جماعت اسلامی۔ایک المنا ک داستان۔۔لیاقت علی ایڈووکیٹ




26۔ اگست 1941کو 75ہم خیال افراد ایک نئی دینی جماعت کے قیام کے لئے لاہور میں اکٹھے ہوئے اور جماعت اسلامی کے نام سے ایک تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ مولانا مودودی کو اس نوتشکیل شدہ پارٹی کا امیر منتخب کیا گیا اور جماعتی امور کو چلانے کے لئے سات رکنی مجلس شوری نے مولانا مودودی کے نظریات اور ویڑن کی روشنی میں جماعت کا منشور و دستور مرتب کیا اور اپنے مقاصد اور اہداف مقرر کئے۔جماعت اسلامی کے قیام کا اولین مقصد ’ اسلام کے نظام فکر اور نظام حیات کا اس کے مختلف فلسفیانہ،عملی اور تاریخی پہلووں میں گہرا اور تفصیلی مطالعہ کرے، دنیا کے دوسرے نظامات فکر وعمل پر بھی وسیع تنقیدی و تحقیقی نظر ڈالے اور اپنے نتائج تحقیق کو ایک زبردست لٹریچر کی شکل میں پیش کرے جو نہ صرف اسلامی اصول پر ذہنی وفکری انقلاب برپا کرنے والا ہو بلکہ نظام اسلامی کے بالفعل قائم ہونے کے لئے بھی زمین تیار و ہموار کرسکے۔ جماعت اسلامی’ ایک ایسا تعلیمی نظریہ اور نظام تعلیم مرتب کرے جو اسلام کے مزاج سے ٹھیک ٹھاک مناسبت رکھتا ہو اور دنیا میں اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لئے بنیاد کا کام دے سکے۔اس کے لئے دنیا کے رائج الوقت تعلیمی نظریات اور نظامات کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ کرنا ہوگا‘
جماعت اسلامی جس کا بنیادی مقصد مسلمانان ہند کو دین و شریعت سے آگاہی اور ایک ایسا تعلیمی نظام ترتیب دینا بتایا گیا تھا جو مسلمانوں کی ذہنی تربیت کر نے میں ممد و معاون ثابت ہو، کس طرح ریاستی اقتدار کی خواہش مند سیاسی جماعت بن گئی اور اس نے عملی سیاسی میدان میں وہی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیئے جو معروف سیاسی جماعتیں حصول اقتدار کے لئے کرتی ہیں احمد عرفان غازی نے جماعت اسلامی کی کایا کلپ کی اسی داستان جسے وہ المنا ک قرار دیتے ہیں کو اپنی کتاب میں بیان کی ہے۔
احمد عرفان غازی کے والد محمد عبدالجبار غازی کا شمار جماعت اسلامی کے بانی ارکان میں ہوتا تھا اور وہ جماعت کے بنیادی مشن۔۔۔ ایک ایسی علمی اور تعلیمی درسگاہ کے قیام کے پر جوش داعی تھے جو مسلمان عوام کی ذہنی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کرے لیکن انھیں جلد ہی یہ ادراک ہوگیا کہ جماعت اسلامی اپنے اولین مشن سے انحراف کر کے ریاستی اقتدار کے حصول کو اپنا مقصد بنا چکی ہے۔احمد عرفان غازی نے جماعت اسلامی کی تاریخ سے جڑی’ اسی حقیقت کے ان گوشوں کو تاریخ کا حصہ بنانے کے لئے قلم اٹھایا ہے جو اس جماعت کے ارباب اختیار کی پردہ پوشی کی حکمت عملی کی نذر ہوئے‘۔ انھوں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ جدید زمانے میں اسلامی نظام حیات کی تعمیرو تنفیذ کی اعلیٰ و ارفع منزل کی طرف سفر کا آغاز کرنے والی جماعت اسلامی اپنے ہی ناقص فیصلوں اور بصیرتی لغزشوں کے باعث کس طرح زوال وناکامی کا شکا ر ہوئی۔
