ اس میں سے 72149 کنال مظفر گڑھ میں اور 10604 کنال راجن پور میں تھی۔ اس وقف شدہ زمین پر پہلے تو جتوئی سردار خود قابض رہے۔ پھر لیز کے نام پر لوٹ مار مچائی گئی اور سب نے جی بھر کر ہاتھ رنگے۔ کروڑوں روپے لیز والی یہ 415لاٹیں جو فی لاٹ 200کنال پر مشتمل تھی، ملی بھگت کے ذریعے عشروں تک سب نے ”انجمن امداد باہمی‘‘ بنا کر ہزاروں اور سینکڑوں روپوں میں لیز کروائیں۔ ایک بے چارہ مظفر مگسی اکیلا برسوں سے لڑ رہا ہے۔
سردار کوڑے خان کو بھلا مظفر گڑھ سے باہر کون جانتا ہے؟ تراسی ہزار کنال کا وقف اور وہ بھی 1894ء میں۔ ایک تگڑے جاگیردار نے اس پورے علاقے میں ایسا کام کیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کسی نے کہا: یہ تو سر سید والا کام تھا۔ میں نے کہا: فرق صرف یہ ہے کہ سر سید نے علی گڑھ یونیورسٹی خود بنالی اور سردار کوڑے خان نے اپنی وسیع و عریض اراضی ہمارے حوالے کر کے حماقت کی۔ بے شمار وظائف اور مساجد اس سے چلتی رہیں۔ پورے مظفر گڑھ میں ایک ”سردار کوڑے خان سکول‘‘ باقی بچا تھا اور سینکڑوں سال تک سردار کوڑے خان کی وقف کردہ اراضی سے مال پانی بنانے والی سرکاری انتظامیہ اب اس سکول کی پیشانی سے سردار کوڑے خان کا نام مٹا کر اسے ”ڈی پی ایس‘‘ یعنی ڈسٹرکٹ پبلک سکول بنانا چاہتی ہے۔
عجیب ملک ہے۔ بغیر ذاتی پیسہ ٹکہ لگائے حکمران ہمارے پیسوں سے بننے والی یونیورسٹیوں کی پیشانی پر اپنا نام لکھواتے رہے ہیں اور اربوں روپے کی اراضی اسی مقصد کے لیے وقف کرنے والے کا نام اب ایک سکول کے حوالے سے بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ اللہ جانے ہمیں شرم کیوں نہیں آتی۔ے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*