ماں کی مسکراہٹ ۔۔ مہر سخاوت حسین

رات کے اندھیرے سے صبح کی روشنی پھوٹ رہی تھی ۔ پرندے ایک دوسرے کو رات کے خواب سنا رہے تھے ۔کچھ پرندے آم کے درختوں پر پھڑ پھڑا رہے تھے۔ہوا بہت نرم تھی اور اس میں ہلکی ہلکی خنکی تھی۔ممسجد میں محمد وارث ا ذان دے رہا تھا ۔ ہر گھر میں گھمر گھمر چلتی مدھانیاں روک دی گئیں ۔ چاروں طرف ا ذان کی حکمرانی تھی ۔ دور کہیں سے ایک نامعلوم پرندے کی کُو ہُو کُو ہُوکی آواز آ رہی تھی ۔ کھیتوں کے کناروں پر اگی ہوئی گھاس پر ہزاروں نیلے نیلے پھول اپنی آنکھیں کھولنے لگے ۔ دور افق پر روشنی کی لکیر بڑھتی ہوئی دکھائی دی ۔ دھیرے دھیرے صبح کے سپید سنہرے اور گلابی پردے آسمان سے سرکا دئیے گئے اور سورج فلک کی نیلگوں کھڑکیوں سے جھانکنے لگا ۔
جہاں علی رضا کا گاؤں ہے ، اس کے آس پاس کپاس اور گندم کی فصل ہے ، گندم کی فصل کا رنگ بھی بھورا ہوتا ہے اور گاؤں کی عورتوں کا رنگ بھی بھورا ہے ۔ اس کے گاؤں کے مشرقی جانب ایک سڑک ہے جہاں بڑی تعداد میں کیکر کے درخت دکھائی دیتے ہیں جو ساتھ بہتی ندی کے کنارےکامنظر دلکش بنا دیتے ہیں ۔ بے شمار نرگس کے پھول ندی کے کنارے خوبصورت منظر پیش کر تے ہیں ۔علی الصبح علی رضا شہر سے آئے ہوئے اپنے جگری دوست کو ناشتہ پیش کرتا ہے جو اس نے اپنے ماموں کے گھر سے بنوایا ہے ۔ واصف نے ناشتہ کرنے کے بعد چائے پیتے ہوئے علی رضا کے چہرے کی طرف دیکھا جو ہمیشہ کی طرح بجھا ہوا تھا اس نے اس کی مسلسل اداسی کی وجہ پوچھی تو علی رضا کی آنکھوں سے آنسو امڈ آئے۔ علی رضا رندھے ہوئے لہجے میں گلے کو گھنگارتا ہوئے بولا یار مجھے مرے ہوئے آج دس سال ہو گئے ہیں ۔ ماں کی گود اتنا مضبوط قلعہ ہوتی ہےکہ جہاں حالات کی بد نما گردش ٹھہر سی جاتی ہے ۔ وہ جگہ ایک تخت کی مانند ہے ،جہاں بیٹھ کر ساری سلطنت خوبصورت نظر آتی ہے ۔اسے آج اپنی ماں بے حد یاد آرہی تھی ۔ آنکھوں سے نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہو چکا تھا
واصف میں ہمیشہ بد تمیز رہا ہوں ، کھانا کھاتے ہوئے میں اکثر برتن توڑ دیا کرتا تھا۔صرف اتنی بات پر کہ میری مرضی کا سالن تیار کیوں نہیں ہوا ،لیکن وہ کبھی غصہ نہیں کرتی تھیں کہ میں نےبرتن کیوں توڑے ہیں ، ذرا سی بات پر ماں سے لڑنا جھگڑنا، کھانا کھانے سے انکار کر دینا مجھے مناتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو ہونا نہیں بھولتا مجھے ۔۔ نہیں بھولتا ۔ جب کہ آج مجھ سے کوئی نہیں پوچھتا کہ میں کس حال ہوں کھانا بھی کھایا ہے کہ نہیں کیسا ہوں کس حال میں ہوں کسی کو کوئی پرواہ نہیں ۔ یار باپ کا تو صرف مجھے نام ہی ملا نہ کبھی اس کی صورت دیکھی نہ کبھی پیار ملا ۔میں باپ کی شفقت سے ہمیشہ محروم رہا ۔میں آٹھ سال کا تھا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ان کا چہرہ دھندلا سا بھی یاد نہیں ، نہ بھائی کا ساتھ نہ بہن کا پیار ۔۔ یار کچھ بھی تو نہیں ملا ،جوانی میں وہ میرا بوجھ ماں کے ناتواں کندھوں پر ڈال کر اس دنیا سے چلے گئے ۔پھر ماں نے باپ کا بھی پیار دیا ۔ اور یہ ان کی ہمت تھی کہ آج میں تعلیم یافتہ ہوں۔معاشرہ میں جو نام ہے وہ ماں کے دم ہی سے تو ہے۔واصف میں بھلا وہ وقت کیسے بھولوں ؟ ماں مجھے سخت بھوک لگی ہے تب میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا شور مچاتے ہوئے گھر میں داخل ہوا مرغیوں کو دانہ ڈالتے ہوئے اس نے کئی بار میرا ماتھا چوم ڈالا ۔ ہاتھ منہ دھو لے میرا بیٹا میں روٹی لاتی ہوں ۔ ا نہوں نے ٹوکرے کے نیچے سے روٹی اٹھائی میرے سامنے رکھ دی اکثر گاؤں میں لوگ دوپہر کے وقت دھنیا کی چٹنی کے ساتھ روٹی کھاتے ہیں۔ مجھے بھی دھنیا کے ساتھ روٹی کھانا پڑتی تھی۔جو دھنیا کی چٹنی کے ساتھ روٹی کھانے کا مزا ہے اس کی بات ہی اور ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ میں مردہ ہو چکا ہوں اگر تم میری زندگی کو سمجھ گئے تو کبھی ہنس نہیں سکو گے ۔ میں تنہائی کا عادی ہو چکا ہوں ، اگرچہ میرا جسم مردہ ہے مگر روح تو زندہ ہے ۔تمہیں پتہ ہے نا روح اور جسم ایک ساتھ چلتے ہیں ناچتے گاتے ہیں بولتے ہیں اس میں زندگی ہے ، اور اس میں ہی تخلیق ہے۔جب مرد اور عورت ملتے ہیں تو ایک بچہ ظہور میں آتا ہے اسی طرح روح اور جسم ملتے ہیں تو زندگی وجود میں آتی ہے ۔ میرے ماضی کی تصاویر گم ہو گئی ہیں وہ تجلیاں کیا تھیں۔
میری ماں کی مسکراہٹیں تھیں
میری ماں کی مسکراہٹیں تھیں

فیس بک کمینٹ

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*