جماعت اسلامی کی اس المناک داستان کے ہیرو مولانا مودودی ہیں کیونکہ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اسلامی معاشرے کی تعمیر کا جو خواب دیکھا تھا اس کو وجود میں لانے کی جدو جہد رفتہ رفتہ حصول اقتدار کی مروجہ سیاسی رسہ کشی کی تابع ہوتی چلی گئی اور گذشتہ اکہتر سال میں یہ حال ہوگیا ہے کہ جب حصول اقتدار کی کشمکش میں دوسری جماعتوں پر سبقت لے جانے کے لئے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو دعوتی اخلاقیات کی یاد ٹانگ کھینچ لیتی ہے اور جب اپنا اصلی دعوتی کردار اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہے تو سیاسی کشمکش کے تقاضے حائل ہوجاتے ہیں اور ان کے نزدیک جماعت اسلامی کا یہی المیہ ہے۔
1941 کے جماعت اسلامی کے تاسیسی اجلاس میں یہ فیصلہ کہ عصر حاضر میں شریعت کا نفاذ قبول کرنے والے اسلامی معاشرے کی تعمیر صرف ایک نئے نظام تعلیم کے ذریعے ممکن ہے اور کہاں صرف 16 سال بعد اس فیصلے میں یہ ترمیم کہ شریعت کا نفاذ قبول کرنے والا معاشرہ تعمیر کرنے کے لئے ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو خود شریعت نافذ کرنا چاہتی ہو۔ اسلامی تعلیمی انقلاب برپا کرنے کی بجائے حصول اقتدار کے ذریعے شریعت کے نفاذ کا یہ فلسفہ اصل میں جماعت نظم و ضبط کی دیکھ بھال پر مامور بیورو کریسی کے ان ارکان کے دماغ کی تخلیق تھا جو ہمہ وقت مولانا مودودی کے دائیں بائیں رہتے تھے اور مولانا مودودی اپنی فطری کمزوریوں کے باعث ان کی موثر مزاحمت نہ کرسکے حتی کہ جماعت کے پالیسی امور پر نہ مجلس شوری کا کنٹرول رہا اور نہ امیر جماعت کا اور مولانا مودودی جماعت کی افسر شاہی کے ہاتھوں موم کی ناک بن کرر ہ گئے تھے۔
جماعت اسلامی کی تاریخ اور نشو و نما سے متعلق جو کتابیں لکھی گئی ہیں وہ زیادہ تر جماعت کے تنخواہ دار ملازمین نے لکھی ہیں جن میں میاں طفیل محمد ، نعیم صدیقی ،سید نقی علی ، ملک غلام علی اور محمد یحییٰ وغیرہ اس زمرے میں آتے ہیں۔ یہ حضرات جماعت کے منتخب رہنما نہیں بلکہ اس کے مرکزی دفتر کے تنخواہ دار ملازمین تھے لہذا ان کے تبصرے اور تجزئیے لازما مرکزی قیادت کے موقف کی ترجماتی کرتے ہیں۔
احمد عرفان غازی نے مولانا مودودی کی شخصیت اور ان کی ذہنی نشو ونما کے جن خواص کی نشاندہی کی ہے وہ بہت دلچسپ ہیں۔ ان کے نزدیک مولانا کی شخصیت کے دو پہلو جو جوانی ہی میں پختہ ہوچکے تھے اورجنھوں نے مولانا کی شخصیت کی تشکیل و تعمیر میں نمایا ں کردار اد کیا ،بہت انوکھے تھے۔ اول یہ کہ زندگی میں کسی کی ماتحتی انھیں گوارا نہیں تھی۔ ان کے مزاج کی دوسری خصوصیت ان کی اداریہ نویسی کی مہارت نے پروان چڑھائی تھی۔ہر اداریہ نویس کا طریق کار یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے ایک ایسے موضوع کا انتخاب کرتا ہے جس پر ان دنوں لوگ رائے زنی کررہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ایک رائے قائم کرتا ہے اور پھر اس کو واحد درست رائے ثابت کرنے کے لئے دلائل کے انبار لگاتا ہے۔ اس قسم کے طرز تحریر میں کسی تحقیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اداریہ نویسی کے اسی رحجان کے باعث مولانا کی تحریریں انشاپر دازی کی اعلی ٰ خصوصیات سے تو ضرور مزین ہیں لیکن ان میں تحقیق کا فقدان نمایا ں ہے۔
احمد عرفان غازی کی یہ کتاب جماعت میں ابتدائی طور پر شامل بنیاد پرستوں جن میں امین احسن اصلاحی ، ڈاکٹر اسرار احمد ، ارشاد احمد حقانی اور کوثر نیازی وغیرہ کے نکتہ نظر کی غماز ہے.

Views All Time
Views All Time
17
Views Today
Views Today
1




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*