زندہ باپ کایتیم بچہ ۔۔ مدیحہ ریاض


poor boy
  • 6
    Shares

اقبال منزل کے صحن کے وسط میں بچھی چارپائی پر رکھا وجود دنیا سے منہ موڑ چکا تھا۔کفن میں لپٹا وجود کوئی 80برس کا نہ تھا بلکہ اسے دنیا میں آئے ابھی 8 برس بھی مکمل نہ ہوئے تھے —اور ان آٹھ برسوں میں اسے دنیا کے مفہوم سمجھ آگئے کہ دنیا ایک زہریلی ناگن کی مانند ہے جو ڈنگ مارے بنا نہیں رہ سکتی۔اور لوگ اس کی میت کو پرسہ دینے اس کی ماں کے آس پاس بیٹھے ہوئے سمجھا رہے تھے۔کہ صبر کرو خدا کی اسی میں رضا ہے ۔۔۔ زندگی اس کی امانت تھی جو اس نے واپس لے لی۔اس کا سوتیلا باپ بار بار اپنے جھوٹے اشک صاف کر رہاتھا اور دنیا والوں کو دکھا رہا تھا کہ اسے اپنے سوتیلے بیٹے سے کس قدر محبت ہے۔اور اس کا سگا باپ جو اس کے وجود کو دنیا میں لانے کا سبب بنا۔۔۔اس کی ماں کو ولیمہ کے اگلے روز ہی زمانے کی ٹھوکروں میں چھوڑ کر ملک سے باہر چلا گیا۔ اور وہیں سے اس کے باپ نے اس کی ماں کو طلاق کا تحفہ دیا۔اور ایک تحفہ تو وہ بھی تھاجو اس کے باپ نے اس کی ماں کو دیا۔حالانکہ بیوی کے روپ میں اس کی ماں اس کے باپ لئے نا قابل قبول تھی۔ وہ ماں کے پیٹ میں دوہفتوں کا تھا جب اس کی ماں واپس میکے کی دہلیز پر آگئی اور یوں زندگی اس کے لئے اور اس کی ماں کے لئے کانٹوں سے بھر گئی۔وہ جب چار سال کا ہوا تو اس کی ماں کے لئے ایک بے اولاد مرد سے شادی کا پیام آیا جو اس ننھیال والوں نے بلا حجت قبول کرلیا ۔اور ساتھ یہ شرط رکھی کہ بچہ بھی ماں کے ساتھ رہے گا۔کیونکہ اس کا وجود اس کے ددھیال اور باپ کی طرح ننھیال والوں کے لئے بھی ناقابل برداشت تھا۔اور یوں اس کی ماں اقبال صاحب کی دوسری بیوی بن گئی۔اس کے سوتیلے باپ نے اس کی ماں کی حیثیت کا تعین تو سہاگ رات کو گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے ہی کر دیا تھا ۔۔۔۔کہ اس کا کام صرف بچے جننا ہے۔ کیونکہ وہ اسی مقصد کے لئے اس گھر میں لائی گئی تھی۔اور اس کی بھی زندگی کا نیا مگر بھیانک دور شروع ہو چکا تھا اسے اس کے بہن بھائیوں سے دور رکھا جاتا ۔کھانے کو روکھا سوکھا اور پہننے کو اترن دی جاتی۔اس کے بہن بھائی کو اچھا یونیفارم اور مکمل کورس کے ساتھ اسکول بھیجا جاتا اور اسے یونیفارم بھی اترن نصیب ہوتا۔یہ اترن کبھی کوئی استانی دیتی تو کبھی کوئی ۔اس کی ماں جنم جلی سب دیکھتے ہوئے بھی چپ رہتی کہ وہ دوبارہ طلاق کے بعد میکے نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ اگر وہ طلاق لیتی تو اس کی مامتا اپنے باقی دونوں بچوں سے محروم ہو جاتی۔وہ صبر کئے ہوئے تھی۔ سوتیلے باپ نے اس کے بہن بھائی کے دلوں میں اس کے لئے نفرت پیدا کردی تھی ۔ اکثر اس بد نصیب کے پیٹ میں درد رہنے لگا درد اتنی شدت سے ہوتا کہ پیٹ پھول جاتا۔۔۔۔ اب تو یہ درد اکثر ہی رہنے لگا تھا اور اس کا سوتیلا باپ اسے اسپتال لے جانے کی بجائے تعویز گنڈے والوں کے پاس لے جاتا جو اسے باہر کی. کسربتاتے۔ایک رات یہ اتنا شدید ہوا کہ اس کی جان لے گیا ۔ اس کی میت دنیا والوں سے سراپا سوال ہے کہ باپ زندگی سے منہ موڑ جائے تو اولاد یتیم کہلاتی ہے مگر جس کا باپ زندگی کے ہوتے ہوئے بھی اپنی اولاد سے منہ موڑ لے تو ایسی اولاد کیا کہلائے گی؟

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*