مدینے کی ریاست اور تعزیتی بیان کی تیاری ۔۔۔ مسعود قمر


kalsoom nawaz
  • 36
    Shares

یہاں جیل میں ایک شخص کے گردن لمبی کر دی جاتی ہے مگر جیل کے کچھ فاصلے پر ہی اس شخص کی بیٹی اور اس شخص کی بیوی قید تھی مگر ان خواتین کو اس شخص کی میت کاچہرہ بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوا ۔۔ اور اس شخص کو ایک ٹوٹی چارپائی پر ایک میلی چادر میں لپیٹ کر رات کی تاریکی میں گاؤ ں کے چند لوگوں کو اس شخص کی نماز جنازہ میں شامل کرا کے دفنا دیا ۔۔۔۔
یہاں ایک شخص جو اس ملک کا وزیر دفاع اور ایک صوبہ کا گورنر رہا اس کوایک پہاڑ کے اندر ہلاک کر دیا گیا ۔ اور اس کو تابوت میں بند کر کے اور اس تابوت کو تالا لگا کر اور اسکی چابی گوادر کے سمندر میں پھینک کر اس تابوت کو دفنا دیاگیا ۔۔
یہاں ایک شخص کو اسکی ساری فیملی سمیت ملک بدر کر دیا جاتا ہے ، وہاں جب اس شخص کے والد وفات پا گئے اور جب اس شخص کے والد کی میت کو دفنانے کے لیے پاکستان لایا جا رہا تھا تو بیٹے کو والد کے جنازے کو کندھا دینے کی پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی گئی اور یہ شخص اپنے والد کو قبر میں اتار نہ سکا۔
یہاں ایک شخص کوایک ایسے جرم کی سزا دے کر نا اہل قرار دے دیا جس جرم کو عدالت میں ثابت ہی نہیں کیا گیا اور جب وہ شخص اپنی کینسر کی مرض میں مبتلا بیوی کا علاج کرانے لندن گیا تو اسے ایک ڈرامہ کہا گیا ۔۔۔ وہ شخص جب ہسپتال میں اپنی بیمار بیوی کے سرہانے بیٹھا تھا تو یہاں اسے انٹر پول کے ذریعے پاکستان لانے کی درخواستیں دی جا رہی تھی ۔۔
یہاں ایک شخص جس نے اس ملک کا آئین توڑا جس کی گردن لمبی ہونی چاہیے تھی مگر اس شخص کو کور کمانڈر نے کمر دردکا سبب بتا کر باہر کے ملک روانہ کر دیا۔ اور وہ وہاں درد والی کمر کے ساتھ ڈانس کرتا پھرتا ہے۔۔
یہاں ایک شخص جس نے حملہ آور فوج کے کمانڈر کے آگے ہتھیار پھینک دیے تھے ۔ اور جب سول وزیر اعظم کی کوشش سے رہائی کے بعد واگہ بارڈر آیا تو اسے سلامی دے کر جھنڈے والی کار میں بیٹھا کو جی ایچ کیو لایا جاتا ہے اور ملک کے تقسیم کے وقت کمانڈر انچیف جس پہ غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے تھا اسے قومی پرچم میں لپیٹ کر اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے ۔۔
مگر یہاں ایک شخص جو اپنی مرتی ہوئی بیوی کو دیکھنے جانے کے لیے درخواست دیتا ہے تو عدالت کی طرف سے اس درخواست کو مسترد کر دیا جاتا ہے ، اورنئی حکومت کی پہلی کابینہ کا جب پہلا اجلاس ہوتا ہے تو جیل میں بند باپ بیٹی کے ملک سے باہر جانے پہ پابندی لگائی جاتی ہے ۔
جیل میں بند شخص کی آنکھوں میں وہ منظر آجاتا ہے جب وہ جیل میں بند ہونے کےلیے یہاں آنے سے پہلے اپنی مرتی بیوی کے سر ہانے بیٹھا نہ سننے اور نہ بولنے والی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر کہہ رہا تھا ،
“آنکھیں کھولوکلثوم ۔۔۔۔۔۔ میں بابو ۔۔ آنکھیں کھولو کلثوم ۔۔۔۔۔ میں بابو ۔۔۔۔۔۔
مگر یہ شخص اپنی بیوی کی آواز سننے کی حسرت لیے جیل میں آ کر بیٹھ گیا ۔
یہاں ایک بیٹی مرتی ماں کے آخری وقت میں اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑنے کی حسرت دل میں لیے کوٹھڑی کی سلاخیں ہاتھ میں لیے جیل میں بند ہے۔
یہاں بچوں ، جوانوں ، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں کو گھروں سے، جلسوں سے، بسوں سے، ٹرینوں سےاتار کر اورسڑکوں سے اٹھایا جاتا ہے اور پھر کچھ دیر بعد ان میں سے کچھ خوش نصیبوں کو اپنے پیاروں کی مسخ شدہ لاشیں کسی گندے نالوں کے قریب پھینکی ہوئی مل جاتی ہیں ۔۔
یہاں اب ایک نئے ڈرامےکی ریہرسل ہورہی ہےکہ جو سب اس کے ذمہ دار ہیں وہ کیسے تعزیتی کلمے کہیں، دسترخوان پہ بیٹھے لکھاریوں کے ہاتھوں سے ہڈیاں لے کر مراعات یافتہ قلم پکڑا دئیے ہیں تاکہ مدینہ کی ریاست میں سے مثالوں کو شامل کر کے تعزیتی بیان لکھنے پہ لگا دیا جائے۔
۔

فیس بک کمینٹ
image_print




Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*