قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں۔۔مسعود اشعر




ایک سال اور گزر گیا، اور ایک اور نیا سال آ گیا۔ اور میں علامہ اقبال کو یاد کر رہا ہوں
مری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
میں اپنی تسبیحِ روز و شب کا شمار کرتا ہوں دانہ دانہ
میں اپنے روز و شب کی تسبیح کے دانے شمار کرنے لگتا ہوں تو دل پر ایک چوٹ لگتی ہے کہ جانے والا سال کتنے چمکتے دمکتے چاند ستارے اپنے ساتھ لے گیا۔ میں ادب اور ادبی منظر نامے کا ذکر کر رہا ہوں۔ اور حیران ہو رہا ہوں کہ کیا تاریخ میں کوئی ایسا سال بھی گزرا ہے کہ اس ایک سال میں اتنی نامی گرامی ادبی شخصیات ہم سے جدا ہوگئی ہوں؟ ادب کے استادوں کو تو شاید ایسا سال یاد ہو، مگر مجھے کوئی ایسا سال یاد نہیں۔ اب ہم کس کس کو یاد کریں؟ پاکستان میں شاہد حمید، منو بھائی، محمد عمر میمن، فہمیدہ ریاض، الطاف فاطمہ، مشتاق احمد یو سفی، رسا چغتائی، پروین عاطف، صفدر سلیم سیال، ابصار عبدالعلی۔ اور ہندوستان میں ڈاکٹر مشیرالحسن اور حامدی کاشمیری ہم میں نہیں رہے۔ سال کے آخری دنوں میں جب اختر احسن کی خبر آئی تو میرے منہ سے نکلا یا اللہ! یہ سال جاتے جاتے اور کتنے روشن چراغ بجھا جائے گا؟ اور ابھی ابھی یہ خبر ملی ہے کہ ڈاکٹر سلیم اختر بھی ہم میں نہیں رہے۔ آخر یہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ سلیم اختر سے چالیس پچاس سال پرانی دوستی تھی۔ میں نے ان کی شخصیت پر دو تین خاکے بھی لکھے ہیں۔ ادب کے استاد، نقاد افسانہ نگار اور محبت کرنے والی شخصیت۔ ا±ن کی شخصیت کے اتنے پہلو ہیں کہ ا±ن پر ابھی بہت کچھ لکھا جائے گا اور لکھا جانا چاہیے۔ اوپر لکھی جانے والی کئی شخصیتوں کے بارے میں تو آپ پڑھ چکے ہوں گے لیکن اختر احسن چونکہ ایک زمانے سے امریکہ میں رہ رہے تھے اور گزشتہ کئی سال سے ان کا رابطہ پاکستان کے ساتھ قریب قریب منقطع ہی ہو گیا تھا، اس لیے ہمارے پڑھنے والوں کے لیے یہ نام شاید کچھ اجنبی اجنبی سا ہو۔ اختر احسن بلکہ ڈاکٹر اختر احسن اردو کے ان نئے شاعروں میں تھے جنہوں نے ہماری شاعری کو نئی راہوں اور نئی منزلوں سے آشنا کیا۔ یہ نئے شاعروں اور دانشوروں کا ایک گروہ تھا جس نے اردو شعر میں نئی زبان، نیا انداز بیان اور نیا اسلوب متعارف کرایا۔ اختر احسن ماہر نفسیات تھے۔ وہ امریکہ میں رہے اور امریکہ میں ہی پڑھایا۔ انہوں نے نفسیات کے شعبے میںeidetic psychology school کی بنیاد رکھی۔ یہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے بھی بہت بڑا اعزاز تھا۔ انہوں نے ہندو اساطیر اور دیو مالائی داستانوں کا نفسیاتی تجزیہ کیا۔ ہندو دیوتا گنیش کے حوالے سے انہوں نے پوری ایک کتاب لکھی ہے۔ آج سے دس بارہ سال پہلے تک وہ ہر سال لاہور آتے تھے۔ لاہور آتے تو پاک ٹی ہاﺅس کا چکر ضرور لگاتے۔ یہاں انتظار حسین، مظفر علی سید اور زاہد ڈار کی میز پر ادبی اور فکری رجحانات زیر بحث آتے۔ آپ اختر احسن کا صرف ایک شعر پڑھ لیجئے اور اس سے اندازہ لگا لیجئے کہ یہ گروہ کس قسم کے تجربے کر رہا تھا۔
گوتم کو نروان ملا
دوڑ رہی ہے خالی بس
اب حوادث یا حادثوں کا ذکر آیا ہے تو قومی اور بین الاقوامی ادبی منظر نامے کے حوالے سے ایک اور حادثہ بھی یاد آگیا ہے۔ یہ حادثہ ہے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے اہتمام میں ہر سال کراچی اور اسلام آباد میں منائے جا نے والے جشن ادب کا خاتمہ۔ اس جشن کے لیے اس وقت او یو پی کی سربراہ امینہ سید اور ڈاکٹر آصف فرخی اپنے دن رات ایک کر دیتے تھے۔ اس جشن میں پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے ممتاز ادیب اور دانشور شریک ہوتے تھے۔ اسی جشن نے پاکستان کو دنیا بھر میں ایک روشن خیال اور ادب و ثقافت دوست ملک کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا۔ جب ہندوستان، انگلستان اور دوسرے ملکوں کے ادبی جشن کا ذکر آتا تو ان ملکوں میں پاکستان کا نام بھی شامل ہوتا تھا۔ جانے والے سال نے جہاں اتنی ادبی شخصیتوں کو ہم سے چھینا وہاں اس نے اس بین الاقوامی جشن کا دروازہ بھی بند کر دیا۔ اب ہمارے لیے تھوڑی سی تسلی یہ رہ گئی ہے کہ لاہور میں ہونے والا بین الاقوامی ادبی جشن ابھی زندہ ہے۔ رضی احمد اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس سال یہ جشن فروری میں منایا جا رہا ہے۔ ادھر کراچی آرٹس کونسل کی ادبی کانفرنس بھی زندہ و تابندہ ہے۔ اس کانفرنس کو گیارہ سال ہو گئے ہیں اور احمد شاہ کی کاوشوں سے ہر سال اس کی چمک دمک میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ کراچی آرٹس کونسل کی یہ کانفرنس ہی ادبی کانفرنسوں اور جشنوں کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی ہے۔ فیصل آباد کا ادبی جشن بھی دو تین سال میں جوان ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر شیبا سید اور اصغر ندیم سید نے اس جشن کو بالکل ہی نیا رنگ دیا ہے۔ چلیے، ادب و ثقافت سے تعلق رکھنے والوں کی تسکین کے لیے یہ بھی کافی ہے۔ لیکن جانے والے سال میں اور بھی کئی قسم کے حادثے بھی تو ہوئے ہیں بلکہ حادثے ہو رہے ہیں۔ ان کے بارے میں اقبال کی زبان میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہ
قریب تر ہے نمود جس کی، اسی کا مشتاق ہے زمانہ
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

Views All Time
Views All Time
10
Views Today
Views Today
2




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*